گول//کئی ماہ سے قائم سنگلدان کے بیچ غیرقانونی ہاٹ مکسنگ پلانٹ کو ایک ہفتہ قبل تحصیلدار گول نے مقفل کیا لیکن اس کو گزشتہ روز دوبارہ کھول دیاگیا جس کا تحصیلدار گول کو بھی کوئی علم نہیں ہے۔ تحصیلدار گول اشرف پرویز نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ جس کسی نے بھی اس کا تالا کھولا ہو گا وہ غیرقانونی ہے اور اگر اعلیٰ حکام سے بھی کوئی احکام آیا ہوتا تو پہلے وہ ہمارے پاس آتا ، لیکن یہ کیسے کھلا کس نے کھولا یہ سرا سر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ سنگلدان میں قائم غیر قانونی طور پر ہاٹ مکسنگ پلانٹ جسے کئی مرتبہ انتظامیہ نے تالا بند کر دیا تھا لیکن اس کو بار بار لگا ہوا تالا توڑا جا رہا ہے اور آج دوسری مرتبہ اس کا تالا توڑا گیا اور اس پر کام جاری ہے اور اس سے نکلنے والا زہریلی دھواں جو پورے سنگلدان علاقے میں پھیلتا جا رہا ہے لیکن اس کو روکنے کی طاقت کوئی نہیں کر رہا ہے ۔ ۔ جن محکموں نے اس ہاٹ مکسنگ پلانٹ کو کھولنے کے لئے این او سی دی ہیں وہ بھی غیر قانونی ہیں اور تمام ضابطے کے تحت نہیں ہیں بلکہ یہ این او سی صرف اور صرف پیسوں کے بلبوتے پر دی گئی ہیں ۔ ابھی تک محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کی این او سی ہی سامنے آئی گی جبکہ باقی تمام محکمہ جات کی جانب سے دی جانے والی این او سی ابھی تک سامنے نہیں آئی اگر چہ انتظامیہ اس تمام معاملے سے واقف بھی ہے لیکن اس کے با وجود قانون کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہے ۔محکمہ جات کی جانب سے غیر قانونی این او سی سے بھی انتظامیہ واقف ہے اور ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے اگر چہ ایس ڈی ایم گول سے اس غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے ہاٹ مکسنگ پلانٹ کے بارے میں جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کچھ کہنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس کی فائل تحصیلدار چلا رہا ہے ۔ اور گزشتہ ہفتہ تحصیلدار نے اس پلانٹ کے مالک کو دس دن کا نوٹس دیا تھا اور وقت گزرنے پر تحصیلدار نے دوسرے عملہ کے ساتھ موقعہ پر جا کر خود اس ہاٹ مکسنگ پلانٹ کو مقفل کیا تھا لیکن گزشتہ روز اس ہاٹ مکسنگ پلانٹ کو کھولا گیا اس کی کوئی ذمہ واری نہیں لے رہا ہے ۔ تحصیلدار گول نے بتایا کہ یہ کسی نے غیر قانونی طور پر کھولا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اس ہاٹ مکسنگ پلانٹ کو ضابطے کے تحت بندکیا تھا اور جس کسی نے بھی اس ضابطے کی خلاف ورزی کی ہوگی اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی‘‘۔