عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے کل سائینس اور ٹیکنالوجی محکمے کی ایک جائیزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں کلین اینرجی کے فروغ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور جموں و کشمیر میں سرکاری عمارتوں کو سولرائیزیشن میں حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ چیف سیکرٹری نے سرکاری اداروں میں لاگو کئے جانے والے سولرائزیشن پروگرام کا ایک جامع جائیزہ لیا اور سمارٹ میٹروں کی ہموار اور بروقت تنصیب کو یقینی بنانے کیلئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ ، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈی ڈی ) اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کی پیداوار کے مکمل فوائد کو حاصل کرنے اور توانائی کی بچت کو بہتر بنانے کیلئے موثر میٹرنگ ضروری ہے ۔
ڈولو نے محکمہ کو مزید ہدایت دی کہ وہ بجلی کی خریداری کے معاہدوں ( پی پی اے ) کو حتمی شکل دینے میں حکومتی محکموں کو ضروری مدد فراہم کرے تا کہ شمسی تنصیبات کے ذریعے پیدا ہونے والی توانائی کے موثر استعمال اور انتظام کو ممکن بنایا جا سکے ۔ جامع اور پائیدار توانائی کے حل کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کیلئے کھانا پکانے کے متبادل توانائی کے اختیارات تلاش کرنے پر زور دیا جو روائتی ایندھن کے ذرائع پر انحصار کرتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں قابلِ تجدید توانائی ( آر ای ) پالیسی اور کمپریسڈ بایو گیس ( سی بی جی ) اقدامات کو فروغ دینے کیلئے کوششوں کو تیز کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔ چیف سیکرٹری نے ماڈل سولر ولیج پروگرام پر پیش رفت کا بھی جائیزہ لیا جس کے تحت ہر ضلع میں ایک گاؤں کو قابلِ تجدید توانائی کے ماڈل کے طور پر ترقی کیلئے شناخت کیا گیا ہے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ یو ٹی میں 35.25 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے ساتھ سات چھوٹے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں ۔