سرنکوٹ// مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ میں علماء کا ایک اجلاس منعقد ہواجس کی صدارت مولانا مفتی بشارت حسین مسلم پرسنل لابورڈ کے ریاستی چیئرمین نے کی۔ اجلاس میں دیگر علماء اکرام نے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے کہاکہ شراب کو بند کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس کا استعمال کرنے والوں سے سماجی بائیکاٹ کیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ شراب کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے ۔ علماء اکرام نے کہا کہ بہار اور دیگر ریاستوں میں جب شراب پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے تو پھر سرنکوٹ میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔انہوںنے کہاکہ شراب شرعی طور پر حرام ہے اوراس کی پاسداری کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔مفتی بشارت حسین نے کہا کہ علماء اکرام اس معاملے پر سخت موقف رکھتے ہیں اور شراب نوشی کرنے والے یا اس کی فروخت کرنے والوں سے سماجی بائیکاٹ کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ ایسے لوگوں کو جنازے میں بھی شریک نہ ہونے دیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ اگر اس بار شراب کو بند نہ کیاگیاتو اس کے خلاف شرعی طور پر فتویٰ دیاجائے گا۔ مفتی بشارت نے مزید کہا کہ 2015 میں جب شراب کے سلسلہ میںاحتجاج ہوا تھا تو اس وقت شراب بیچنے والوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کا لائسنس اکتیس مارچ کو ختم ہوجائے گاجس کے بعد شراب کی خریدوفروخت خود ہی بند ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایک مہینہ گزرنے کے بعد عدالت سے حکم امتناعی لایااور پھر سے یہ کاروبار شروع کردیا۔انہوںنے کہاکہ اگر شراب بندی نہ ہوئی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوںگے ۔انہوںنے کہاکہ اس مہم کو گھر گھر پہنچایاجائے گا۔اس موقعہ پر مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ کے امام وخطیب مولانا عبدالمصطفیٰ ،جامع مسجد غوثیہ کے امام خطیب مولانا محمد عبدالمجید ،جامع مسجد اکبری سرنکوٹ کے امام خطیب محمد رزاق خان ،متولی اور ناظم غوثیہ مسجد الحاج سرفراز قریشی ،دارلعلوم رضویہ سلطانیہ کے پرنسپل اور محمد بشیر مشتاق احمد قادری و دیگران بھی اس موقعہ پر موجودتھے ۔