موبائل اورمتواتر طور کمپیوٹر کا استعمال اور جھک کر کام کرنا بنیادی وجہ قرار
پرویز احمد
سرینگر //گردن کے مہروں یعنی سروائیکل سپو نڈائیلوسس (Cervical spondylosis) ایسے درد کو کہتے ہیں،جسے ڈسکس یا’’ گردن کا گٹھیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس تکلیف میں گردن کے مہروں کے درمیان ڈسکس خشک ہوکر سکڑ جاتی ہیں اور ہڈیوں کے کناروں پر اضافی ہڈی محسوس ہوتی ہے۔ اس سے گردن میں درد، سختی اور اعصاب پر دبائو پڑتا ہے۔ جموں و کشمیر میں سروائیکل سپونڈائیلوسس عام ہے ۔ اس کی بڑی وجہ بیٹھ کر کام کرنے والی طرز زندگی اور الیکٹرانک آلات کا زیادہ استعمال ہے۔ وادی میں گردن کے جوڑوں اور ہڈیوں سے متاثرہ 13.69فیصد لوگ ہیں اور متاثرین میں خواتین کی شرح زیادہ ہے۔
بیماری کی وجوہات
اس کی سب سے بڑی وجہ غلط اور کمزور طرز زندگی ہے۔گھنٹوں تک کمپیوٹر اور موبائیل فون کا استعمال،غلط پوزیشن میں بیٹھنااور ہمیشہ گردن کوجھکاکر رکھنے سے ڈسکس ہوجاتی ہیں جس سے پہلے گردن میں درد پیدا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ بازوں میں اتر جاتا ہے ۔۔ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں اس کی سب سے بڑی وجہ ڈسکس کا خشک ہونا اور سکڑنا ہے اور ریڈھ کی ہڈی کو مضبوط کرنے کی ناکام کوشش میںہڈی کا اضافہ بڑھنا ہے۔
دستیاب علاج
سروائیکل سپونڈائیلوسس کا علاج جراحی کے بغیر بھی ہوتا ہے اور ٹروما کے شکار مریضوں میں بیماری کو ٹھیک کرنے کیلئے جراحی کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ نان سرجیکل طرز علاج میں فیزیویتھرپی ہے جو وادی میں کئی جگہوں پر دستیاب ہے۔ فیزیو تھرپی کے دوران ماہر ڈاکٹر گردن کے پٹھوں کو مضبوط کرنے اور لچک پیدا کرنے کیلئے خصوصی ورزش کراتے ہیں۔گردن کے درد میں مبتلا مریضوں کو سروائیکل کالر استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے ۔اس سے گردن کی نقل و حرکت کو محدود کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونانی طرز علاج میں بھی اس بیماری کا علاج موجود ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 60سال سے زیادہ عمرکے 90فیصد لوگ اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اب یہ صرف عمر رسیدہ افراد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اب یہ بیماری 30سے 40سال تک کے لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جوڑوں اور ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر عادل نے بتایا ’’ 60سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میںعمر کی وجہ سے صحیح غذا نہ کھانے کی وجہ سے جسم کمزور اور ہڈیاں سوخ جاتی ہے لیکن اب یہ بیماری نوجوان نسل کو متاثر کررہی ہے اور اس کی بڑی وجہ کمپیوٹر اور موبائل کا زیادہ استعمال ہے۔ انہوںنے کہا ’’کمپیوٹر اورموبائل لگاتار استعمال کرنے سے گردن جھک کر رہتی ہے جس سے آہستہ آہستہ گردن کی ہڈیوں میں دوری پیدا ہوجاتی ہے جو درد کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم ہر 5منٹ میں ایک بار گردن کو چند سکینڈوں کیلئے اوپر اٹھانا چاہیے جس سے بیٹھ کر کمپیوٹر پر کام کرنے والے کی گردن چند سکینڈوں کیلئے سیدھی ہوجاتی ہے جو گردن کے پٹھوں کو آرام دیتی ہے۔