سرنکوٹ //تحصیل سرنکوٹ میں ہر طرف مسافر بسوں، ٹاٹا سوموز اور آٹو میجک گاڑیوں پر اضافی سواریاں بٹھانے اور تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانے کا سلسلہ جاری ہے۔جہاں بھی دیکھو گاڑیوں کے اندر اور باہر سواریاں لٹکتی نظر آتی ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اس سلسلہ میں جہا ں گاڑیوں کے مالک اور ڈرائیور ذمہ دار ہیں وہیں عوام بھی ان لوگوں کا بھر پوورتعاون کر رہے ہیں ۔ایک نوجوان اسرار قریشی نے تحصیل انتظامیہ کو تنقید کا نشایا اور کہا کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شر عام ڈرائیوروں کی من مانیاں دیکھ کر بھی انتظامیہ کچھ نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہا کہ خصوصی طور پر ٹریفک پولیس اس سلسلہ میں تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرنکوٹ سے مختلف دیہی علاقوں کی جانب چلنے والی مسافرگاڑیوں میں اگر گنجائش 7 سواریوں کی ہے تو ڈرائیور اس میں چودہ سواریاں اند ر بٹھاتے ہیں ،اس کے علاوہ چھت پر اور لٹکنے والی سواریاں الگ ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ اضافی سواریاں بٹھانے کے بعد یہ لوگ برق رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں جو کئی بار حادثات کا موجب بن جاتی ہیں۔انہوں نے ایس ڈی ایم سرنکوٹ ڈاکٹر بشارت انقلابی سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کر کے اس سلسلہ پر قدغن لگانے کے اقدام کریں۔