بانہال // محکمہ تعلیم کی طرف سے سرکاری سکولوں میں آٹھویں جماعت تک کے زیر تعلیم بچوں میں مفت وردی فراہم کرنے کا چلن مرکزی سرکار کی معاونت والی سکیم سروا شکھشا ابھیان کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے چل رہا ہے اور اب محکمہ تعلیم کے زونل دفتروں میں تعینات ملازمین اس وردی کو اْن کے ذریعے جموں کے منظور شدہ چند ڈیلروں سے خریدنے کیلئے اساتذہ پر دباو ڈال رہے ہیں۔ اساتذہ وردی خریدنے کیلئے وضع کئے جارہے موجودہ طریقہ کار کو ان کے کندھے سے بندوق چلاکر چند مخصوص ڈیلروں سے دوری خریدنے کے نام پر کمیشن لینے کا ایک طریقہ قرار دے رہے ہیں اور غریب بچوں کی وردی کیلئے مختص اس رقم کو لیکر محکمہ تعلیم کے بعض ملازمین کی طرف سے کی جارہی بندر بانٹ پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔ ضلع رام بن کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم غریب بچوں کیلئے چار سو روپے فی طالب علم کے حساب سے سروا شکھشا ابھیان کی اسکیم کے تحت وردی فراہم کی جارہی ہے اور اس مقصد کیلئے ضلع رام بن کے 59 سرکاری ہائی سکولوں ، 247 مڈل سکولوں اور 252 پرائمری سکولوں کے کم و بیش 47000 طلبہ اور طالبات کو مفت وردی فراہم کی جارہی ہے اور اس کیلئے سروا شکھشا ابھیان نے محکمہ تعلیم کو رقومات بھی واگذار کی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن صوبہ جموں کی طرف سے وردی کی خرید کیلئے جموں کے چند ڈیلروں کو نامزد کیا گیا ہے اور رام بن کے بانہال ، اکڑال ، کھڑی ، رام بن گول اور بٹوٹ کے تعلیمی زونوں کو ان وردی ڈیلروں میں مساوی طور تقسیم کیا گیا ہے۔ ضلع رام بن میں تعینات کئی اساتذہ نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وردی کی خرید کیلئے طے کیا گیا طریقہ کار اْن کی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس خرید میں سکول اساتذہ کو ملوث کرکے محکمہ تعلیم کے زونل دفتروں میں بیٹھے ملازمین وردی ڈیلروں سے مبینہ کمیشن کمانے کے فراق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ضلع کے زونل دفتروں نے تمام سرکاری سکولوں سے آٹھویں جماعت تک کے زیر تعلیم بچوں کی فہرست طلب کی اور بعد میں زونل دفاتر سے بچوں کیلئے وردی کی رقم انوائس کے ذریعے سکول کھاتوں میں منتقل کی گئی اور اب یہ رقم سکول کھاتوں سے انوائس کے ذریعے زونل دفتروں کے توسط سے متعلقہ ڈیلروں کو منتقل کرنے کی ہدائت دی گئی ہے اور اس کیلئے اساتذہ پر دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وردی کیلئے پہلے سکولوں کو رقم منتقل کی گئی اور اب یہ رقم سکولوں سے وردی ڈیلروں کو زونل ملازمین کے ذریعے بھیجی جارہی اور وردی خرید کر اسے تقسیم بھی زونل دفتر والے ہی کرینگے تو ایسے میں سکول کھاتوں کے بجائے زونل دفتروں سے براہ راست وردی کی خریداری کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ضلع رام بن کے زونل دفتروں میں گزشتہ دس برسوں سے سرکاری احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اٹیچمنٹ پر سروا شھشا ابھیان اور رمسا کے معاملات دیکھنے کیلئے تعینات اساتذہ سرگرم ہیں اور اْنکی وردی فروشوں کے ساتھ براہ راست سانٹھ گانٹھ ہے اور سکولوں کیلئے وردی کی رقم سے وہ مبینہ طور پر کمیشن کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ وردی کلسٹروں اور سکولوں کی مدد سے براہ راست ڈیلروں سے خریدی گئی ہے اور ہر خرید پر وردی ڈیلر خریدار کو بیس فیصدی کمیشن بھی ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب یہ کمیشن محکمہ تعلیم کے اہلکار کاغذی طور پر وردی خریدنے کیلے بلی کا بکراہ بنائے گئے ٹیچروں کے نام پر حاصل کرنے کے فراق میں ہیں اور وردی کے معیار اور قیمت کیلئے اساتذہ کو بلا وجہ ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار سو روپئے کی اس رقم میں ہر بچے کیلئے دو ۔ دو وردیاں خریدی جارہی ہیں ور اس خرید میں ضلع رام بن کے محکمہ تعلیم کے زونوں میں تعینات ملازمین ثالث کے طور پر کام کر رہے ہیں اور سکول کے کھاتوں میں رقم ڈال کر اب یہ رقم ڈیلروں کے حق میں زونل دفتروں کے ذریعے واپس لی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا ضلع رام بن کے زونوں میں وردی کی یہ خریدی کاغذی لحاظ سے ٹیچروں کے سر تھونپی گئی ہے جبکہ زمینی سطح پر اساتذہ اس معاملے سے بلکل بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے وردی کی خریداری کے اس طریقہ کار کی شفافیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں اور اس معاملے کی طرف محکمہ تعلیم کے اعلی حکام کو توجہ دینی ہوگی تاکہ غریب بچوں کے نام جاری کی جانے والی وردی کے معیار پر سمجھوتہ کرکے رقم کا ایک بڑا حصہ محکمہ تعلیم کے زونل دفتروں میں بیٹھے ملازمین کی جیبوں میں چلے جانے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وردی خریدنے کیلئے کلسٹروں یا سکولوں کو براہ راست پابند بنایا جائے تاکہ محکمہ کے ملازمین کی طرف سے اس لوٹ کھسوٹ پر قابو پایا جا سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کے زونل حکام کا کہنا ہے کہ وردی خریدنے کیلئے وہ ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کی طرف سے جاری احکامات کی پیروی کر رہے ہیں اور اس کیلئے سکولوں کی طلب اور رقومات کو زونل دفتروں کے ذریعے مقرر کئے گئے وردی فراہم کرنے والے ڈیلروں کو روانہ کی جارہی ہے اور وردی خریدنے کے بعد اسے متعلقہ سکولوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کی۔