لندن//جزیرہ نما جنوبی ایشیائی ملک سنگاپور کی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں بچے پیدا کرنے والے والدین کے لیے خطیر بونس کا اعلان کردیا۔کم آبادی اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں شمار ہونے والے ایک ہی شہر پر مشتمل ملک میں پہلے ہی بچوں کی پیدائش پر کم از کم 10 ہزار سنگاپور ڈالر کا بونس دیا جاتا ہے۔سنگاپور کا شمار ایشیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شرح پیدائش انتہائی کم ہوتی ہے۔سنگاپور میں شرح پیدائش جاپان، چین اور جنوبی کوریا کی طرح انتہائی کم ہوتی ہے اور یہاں پر 2018 میں شرح پیدائش انتہائی کم ہوگئی تھی۔سنگاپور کے قریبی ممالک فلپائن اور ملائیشیا میں حیران کن طور پر شرح پیدائش بہت زیادہ ہے اور کورونا کی وبا کے دوران وہاں بچوں کی پیدائش میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تاہم سنگاپور میں کورونا کی وبا کے باعث نئے شادی شدہ جوڑوں سمیت کئی جوڑے مالی مسائل کی وجہ سے بچے پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت نے بچوں کی پیدائش پر خطیر بونس کا اعلان کردیا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سنگاپور کے نائب وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ جو والدین کورونا کے دنوں میں بچے پیدا کریں گے، انہیں مقررہ بونس سے اضافی بونس بھی دیا جائے گا۔نائب وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ وبا کے دنوں میں بچے پیدا کرنے والے جوڑوں کو فی بچہ کتنا اضافی بونس دیا جائے گا۔تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وبا کے دنوں میں بچے پیدا کرنے والے جوڑوں کو پہلے سے ملنے والے 10 ہزار سنگاپوری ڈالر کا نصف بونس زیادہ دیا جائے گا۔