پونچھ//سرحدی گولہ باری کے نتیجے میںانسانی جانوں اور جائیداد کے زیاں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر داکٹر شہزاد ملک نے کہا کہ سرحدی علاقہ جات میں گولہ باری سے متاثر طلاب کیلئے ہوسٹل اور عارضی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق ڈاکٹرشہزادملک نے مرکزی سرکار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار کی مدد کی جائے تاکہ سرحدی طلاب کی تعلیم کو جاری رکھنے کیلئے عارضی اسکول اور ہوسٹلوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔واضح رہے ڈاکٹر شہزاد ملک کا تعلق بھی جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر سے جس کا علاقہ بالاکوٹ اور بلنوئی اکثر و بیشتر سرحدی گولہ باری سے مٹاثر رہتے ہیں۔انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے سرحدی طلاب کی تعلیم کیلئے خصوصی انتظامات کے ساتھ رہائشی ہوسٹلوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے دوران طلاب کا ضائع ہونے والا وقت بہت قیمتی وقت ہے اور گزشتہ پانچ چھ ماہ سے ہو رہی گولہ باری سے طلاب کا کافی نقصان ہوا ہے۔ڈاکٹر ملک نے اس ضمن میں سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ سامنے آکر سرکار کی مدد کی جائے تاکہ عارضی اسکولوں اور ہو سٹلوں کا انتظام کیاجائے اورطلاب کا قیمتی وقت بچایا جا سکے۔