مینڈھر//مینڈھر کے سرحدی علاقوں میں دور روز تک جاری رہنے والی فائرنگ اور گولہ باری کے بعد سوموار کو ماحول پرامن رہاجس سے لوگوں نے راحت کی سانس لی لیکن خوف کی فضا بدستور برقرار ہے ۔ پچھلے دو روز کے دوران بالاکوٹ ، منکوٹ اور کرشنا گھاٹی سمیت کئی سیکٹروں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان زبردست فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہواجس کے دوران کئی مارٹر گولے رہائشی علاقوںمیں بھی آن گرے جس کے نتیجہ میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ایک عام شہری زخمی ہوا۔ اس کے علاوہ لوگوںکو مالی نقصان سے بھی دوچار ہوناپڑالیکن سوموار کو حالت قدرے پرامن رہے اور فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کا کسی طرح کا کوئی واقعہ رونمانہیںہوا۔ حالات میں تبدیلی دیکھ کر دو دنوںسے اپنے گھروںمیں ہی قیدلوگوںنے باہر نکل کر معمول کی سرگرمیاں انجام دیں تاہم انہیں یہ خوف بھی رہاکہ کہیں پھر سے گن گرج نہ شروع ہوجائے ۔سرحدی علاقوں کے لوگوں نے ایک بار پھر سے حکومت سے مانگ کی ہے کہ پختہ بنکر تعمیر کئے جائیں تاکہ وہ مشکل حالات میں پناہ لے سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس سرحدی کشیدگی نے ان کا جینا حرام کردیاہے اور بہت کم ہی دن ایسے گزرتے ہیں جب امن کی فضا ہو جبکہ زیادہ تر دنوں میں حالات خراب ہی رہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کشیدگی کے باعث ان کی معمول کی سرگرمیاں ٹھپ ہوجاتی ہیں اور بچے سکول بھی نہیں جاپاتے جس سے ان کا تعلیمی نقصان ہورہاہے ۔ انہوںنے بتایاکہ پچھلے تین روز سے بھی سرحدی علاقوں کے سکول بند پڑے ہیں ۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر پونچھ کی طرف سے سکولوں کو پانچویں روز بھی بند رکھنے کا حکم جاری کیاگیاہے ۔ واضح رہے کہ کشیدگی کے باعث مینڈھر کے 120سکولوںکوبندکردیاگیاتھا جن کو مزید ایک دن کیلئے بند رکھاجارہاہے اور اگلا فیصلہ حالات دیکھ کر لیاجائے گا۔