نیویارک//روس نے امریکا کی جانب سے ایران میں مظاہروں کا معاملہ سلامتی کونسل میں لانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ریاستوں کے اندرونی معاملات پر توجہ دینے کے بجائے بین الاقوامی مسائل پر توجہ دے۔اطلاعات کے مطابق نیویارک میں ایران میں حکومت مخالف احتجاج پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اجلاس ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے کہا کہ ایران میں پرامن اور آئینی احتجاج پر مبنی تحریک کو شام کے عوامی احتجاج کی طرح کچلا جا سکتا ہے، اگر ایسا کیا گیا تو ایران دوسرا شام بن جائے گا۔نکی ہیلی کاکہنا تھا کہ ایرانی عوام ملک کے کئی شہروں میں پرامن مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں، ان مظاہرین کو کسی بیرونی طاقت کی مدد حاصل نہیں۔ انہوں نے ایران کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عوام کی آواز دبانا بند کرے اور اپنے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی بحال کرے۔دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ایران کے اندرونی معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے پر امریکہ کوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس اقدام کوایران کے داخلی اْمور میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری مظاہروں سے عالمی امن کو کوئی خطرہ نہیں ہے یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے، سلامتی کونسل ملک کے اندرونی معملات پر توجہ دینے کی بجائے بین الاقوامی مسائل پر توجہ دے، سلامتی کونسل ایران کوغیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ نہ بنے۔واضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کرتا جارہا ہے، جس میں اب تک 22 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد گرفتار ہو چکے ہیں۔