بانہال // کھڑی سراچی رابطہ سڑک کی تعمیر کو لیکر پچھلے دنوں لوگوں نے اراضی کا ریکارڈ مرتب کرنے میں محکمہ مال کی مبینہ کوتاہی کے خلاف مظاہرے کئے تھے جبکہ زمینی سطح پر ابھی محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے سڑک کی تعمیر کیلئے کی گئی اراضی کی نشاندھی زمینی سطح پر غلط پائی گئی ہے اور سڑک کی شروعات کیلئے کاغذی طور کوٹ کھڑی کو ٹیک آف پوائنٹ قرار دیا گیا ہے جبکہ محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے سڑک کی کھدائی کیلئے کوٹ کھڑی کے بجائے سرن کھڑی کے علاقے میں ٹیک آف پوائنٹ رکھا ہوا ہے جس پر مقامی زمینداروں نے حکم امتناعی کے احکامات عدالت سے لائے ہیں جس میں کیا گیا ہے کہ معاوضے کی رقم ادا کرنے تک سڑک کی تعمیر کیلئے زمینداروں کی اراضی پر کام نہ کیا جائے – محکمہ مال کی طرف سے ایک بیان میں کیا گیا ہے کہ چند مفاد خصوصی رکھنے والے افراد کی ایماء پر کیا گیا احتجاج زمینی سطح کے حقائق سے کوسوں دور ہے اور محکمہ مال نے محکمہ تعمیرات عامہ کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ زمینوں کی نشاندھی اور دیگر مسائل جلد از جلد کرکے سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سڑک کیلئے لی جانے والی زمینوں پر محکمہ تعمیرات عامہ نے غلط نشان لگائے ہیں اور بعض مقامات پر سڑک کی کھدائی کے دوران نشانوں سے باہر لوگوں کی زمینوں کو کھودا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے سراچی رابطہ سڑک کی تعمیر کیلئے کوٹ کھڑی کو ’ٹیک آف پوائنٹ‘ کے طور دکھایا گیا ہے جبکہ بعد میں علاقہ سرن کے مقام ’ٹیک آف پوائنٹ‘ پر کام شروع کیا گیا جس کی وجہ سے محکمہ مال کے پٹواری کئی مہینے تک تذبذب کا شکار رہے اور سرن کے لوگ بھی اس پر سراپا احتجاج ہوئے۔ انہوں نے کہا اس سڑک کی تعمیر کیلئے محکمہ مال ہر ممکن مدد کیلئے پیش پیش رہا ہے اور اس سلسلے سروے کی غلطی ، زمینوں کی نشاندھی اور معاوضہ وغیرہ کیلئے محکمہ تعمیرات عامہ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ پچھلے سال سے اب تک کئی بار وقفے وقفے سے خط و کتابت کی گئی ہے ۔ 24 جولائی کو ہائی کورٹ آف جموں نے غلام محمد نائیک ، ارشاد احمد نائیک اور محمد یوسف نائیک تمام ساکنان سرن کھڑی کی ایک سماعت پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عوامی املاک پر فریقین کی مرضی کے بغیر ہی عوامی مفاد کیلئے کوئی کام انجام نہیں دیا جاسکتا ہے اور جب تک درخواست دہندگان کو معاوضہ وغیرہ ادا نہیں کیا جاتا ہے تب تک ان کی اراضی اور املاک میں سڑک کی تعمیر نہ کی جائے۔عدالت کا رجوع کرنے والے ایک فریق غلام محمد نائیک نے بتایا کہ وہ کھڑی سے سراچی تک سڑک کو بنانے کے حق میں ہیں اور محکمہ تعمیرات عامہ کو وہاں سے ہی کام شروع کرنا چاہئے جس جگہ کا نام کاغذوں میں درج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی نے کوٹ کھڑی کے مقام سڑک کا ’ٹیک آف پوائنٹ‘ منتخب کیا ہے لیکن اب سڑک کے کام کو وہاں سے دو کلومیٹر دور سرن کھڑی سے شروع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو سرن کے لوگوں کے ساتھ زور زبردستی کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 1980 کی دہائی میں مہو منگت رابطہ سڑک کی تعمیر کے دوران سرن کے زمینداروں کو سخت نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے اور اب تک سڑک کی زد میں آئی اراضی کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا سرن کھڑی کے مالکان زمین اور مکانات کے ساتھ روا رکھی گئی نا انصافی کے خلاف عدالت کا دروازے کھٹکھٹایا گیا ہے اور انہوں نے سرن کے زمینداروں کے حق میں فیصلہ دیکر محکمہ کو سرن کے مقام کام کی تعمیر نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرن کے زمینداروں کے پاس زمین ہی بچی نہیں ہے لہذا محکمہ تعمیرات عامہ کو سرن کے بجائے اس کے اصل’ ٹیک آف پوائنٹ‘ کوٹ کھڑی کے مقام سے سڑک کا کام شروع کرنا چاہئے تاکہ سڑک کے بغیر مشکل ترین زندگی گذارنے والے سراچی ، نادکہ اور تراگن وغیرہ کے ہزاروں لوگوں کو راحت مل سکے ۔