وائرس کرّۂ اَرض پر پائی جانے والی حیاتی موجودات (Biological Entities) میں سے ایک ایسی حیات ہے جونہ صرف ہر جگہ موجود ہے بلکہ زمین پر موجود ہر قسم کے جاندار خواہ وہ سمندروں میں رہتے ہوں، خشکی پر ہوں یا ہوا میں یہاں تک کہ بیکٹیریا جیسی سادہ ترین حیات بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں۔
ارتقائی لحاظ سے سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ وائرس باقاعدہ زندگی کی ابتدا سے بھی پہلے سے موجود ہیں اور باقاعدہ خلیاتی زندگی یعنی ’’Cellular Life‘‘ کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ سائنسدانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ وائرس شاید موبائل جینٹک ایلیمنٹ جینیاتی عناصر سے پیدا ہوئے ہیں ۔جنہوں نے اپنے میزبان جانداروں کے مختلف خلیات میں خود اپنی نشو و نما (Replication) کرکے دیگر خلیات کے درمیان منتقل ہونے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
اسی لئے وائرس کو ’’Intracellular Parasite‘‘ یعنی کسی دُوسرے جاندار کے جسم میں رہ کر نشوو نما پانے والا جاندار کہا جاتا ہے۔ یہاں تک انسان جینیاتی مادّے کے تجزیئے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انسانی جینیاتی مادّے (Genome) کا تقریباً 45 فی صد حصہ دراصل وائرسز کے جینیاتی مادّے پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ وقتاً فوقتاً ارتقائی عمل کے دوران انسان کو متاثر کر کے اس کے جینوم کا حصہ بنتے گئے۔ اسی لئے وائرسز کو ’’Drivers of Evolution‘‘ یعنی ایک طرف سے ارتقائی عمل کو بڑھانے والی ایک طاقت مانا جاتا ہے۔
وائرس جو کہ سائز کے لحاظ سے انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اور صرف اور صرف الیکٹران مائیکرو اسکوپ کے ذریعے ہی دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ ساختی اعتبار سے بھی ان کا جسم صرف چند اجزاء پر ہی مشتمل ہوتا ہے،جس میں اس کا مختصر سا جینیاتی مادّہ جو کہ DNA یا RNA پر مشتمل ہوتا ہے ایک خاص قسم کے خول جسے کیپسڈ ’’Capsid‘‘ کہا جاتا ہے ،اس میں بند ہوتا ہے جب کہ کئی قسم کے وائرسز میں ایک اور بیرونی خول بھی موجود ہوتا ہے جسے ’’Envelop‘‘ کہا جاتا ہے جو کہ وائرس کو بیرونی عوامل سے محفوظ رکھتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ وائرسز کی بیرونی سطح پر خاص قسم کی پروٹینز مختلف قسم کی ساخت میں موجود ہوتی ہیں، جس کی ایک مثال کورونا وائرس کی سطح پر موجود Spike نامی پروٹین ہے جو کہ کورونا وائرس کو اپنے میزبان خلی سے جڑنے اور اپنے جینیاتی مادّے کو میزبان سیل کے اندر داخل کر کے انفیکشن پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
جب کہ جینیانی مادّے یعنی DNA یا RNA میں موجود معلومات وائرس کو اپنے میزبان سیل میں داخل ہو کر اپنی تعداد بڑھانے یعنی ’’Replication‘‘ کرنے، میزبان جسم کی مشینری کو قابو کرنے، خود کو میزبان جسم کے مدافعتی نظام سے بچا کر جسم میں انفیکشن پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وائرس اپنی نمو کے لئے زیادہ تر اپنے میزبان ہی کی سیلولر مشینری پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کرۂ ارض پر ہزاروں اور لاکھوں قسم کے وائرس موجود ہیں جن کی تعداد شاید کھربوں میں ہے۔ یہ وائرس ساختی اور جینیانی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وائرسز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وائرس ’’Host Specific‘‘ ہوتے ہیں ۔یعنی ہر وائرس ہر جاندار کو متاثر نہیں کرتا مثلاً Plant Virus صرف پودوں کو ہی متاثر کر سکتا ہے جب کہ Animal Virus صرف جانوروں میں بیماری پھیلاتے ہیں۔
جب کہ Bacterial Virus صرف بیکٹیریا ہی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ انسانوں کو بیمار کرنے والے وائرس زیادہ تر صرف انسانوں ہی میں بیماری پھیلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ خاص وائرس خاص قسم کے اعضاء یا خلیوں کو ہی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وائرس نہ صرف Host Specific ہوتے ہیں بلکہ ’’Tissue Specific‘‘ بھی ہوتے ہیں۔کیوںکہ ارتقاء ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔لہٰذا کچھ وائرس ارتقائی عمل سے گزر کر اپنا میزبان یعنی Host بدل کر نئے Host کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں، جس کی واضح مثال کورونا وائرس ہے جو کہ اصل میں چمگادڑوں میں بیماری پیدا کرتا تھا ،مگر ارتقاء کے نتیجے میں اب انسان بھی اس کے نشانے پر ہیں۔
یوں تو انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے وائرس کی تعداد سیکڑوں میں ہے جو کہ انسانوں میں مختلف قسم کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ جن میں معمولی نزلہ زکام سے لے کر انسانی جسم میں خون، معدہ، پھیپھڑوں، جلد اور جگر وغیرہ کو متاثر کرنے والے ڈینگی (Dengue)، ایبولا (Ebola)، روٹا (Rota)، کورونا (Corona)، ہرپیس (Herpes) اور ہیپاٹائٹس (Hepatitis) نامی وائرس شام ہیں۔ ان کے علاوہ کئی ایسے وائرسز بھی ہیں جو کہ نا صرف عام انفیکشن بلکہ کینسر (Cancer) تک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کو انکوجینک (Oncogenic) وائرس یا ٹیومر وائرس کہا جاتا ہے۔
انکو جینک وائرس کی تاریخ :
1911ء میں Parous نامی جانوروں کے ایک ڈاکٹر نے سب سے پہلے مرغیوں میں ایسے کینسر کی جانچ کی جس کی وجہ خاص قسم کے ریٹرو وائرس (Retro Virus) تھے۔ اس کے بعد 1930ء سے لے کر 1950ء کی دہائی میں سائنس دانوں کے گروہ نے ایسے کئی تجربات کے ذریعے لیبارٹری میں استعمال ہونے والے جانور مثلاً خرگوشوں اور چوہوں میں کینسر پیدا کرنے والے وائرسز کا مشاہدہ کیا۔ جن میںریٹرو وائرس کے علاوہ Mouse Mammary Tumor Virus، Mouse Leukemia Virus، Mouse Polyoma Virus شامل ہیں۔
سائنس دانوں نے مسلسل تحقیق کے بعد 1960ء میں پہلی بار انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے Epstein Barr Virus جسے EBV بھی کہا جاتا ہے کے کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت کا سُراغ لگایا۔ اس کے بعد 1970ء میں انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے ایک اور وائرس ہیپاٹائٹس بی (Hepatitis B) جسے HBV بھی کہا جاتا ہے کے جگر کا کینسر کرنے کی صلاحیت کا مشاہدہ کیا گیا۔
اور یوں سائنس دانوں نے اب تک انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والے سات مختلف قسم کے وائرسز جن میں کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے کا کھوج لگایا ہے۔ ان سات وائرسز میں جن کو انکو جینک (Oncogenic) یا ٹیومر وائرس بھی کہا جاتا ہے۔وہ ذیل میں موجود ہیں ۔
۱۔ ایپسٹن بار وائرس (Epstein Barr Virus) EBV
۲۔ ہیپاٹائٹس بی وائرس (Hepatits B Virus) HBV
۳۔ ہیومن ٹی لمفوٹراپک (Human T-Lymphotropic ) HILV1
۴۔ ہیومن پیپی لوما وائرس (Human Papilloma Virus) HPV
۵۔ ہیپاٹائٹس سی وائرس (Hypatitis-C Virus) HCV
۶۔ کاپوسی سارکوما ہرپیس وائرس (Koposi,s Sarcoma Herpes Virus) KSHV
۷۔ مرکل سیل پولیوما وائرس (Merkel Cell Polyoma Virus) MCPy V نامی وائرسز شامل ہیں۔
انکوجینک وائرس بھی اپنی ساخت اورجینیاتی مادّے کے لحاظ سے ایک دُوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً EBV اور KSHV نامی وائرس کا جینیاتی مادّہ DNA پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ یہ سائز میں بھی نسبتاً بڑے ہوتے ہیں۔ HPV اور MCPYV بھی DNA وائرس ہوتے ہیں، مگر ان کا سائز نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے جب کہ HBV وائرس بھی DNA وائرس ہے، مگر یہ سائز کے لحاظ سے انتہائی چھوٹا وائرس ہے جب کہ HCV اور HILV-1 ان دونوں وائرس کا جینوم RNA پر مشتمل ہوتا ہے۔
تحقیقات سےیہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ٹیومر وائرسز انسانی جسم میں کینسر پیدا کرنے کے لئے اپنے میزبان جسم کے خاص سیل (Cell) کو اپنا ہدف بناتے ہیں اور پھر ان سیلز یعنی خلیوں میں ہونے والی مختلف قسم کی سالماتی سرگرمیوں (Cellular Pathways) میں مداخلت کر کے سیل میں ہونے والی معمول کی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں اور نتیجتاً ایک نارمل سیل کینسر سیل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
انکو جنیس کی میکانیات :
گو کہ یہ وائرسز ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ،مگر یہ ساتوں ٹومر وائرسز نہ صرف شدید یعنی Acute بلکہ دائمی بھی Chronic قسم کے انفیکشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر اس دائمی انفیکشن میں یہ وائرس خود کو انسانی جسم میں غیرفعال یعنی Inactive کر لیتے ہیں جسے سائنسی زبان میں Latency کہا جاتا ہے۔
اس عمل میں وائرس زیادہ تر اپنے جینوم کو میزبان کے جینوم میں ضم (Integrate) کرا دیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ Latency کے دوران دراصل وائرس اپنے جینیاتی مواد کو انسانی خلئے سائٹو پلازم یا نیوکلیس میں محفوظ کر لیتے ہیں اور پھر عرصہ گزر جانے کے بعد یہ وائرس پھر سے فعال یعنی Active ہوتا ہے، جس میں وائرس اپنے جینیاتی مواد میں موجود معلومات کے ذریعے سے اپنی پروٹینز بناتا ہے اور پھر نہ مر کر اپنی تعداد بڑھا کر (Replication) بیماری میں شدت پیدا کرتا ہے اور بالآخر کینسر کا سبب بن جاتا ہے۔اور جیسا کہ اُوپر بتایا گیا کہ وائرسز کینسر پیدا کرنے کے لئے میزبان جسم کے خاص خلیات میں ہونے والی معمول کی سرگرمیوں (Cellular Pathways) میں شامل پروٹین کو قابو میں کر کے ان سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نارمل سیل کینسر سیل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)
(مضمون کا باقی حصہ اگلی سوموار شمارے میں ملاخطہ کیجئے)