پونچھ//ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ جات میں بینکروں کی تعمیرات میںانتظامی بد نظمی کی وجہ سے لوگ برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سرحدی مکینوں کا کہنا ہے کہ خدا کا شکر ہے کہ سرحدوں پر20جنوری سے فائر بندی ہے تو وہ کچھ حد تک راحت محسوس کر رہے ہیں۔ تحصیل منڈی کے ساوجیاں اور تحصیل حویلی کے دیگوار، مالٹی بگیال درہ اور دیگر علاقوں کے عوام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کی غرض سے مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے سینکڑوںبینکرز منظور کئے گئے ہیں لیکن اِن کی تعمیر کے لئے جاری رہنما خطوط کی دھجیاں اْڑائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بینکروںکی تعمیر جوکہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی ہے، پونچھ ضلع میں انتظامی بدنظمی کا شکار ہوئے ہیں۔ مالٹی گائوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بینکروں کی تعمیری رفتار انتہائی سست ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بینکروں کی تعمیر میں غیر معیاری میٹریل کا استعمال کیاگیا مگر کاغذی خانہ پوری کرکے ٹھیکیداروں نے رقومات نکلوا لی ہیں۔انہوں نے کہا مالٹی گائوں جہاں سے صرف دو سو میٹر کی دوری پر حدِ متارکہ ہے اس علاقہ میں بنائے گئے اکثر بینکروں کا کام ادھورا چھوڑ دیاگیا ہے ، جن میں پانی بھر گیا ہے اور وہ قابل استعمال نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو کڑوروں روپئے بنکروں کے لئے نکلوائے گئے ہیں ان کی تحقیقات کی جانی چاہئے کہ وہ کہاں خرچ کئے گئے ہیں۔تحصیل منڈی کے ساوجیاں کے لوگوں نے الزام لگایا کہ ایل او سی کے زیادہ نزدیک رہنے والے لوگوں کو نظر انداز کر کے سیاسی عمل دخل کی وجہ سے بینکرز سڑکوں کے نزدیک تعمیر کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ بینکروں کی تعمیر میں ہورہی دھاندلیوں کے خلاف آواز اْٹھاتے ر ہے ہیں لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں خصوصی ٹیم روانہ کر کے بنکروں کے تیار ڈھانچوں کا جائزہ لیاجائے اور قصور واروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ پونچھ میں کل 1388بینکرزمنظور ہوئے ہیں جن میں سے 791مکمل ہوچکے ہیں باقی تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں، محکمہ مال نے بینکروں کی تعمیر کے لئے 3500مقامات کی نشاندہی کی تھی جن میں 1388بینکرز ہ کی منظوری ملی ہے۔