رحیم رہبر
دہکتے انگاروں کی روشنی نے مجھے اُس مقام تک پہنچا دیا جہاں پہ وہ مجذوب قلندر تشریف فرما رہے تھے۔ اُس کے چیلے نُور خان نے مجھے بتایا تھا کہ اُس مقام پہ نظر کی سرحد ختم ہوجاتی ہے اور ایک ایسی دُنیا کا دَر وا ہو جاتا ہے جو بہت ہی خوبصورت ہے۔
راستے میں دائیں بائیں دور دور سے ٹمٹماتے ہوئے چراغ شب کے سکوت کو اور پُر اسرار بناتے تھے۔ میں خراماں خراماں اُس مقام کے قریب پہنچا جہاں پہ وہ مجذوب قلندر اور اُس کا طالب نُور خان خیمہ زن تھے۔ طوفانی رات میں میری کانگڑی سے اُٹھنے والی چنگاریاں پھلجڑی بن جاتی تھیں جو میں شب کی پہنائی کو پہناتا تھا۔
’’قریب آجائو‘‘ نُور خان نے مجھے آواز دی۔
میں برہنہ پیر نُور خان کے قریب پہنچا۔ نور خان اپنے مرشد کے پیر دبارہا تھا۔
’مرشدِ من، پیرِمن، نور خان نے مجذوب قلندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا۔ کچھ نہ سمجھنے کے باوجود بھی میں نے پازیٹو رسپانس (Positive Responce)دکھایا۔
مجذوب قلندر نے سر سے چادر سرکا دی اور آتش دان پر پھونک مار دی۔ ایک چنگاری نُورخان کی کھردری داڑھی میں بیٹھ گئی۔ مجذوب نے زور سے قہقہہ مارا۔
’’ابھی جل کر رکھ ہوگا۔۔۔ پھر رات کا سکوت ٹوٹ جائے گا۔۔۔ دہکتے آگ کے شعلوں میں پرندے گھونسلوں سے فرار ہونگے پھر۔۔۔ پھر یہ آگ ناحق پرندوں کے چھوٹے بچوں کو کھا جائے گی۔۔۔۔ ! یہ ہولناک منظر مجھ سے دیکھا نہ جائے گا۔۔۔!‘‘ میں اور بھی بہت کچھ سوچ رہا تھا۔
’’بہت کم ایسے جانباز ہیں جو آگ سے وضو بناتے ہیں۔۔۔ وہ پھر حدِ نظر سے آگے جاتے ہیں۔‘‘
مجذوب قلندر کے یہ سخن سنکر واقعی میری نگاہوں کا میل دُھل گیا۔
’’تمہیں اب نئی داستان لکھنی ہوگی۔ محبت کی داستان جو تمہیں محبت کی دُنیا تک لے جائے گی۔ ا‘س دنیا میں محبت کے بغیر ہر لفظ گونگا ہے۔ جہاں ظلم، بربریت، جہالت، حسد اور دہشت جیسے الفاظ بانجھ ہیں۔ وہ دُنیا بہت ہی خوبصورت ہے وہاں وہ ہر لفظ مہمل بن جاتا ہے جو عُریانیت، نفرت اور جہالت بولتا ہے۔‘‘
مجذوب قلندر نے نور خان سے کہا۔
میں مجذوب قلند رکی زبانی یہ پُراسرار باتیں سُنکر چونک گیا۔ اس کے بعد وہ مجذوب مجھ سے مخاطب ہوا۔
’’لکھو حدِ نظر سے آگے ایک حسین دُنیا آباد ہے۔ وہاں کے محبت بھرے گیت ہر مرض کی دوا ہیں۔ لیکن وہ رس بھرے گیت تمہاری سماعت سے کوسوں دور ہیں۔!‘‘ یہ اُس مجذوب قلندر کے منہ سے نکلے آخری الفاظ تھے۔
طالب نور خان نے اپنے پیر و مُرشد کے الفاظ کو اپنے پُرکیف انداز میں دہرایا۔
’’جو نظروں سے اوجھل ہے وہی اصل دُنیا ہے اور جو سماعتوں سے دور ہے وہی حقیقی آواز ہے۔ غیب کو جاننے کے لئے نظر کی سرحد کو پار کرنا لازمی بن جاتا ہے‘‘۔
یخ بستہ رات کے سکوت میں نورا نے میرا ہاتھ تھام لیا اور وہ مجھے اُس پڑائو پہ لے آیا جہاں سے میرا سفر شروع ہوا تھا۔
���
آزاد کالونی، پیٹھ کانہامہ، ماگام بڈگام، کشمیر
موبائل نمبر؛9906534724