خراج عقیدت
ایس جی کانسٹیبل روہت کمار چِب جو جگتی نگروٹہ، جموں کے رہنے والے ہیں، 28 اگست 1989کو اشوک کمار کے ہاں پیدا ہوئے اور ہائیر سیکنڈری سکول پاس کرنے کے فوراً بعد وہ 30-06-2011 کومحکمہ پولیس میں بطور کانسٹیبل شامل ہوئے۔بنیادی تربیت حا صل کر نے کے بعد انہیں جموں و کشمیر کے ایک حساس ضلعے کولگام میں تعینات کیا گیا،جس دوران وہ کئی جنگجو مخالف آپریشنزکا حصہ رہے جن میں کئی ایک دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان کی لگن اوسر کردہ کام کے نتیجے میںمحکمہ نے انہیںسال 2017 میں آؤٹ آف ٹرن اگلے عہدے پر ترقی دی۔
12جنوری کی رات تقریباََ8 بجے، کولگام پولیس کو گاؤں سیپورہ پریون میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میںمصدقہ اطلاع ملی۔ فوری طور پر ضلع پولیس کولگام، 34 آر آر اور سی آر پی ایف کی 18ویں بٹالین نے مذکورہ گاؤں کومحا صرے میں لیکر گھر گھر تلاشی شروع کی۔ اس دوران تلاشی پارٹی معشوق احمد لون ولد حبیب اللہ لون کے رہائشی مکان کے قریب پہنچی اور ان سے دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے پوچھ گچھ کی لیکن اہل خانہ نے دہشت گردوں کی موجودگی کی سختی سے تردید کی۔ تاہم تلاشی پارٹی پر گھر کے اندر چھپے دہشت گردوں نے تلاشی کاروائی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کرکے گھر سے فرار ہونے کے لیے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی ،جس کے جواب میں پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ شروع کردی اور جس کے نتیجے میں ایک خونریز تصادم آرائی شروع ہوئی۔
اس دوران سلیکشن گریڈ کانسٹیبل روہت کماربیلٹ نمبر 944،پی آئی ڈی نمبر۔EXK۔118896 ،جو کہ اس تلاشی آپریشن کا حصہ تھے،نے اپنی ذاتی حفاظت کی پرواہ کیے بغیر محاصرے میںپھنسے شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف نکالنے کو اولین اہمیت دی۔عام شہریوں کو 34 آر آر اور سی آر پی ایف کی 18ویں بٹالین کے ہمراہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے دوران روہت کمارپر دہشت گرد وںنے فائرنگ کی ،جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے۔ شدید زخمی حالت کے باوجود اس نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اس نے دہشت گردوں کے نزدیک جاکر ان کو مشغول رکھا اور سخت لڑائی میں ایک کٹر غیر ملکی دہشت گرد کو مار ڈالا۔اس بہادر جوان کے سینے اور سر پر گولیوں کے متعدد زخم آئے جس سے وہ بعد میں دم توڑ گئے اور جام شہادت نوش کر گئے۔
آپریشن کا اختتام 01 سخت گیر دہشت گرد کے خاتمے کے ساتھ ہوا اور اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ بعد میں مارے گئے دہشت گرد کی شناخت عالمی پابندی یافتہ دہشتگر د تنظیم جیش محمد کے بابر بھائی کے طور پر ہوئی تھی۔
محکمہ میں ان کے سینئرز اور ساتھی روہت کمار کو ایک پرجوش اور سرشار سپاہی کے طور پر یاد کرتے ہو ئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی کے خلاف آپریشنوں میں ان کا تعاون قابل ذکر و فخرہے اور یہ ہر ایک کے لیے مشعل راہ رہے گا۔
[email protected]
(یہ خاکہ پولیس یادگاری دن کے سلسلے میں جموںوکشمیر پولیس ہیڈکوارٹر کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری کیاگیا جس کو بنا کسی حذف و اضافہ کے من و عن شائع کیاجارہاہے)