اب 61کروڑ سے زیادہ لاگت آنے کا تخمینہ
پرویز احمد
سرینگر //17سال کا بہت طویل عرصہ گذر چکا ہے ۔ وادی میں سرکاری سطح پر(آنکھوں کا علاقائی انسٹی چیوٹ) کھولنے کا خواب ابھی بھی شرمندہ تعمیر نہیں ہوسکا ہے۔جس ادارے کو بنانے کیلئے 9.18کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ تھا اسے اب قائم کرنے کیلئے 61.18کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی ۔ اس طرح 50کروڑ روپے کی لاگت زیادہ آئے گی۔مرکزی سرکار نے نیشنل پروگرام آف بلائنڈنس کنٹرول کے تحت 20ریاستوںاور مرکزی زیر انتظام علاقو ں میں نیشنل ہیلتھ مشن کی مالی معاونت سے آنکھوں کے خصوصی ہسپتال قائم کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔پروگرام کے مطابق 19 ریاستوں میں یہ ہسپتال قائم بھی ہوئے لیکن کشمیر میں امراض چشم کے خصوصی ہسپتال کی تعمیر کا قیام دفتری طوالت اور سینئر ڈاکٹروں کی سیاست کی نذر ہوگیا ۔ 2009کے اس منصوبہ کو 2019میں حکومت نے منظوری دی اور منصوبہ پر صرف ہونے والے 9کروڑ روپے میں سے مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کیلئے 5کروڑوں کو منظوردی گئی۔
ان 5کروڑوں میں سے جی ایم سی سرینگر کو ایک کروڑ روپے موصول بھی ہوئے لیکن کالج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ منصوبے میں چند ترامیم کی گئیں اور اسے چیف انجینئر آر اینڈ بی کو بھیجا گیا ہے۔ 2019میں سرکار نے سونہ وار میں قائم کشمیر نرسنگ ہوم کو ریجنل انسٹی ٹیوٹ اپتھمولوجی میں تبدیل کرنے کے 9کروڑ 81لاکھ روپے کے منصوبے کو منظوری دی اور 5کروڑ روپے اس کیلئے جلد واگذار کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔جونہی منصوبہ کو منظوری دی گئی تو گورنمنٹ میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم میں تعینات سینئر ڈاکٹروں نے اس میں رکاوٹین ڈالنا شروع کیا ۔ میڈیکل کالج ذرائع نے بتایا ’’سرکاری سطح پر آنکھوں کیلئے ہسپتال کھلولنے کا مطلب ہے کہ یہاں کئی سینئر ڈاکٹروں کی دکانیں بند ہونا تھی۔‘‘انہوںنے کہا ’’ بعض اژر و رسوخ والے حکام نے آنکھوں کے ہسپتال کو کشمیر نرسنگ ہوم میں منتقل کرنے کی مخالفت کی اور اسے صدر ہسپتال کے ارد گرد ہی کہیں قائم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ انکے پرائیویٹ کلنک بدستور کام کریں۔حق اطلاعات کے تحت دائر کی گئی درخواست کے جواب میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر نے لکھا ہے کہ ریجنل آپتھمولوجی سینٹرکیلئے سرکار نے پہلے 9.81کروڑ روپے منظور کئے تھے اور یہ کشمیر نرسنگ ہوم میں قائم کرنا تھا لیکن اب کالج نے صدر ہسپتال سرینگر میں بلڈنگ اور آلات کیلئے 61.18 کروڑ روپے پر مشتمل نیا منصوبہ بھیجا ہے ۔ جواب میں لکھا گیا ہے کہ چیف انجینئرآر اینڈ بی کی منظوری کے بعد سرکار کو پھر سے منصوبہ بھیجا۔جس منصوبے پر 17برس قبل صرف 10کروڑ کے قریب لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اس پر اب 50کروڑ روپے زیادہ لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ صدر ہسپتال میں پہلے ہی جگہ کی بہت کمی ہے اور اب اس انسٹی چیوٹ کو بھی یہاں قائم کرکے جگہ ،زید کم پڑجائیگی جو مستقبل کیلئے کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں ہے کیونکہ آبادی بڑی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور صدر ہسپتال کے احاطے میں ہی ایک اور ہسپتال کے قیام سے یہاں آنے والے لوگوں کو آرام دہ صورتحال مہیا نہیں کی جاسکتی۔