نئی دہلی// نیفیڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو کمارچڈھا نے اتوار کو کہا کہ بین الاقوامی وجوہات سے بازار میں سرسوںکے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے ۔ چڈھا نے آل انڈیا تلہن تیل کاروبار اور صنعت سمینار سے خطاب کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ کووڈ کی وبا کے بعد ملک میں سرسوں کے تیل کی مانگ بڑھی ہے ۔چین میں بھی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی صورت حال ہے ۔ انہوں نے مستقبل میں سرسوں کے تیل کی قیمت میں اضافے سے انکار نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس بار کسانوں کو سرسوں کی کم از کم امدادی قیمت سے زیادہ قیمت مل رہی ہے ۔ حکومت نے اس بار سرسوں کی کم از کم امدادی قیمت 4650 روپے فی کونٹل طے کی ہے ۔ سرسوں کی کم از کم امدادی قیمت سے بازار میں قیمت گھٹنے پر نیفیڈ اس کی خرید کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بہتر قیمت ملے اور سرسوں کے تیل کی قیمت بھی مستحکم رہے اس کے لئے کسان پیداوار تنظیم (ایف پی او) کی تشکیل کی جارہی ہے ۔ سرسوں اور مونگ پھلی کے لئے ڈی پی او کی تشکیل کی جارہی ہے ۔نیفیڈ کا تلہن کے شعبہ میں 100 سے زیادہ ایف پی او بنانے کا منصوبہ ہے ۔اے ایف او کی تشکیل پر 20 سے 25 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔یواین آئی
نئی دہلی// نیشنل ایگریکلچر کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا ( این اے ایف ای ڈی ) کے منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو کمار چڈھا نے بازار کے اتار چڑھاؤ کے جوکھم کو کم کرنے کے لئے اور مساوی دستیابی برقرار رکھنے کے لئے تلہن کا بفر اسٹاک بنانے کی تجویز پیش کی ۔ چڈھا نے اتوار کے روز آل انڈیا آئل سیڈ ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو دلہن کی طرح تلہن کا بفر اسٹاک بنانے پر غور کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل کی ملک میں جتنی مانگ ہے اس تناسب سے اس کی پیدا وار نہیں ہے ، جس کی وجہ سے بڑی مقدار میں اس کی درآمدات کی جاتی ہے ، جس پر کافی مقدار میں غیر ملکی کرنسی خرچ ہوتی ہے ۔ چڈھا نے کہا کہ حکومت تلہن کی پیداوار بڑھانا چاہتی ہے اور اس بار سرسوں کے شعبے میں بھی اضافہ ہوا ہے اور کسانوں کو اچھی قیمتیں وصول ہو رہی ہیں ، جس سے آئندہ بھی اس کی پیداوار میں مزید اضافہ کی توقع ہے ۔حکومت نے سنہ 2016-17 میں دلہن کا 20 لاکھ ٹن کا بفر اسٹاک بنایا تھا۔ ملک میں اس بار 85 لاکھ ٹن سرسوں کی پیداوار کا اندازہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گذشتہ سال سے ہی سرسوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے لئے ایک نیا تلہن مشن بھی لایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلہن کی پیداوار میں خود انحصار ہونے سے کثیر تعداد میں زرمبادلہ کی بچت ہو سکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اچھی قیمت وصول ہو تو اس کی پیداوار میں اضافہ ہونا طے ہے ۔