تقسیم کے 72برس بیت گئے لیکن سرحدی مکینوںکی حالت نہیں بدلی۔اُن کے حالات آج بھی جوں کے توںہیں۔وہ روز مرتے ہیںاور روز ستائے جاتے ہیں۔چاہے وہ اُس پار کے سرحدی مکین ہوںیا اِس پار کے،سیاسی کھیل تماشتے اور زمینی جنگ کی چکی کے دو پاٹوںمیںآئے روز یہی لوگ پستے ہی جا رہے ہیں۔ دن بدن سرحدوں پر مقیم آباد لوگ حالت ِ ابتری کے شکار ہو رہے ہیں۔ ہند و پاک کی آپسی چپقلش کا خمیازہ سرحدی آبادیوںکو روز ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اُس پار سے آنے والی گولی یہ نہیںکہتی کہ میںنے صرف قصوروار کا سینہ چھلنی کرنا ہے،صرف گنہگاروںکو نشانہ بنانا ہے، بالکل اسی طرح اِس پار کے بندوق سے نکلنے والی گولی بھی قصوروار کو ڈھونڈے بغیر کسی بے گناہ کوموت کے آغوش میںپہنچا دیتی ہے، گولی اِس پار کے بندوق کے دھانے سے نکلی ہو یا اُس پار بندوق کے دہانے سے، و ہ ذات، پات ، رنگ نسل ، قصورواراور بے قصورکا فرق کئے بغیر اپنے سامنے والے کا سینہ چھلنی کر دیتی ہے۔ہند و پاک سرحدوںپر موت کا یہ ننگا ناچ اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ عوامی تحفظ کے بلند بانگ دعوئوںکی آڑ میںدونوںاطراف کے سیاسی رہنما اور فوجی چیف بات بات پر یہ کہتے تھکتے نہیںکہ عوامی تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔لیکن آج تک اِن دعوئوںمیںکبھی حقیقت دیکھنے کو نہیںملی بلکہ دونوں ایٹمی طاقتیںعوامی تحفظ کے نام پر بلاخوف و خطربندوقوںکے دہانے کھول دینے کے احکامات جار ی کرنے میںذرا بھی دیر نہیںلگاتیںاور یوںسرحدوںپر رہنے والے بے بس و لاچار لوگ حکومتوںکے جانب سے تحفظ کے کھوکھلے دعوئوںکی اُمید کے ساتھ روز ہی موت کے گھاٹ اُتار دیئے جاتے ہیں ۔
دونوںاطراف کے ارباب ِ حل و عقد انسانی زندگیوںکے خاتمے کیلئے جدید طرز کے ہتھیارخریدنے کی دوڑ میںایک دوسرے سے سبقت حاصل کر رہے ہیں۔انسانی جانوںکے دشمن ہتھیاروںکو خریدنے کیلئے لاکھوں، کروڑوں ، اربوںاور کھربوںکے حساب سے پیسہ بہا رہے ہیں، یہاںتک کہ مقروض ہوکر ہتھیار خریدنے کا عمل شدت سے جاری ہے لیکن یہاںسرحدی مکینوںکیلئے ابھی تک بنکر بننا باقی ہیں، اُن کی جانوںکا تحفظ ابھی بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ،اک ایسا خواب جس کا شرمندہ ٔ تعبیر ہونا مشکل ہی نہیںبلکہ ناممکن سا لگتا ہے۔سیاسی رہنمائوںکی سوچ اور نیت میںکھوٹ صاف طور سے دکھائی دے رہی ہے۔ وہ سرحدی مکینوںکی اِس دائمی مشکل کے حل کیلئے کسی بھی طرح مخلص نظر نہیں آتے،وہ اپنی اپنی کرسیوںکو پکا کرنے کی خاطر موت کا سامان خرید رہے ہیں۔ سرحدپر جب بھی کوئی بے گناہ زندگی موت کی آغوش میںپہنچا دی جاتی ہے تو اِدھر سیاسی پجاریوںکو اپنی کرسی پکی کرنے کیلئے سیاسی بھبکیاںمارنے کا موقعہ ہاتھ آتا ہے۔ پھر خوب بھڑاس نکالی جاتی ہے ، عوامی تحفظ کے قصے سنائے جاتے ہیں، فوج کو اندھا دھندگولہ باری کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے،جنگ کا اعلان کیا جاتا ہے ، سیاست دانوںکے اس غیر سنجیدہ رویے کے باعث پھر سے کسی ماں کی گود اُجڑجاتی ہے ،کسی گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے ، کسی بہن کا بھائی اُس سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جدا ہو جاتا ہے ، کسی بزرگ کا سہارا چھن جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوںاطراف کے سیاسی رہنمائوںکی عقل کب تک گھاس چرتی رہے گی ؟کب تک اِن لوگوںکی لا پرواہی،غیرسنجیدگی اور اقتدار کی بھوک معصوم جانوں کو موت کے گھاٹ اتارتی رہے گی۔
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اتنی قربانیاںدیئے جانے کے باجود بھی انہیں خوشحالی نہیںملتی ۔سرحدی مکینوںنے نہ تو خوشحال ہندوستان دیکھا اور نہ ہی خوشحال پاکستان۔ وہ روز کسی نہ کسی ماتم پر آنسو بہاتے ہیں، آہیں بھرتے ہیں، غم سہتے ہیںاور پھر وہیںرہتے ہیںجہاں رہنا اُن کا مقدر بن گیا ہے۔لفظ’خوشحالی ‘اُن کیلئے اک ایسا کھلونا ہے جس سے انہیںروز بہلایا جاتا ہے۔ وہ روز ہی اپنے ارمانوںکو دفن ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اُن کے دکھوںکا کوئی مداوا نہیں، مصیبت اُن کا مقدر بن چکی ہے۔ اُس پار سے اور اِس پار سے کی جانے والی شلنگ اورگولیوںکی برسات بھلے ہی دونوںممالک کی ایٹمی طاقت کا ثبوت ہو سکتا ہے لیکن سرحدی مکینوںکے لیے یہ موت کا پیغام ہے۔
واضح رہے تقسیم کے 72برس بیت گئے لیکن انسان دشمنی میںآئے روز اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔امن کے قیام کیلئے سنجیدہ کوشش کہیںسے بھی نہیںکی جاتی ہیں ، قوم پرستی ہر طرف حاوی ہوچکی ہے۔جنگی جنون کا بھوت اِس قدر سوار ہوا ہے کہ ہر مسئلے کا حل گولی اور میزائل کے سوا کچھ بھی نظر نہیںآتا۔موجودہ دور میںہند پاک دشمنی میںاضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے ، گو کہ پہلے پہل یہ دُشمنی صرف کرسی دیوانوں کا کھیل تھا لیکن اب یہ دشمنی آہستہ آہستہ اپنا گراف بڑھا رہی ہے ، چونکہ گزشتہ کئی برسوں سے جس قدر دونوںاطراف کے سیاستدانوں اور مذہبی کٹرپنتھ عناصر نے نفرت کاماحول گرم کیا ہے وہ امن کی چڑیا کو پھڑکنے نہیںدیتا۔ سخت گیری اپنا کر عام انسان کاجینا حرام کر دیا گیاہے۔ ایسے میںسرحدوںکے نزدیک رہنے والوں کی زندگیوںکا زیاں اک نہ تھمنے والا سلسلہ بن گیاہے۔
لمحہ ٔ فکریہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے لڑنے میں مصروف عمل ہے مگر شرانگیزیاں آج بھی تھمنے کا نام نہیںلے رہی ہیں۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ دونوںممالک کے سیاسی قائدین عقل کا دامن تھام لیں۔ جنگی جنون کسی بھی فرد، قوم یا ملک کے لئے کارآمد نہیںہو سکتا ہے۔ساحرؔ لدھیانوی نے سچ کہا ہے کہ ’’جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی‘‘۔ جب جنگ یا لڑائی ہوتی ہے تو مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ تاریخ نے دیکھا ہے کہ جس پر جنگی جنون سوار ہوتا ہے اور کسی کی مخالفت میں پاگل ہوجاتا ہے تو اس کا حشر اچھا نہیں ہوتا۔
: 778091848،9797110175