پونچھ//جموں کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے خلاف سرنکوٹ کے نوجوانوں نے جمعہ کواحتجاجی مظاہرہ کرنے کااعلان کیاہے ۔اس سلسلے میں سرنکوٹ میں بے روزگارنوجوانوں کاایک اجلاس ایمپلایڈ یوتھ صدر طارق اشرف کی صدارت میں منعقدہواجس میں کثیرتعدادمیں نوجوانوں نے شرکت کی۔اس موقعہ پرمقررین نے کہا کہ 2154ا سامیوں میں سے پونچھ کو محض ایک پوسٹ دینا پڑھے لکھے نوجوانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ مقررین نے ضلع پونچھ کے تمام ممبر اسمبلی رکن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا اگر ہمارے ممبر اسمبلی کسی کام کہ ہوتے تو آج ہمارے نوجوانوں مفلوج نہ ہوتے اور نہ ہی ان کو یہ موقعہ ملتا کہ وہ سڑکوں پر اور میٹنگوں کے بجائے اپنی ٹچر پر چے کی تیاری کرتے ہوتے لیکن ہمارے ضلع ممبر اسمبلی صرف ا سمبلی میں سونے کے لیے جاتے ہیں۔ جس کا اثر آج نوجوانوں پر پڑھ رہا ہے۔ مقررین یہ بھی کہا کہ گذشتہ رو ز جو وزیر تعلیم الطاف بخاری نے اعلان کیا ہے فروری کے مہنے میں 8900 پوسٹ نکال دی جائے گی یہ سراسر سرکار کی طرف سے پڑے لکھے نوجوانوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ سرکار ہر محاذ پر ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ اور نوجوانوں کو الٹے سیدھے راستوں پر چلنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ پڑھے لکھے نوجوان اپنا حق سرکا ر سے لینا جانتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اگر ایک طرف قانون سازیہ اس لاپرواہی کا شکار ہوئے تو دوسری طرف ہماری چیف ایجوکیشنل آفیسر اور تمام زونل ایجوکیشن آفیسر اس لاپرواہی کے منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس موقعہ پر بے روزگار یوتھ صدر طارق اشرف نے اپنے بیان میں کہا میں ہمیں سرکار سے یہ گیلہ ہے۔ اگر ایڈورٹاہزمنٹ کی گئی تھی تو اس پر سرکار کو سوچنا یہ تھا۔ ضلع پونچھ کے سینکڑوں پڑھے لکھے نوجوان اس ایڈورٹاہزمنٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ اور سرنکوٹ میں مہنڈر سے ٹیچر تعینات کیے ہوئے ہیں۔ اور ان نوجوانوں نے اپنی تعلیم کو اس لیے جاری رکھا کہ سرکار کی جانب سے ٹچرس پوسٹ نکالی جائیں گی لیکن وہ الٹا ثابت ہوا ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ اس ایڈورٹاہزمنٹ کو دوبارہ سے نکالیں کیونکہ یہ پڑھے لکھے نوجوان اب بیوقوف بن والے نہیں ہیں اگر جموں پروینس کی تمام اضلاع کی نوٹیفکیشن دوبارہ سے نہیں نکالی گئی تو حالات خراب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے یہاں صنعت کاری، کاروبار بھی نہ ہونے کی وجہ سے نوجوں کا دار ومدار محض سرکاری نوکریوں پر ہے اور ایسے میں سرکار کی طرف سے ایسا سلوک ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جلد از جلد پونچھ کیلئے اساتذہ کی اسامیوں کو منظوری نہ دی گئی تو وہ نوجوانوں کو لیکر سڑکوں پر اتریں گے ۔انہوں نے کہاکہ جمعے کوسرنکوٹ میں احتجاج کیاجائے گا۔علاوہ ازیں بارسرنکوٹ نے نوجوانوں کے احتجاج کودرست ٹھہرایا۔اورکہاکہ وہ جمعہ کے احتجاج کی حمایت کریں گے۔