ظہر النساء
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کی جانب سے آر ٹی آئی کے تحت فراہم کردہ اعداد و شمار نے سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے طریقہ کار اور میڈیا پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق وادی کشمیر کے سب سے زیادہ اشاعت والے انگریزی روزنامے گریٹر کشمیرکو گزشتہ ایک برس کے دوران سرکاری اشتہارات میں نہایت معمولی حصہ ملا، جبکہ متعدد کم معروف اور محدود رسائی رکھنے والے اخبارات و جرائد کو ہزاروں بلکہ لاکھوں کالم سینٹی میٹر اشتہاری جگہ فراہم کی گئی۔حق اطلاعات کارکن ایم ایم شجاع کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں منگل کو محکمہ اطلاعات نے آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلات فراہم کیں، جن میں یکم مارچ 2025سے 31مارچ 2026تک جموں و کشمیر کے 148اخبارات اور رسائل کو دئے گئے اشتہارات کا ریکارڈ شامل ہے۔اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے اشتہارات اور تشہیر کیلئے مختص 30کروڑ روپے کے بجٹ میں سے 26کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے۔ تاہم اشتہارات کی تقسیم میں نمایاں تفاوت سامنے آئی ہے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق گریٹر کشمیر، جسے خود حکومت وادی کا سب سے زیادہ اشاعت والا انگریزی روزنامہ تسلیم کرتی ہے، کو پورے سال کے دوران صرف1070کالم سینٹی میٹراشتہارات فراہم کئے گئے۔
ان میں 1000کالم سینٹی میٹر بجٹ شدہ اور صرف 70کالم سینٹی میٹر غیر بجٹ شدہ اشتہارات شامل ہیں۔اس کے برعکس ایک اخبار کو2,11,590کالم سینٹی میٹر اشتہارات فراہم کئے گئے ، جن میں 87,914کالم سینٹی میٹر غیر بجٹ شدہ اشتہارات بھی شامل تھے۔ اسی طرح ایک اور اخبار کو 1,14,323کالم سینٹی میٹر اشتہارات دئے گئے۔ دیگر بڑے مستفید ہونے والے اخبارات کو 92,634، 90,356، 83,793، 62,567اور 61,410کالم سینٹی میٹر اشتہارات فراہم کئے گئے۔اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد ایسے اخبارات اور ہفت روزہ جرائد، جن کی عوامی شناخت محدود ہے، کو بھی 50ہزار یا اس کے آس پاس کالم سینٹی میٹر اشتہاری جگہ دی گئی۔اس صورتحال نے اشتہارات کی تقسیم کےکئے اختیار کئے جانے والے معیار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ میڈیا حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اشتہارات کی تقسیم واقعی اشاعت، رسائی اور مواد کی نوعیت کی بنیاد پر کی جا رہی ہے تو پھر سب سے زیادہ قارئین رکھنے والے اخبارات کو نظر انداز کرنے کی کیا وجہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ رواں سال فروری میں جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ سرکاری اشتہارات منظور شدہ اخبارات کو ان کی اشاعت، رسائی اور مواد کی نوعیت کے مطابق دئے جاتے ہیں۔تاہم تازہ اعداد و شمار اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان نظر آتا ہے اور بعض منتخب اداروں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ وسیع قارئین رکھنے والے اخبارات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔میڈیا ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں سرکاری اشتہارات اخبارات کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ایسے میں کسی ادارے کو مسلسل اشتہارات سے محروم رکھنا اس کی مالی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم آزاد صحافت اور میڈیا کے تنوع کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں تمام سرکاری محکمے اپنے اشتہارات محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے ذریعے جاری کرنے کے پابند ہیں، جس کے باعث اشتہارات کی تقسیم کا پورا اختیار اسی محکمہ کے پاس ہے۔ تازہ انکشافات کے بعد اس امر کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت اشتہارات کی تقسیم کےلئے اختیار کئےگئے پیمانوں اور طریقہ کار کو مکمل طور پر عوام کے سامنے لائے تاکہ شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔
فہرست سے کشمیر کا کثیر الاشاعت اردو روزنامہ غائب
کشمیر عظمیٰ کو وادی کے اخبارات کی فہرست سے ہی حذف کیاگیا
ظہر النساء
سرینگر//جموں و کشمیر کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) کی جانب سے آر ٹی آئی کے تحت جاری کی گئی اخبارات کی فہرست میں کشمیر کےکثیر الاشاعت اردو روزنامہ کشمیر عظمیٰ کا نام شامل نہ ہونے پر حیرت اور سوالات جنم لے رہے ہیں۔آر ٹی آئی کارکن ایم ایم شجاع کو فراہم کئےگئے جواب میںمحکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے جموں و کشمیر کی 148مطبوعات کی فہرست جاری کی ہے۔
اس فہرست میں متعدد ایسے اخبارات اور جرائد شامل ہیں جو عوامی سطح پر کم معروف ہیں، تاہم وادی کے معروف اور وسیع قارئین رکھنے والے اردو روزنامہ کشمیر عظمیٰ کا نام موجود نہیں ہے۔کشمیر عظمیٰ کا آغاز 2002میں ایک ہفت روزہ اخبار کے طور پر ہوا تھا۔ مختصر عرصے میں اس نے اردو صحافت میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی اور بعد ازاں2006میں روزنامہ کی شکل اختیار کرکے کشمیر کے نمایاں ترین اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اردو اخبارات میں شمار ہونے لگا۔محکمہ اطلاعات نے اپنے آر ٹی آئی جواب میں مختلف اخبارات کو دی گئی اشتہاری جگہ کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں، تاہم کشمیر عظمیٰ کا ذکر نہ ہونا میڈیا حلقوں میں باعثِ حیرت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اخبار کی وسیع اشاعت، عوامی مقبولیت اور صحافتی اہمیت کے پیش نظر اس کا فہرست سے خارج ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔اسی آر ٹی آئی جواب میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کشمیر عظمیٰ کے ہم ادارہ انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیرکو سرکاری اشتہارات میں ایک اخبار کے مقابلے میں تقریباً 198 گنا کم اشتہاری جگہ فراہم کی گئی۔میڈیا حلقوں کا کہنا ہے کہ آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار سرکاری اشتہارات کی تقسیم، مطبوعات کی درجہ بندی اور محکمانہ پالیسی کے حوالے سے مزید وضاحت اور شفافیت کے متقاضی ہیں۔