۔2سال سے فائل انتظامیہ کی میز پر، متعلقہ وزیر کی منظوری کے بعد بھی معاملہ لٹکا ہوا
اشر ف چراغ
سرینگر//دیہی ترقی کا محکمہ (RDD) وادی کشمیر میں دیہی غربت کے خاتمے اور پائیدار سماجی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے۔ 10 اضلاع اور 137 کمیونٹی ڈیولپمنٹ (CD) بلاکس میں کام کرتے ہوئے، یہ ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا ہے، غربت کے خاتمے کے پروگراموں کو نافذ کرتا ہے، اور مقامی کمیونٹیوں کو بااختیار بنانے کے لیے خود مدد گروپوں (SHGs) کی مدد کرتا ہے۔دہی ترقی محکمہ منریگا کے ذریعے اجرت پر روزگار کو آگے بڑھاتا ہے اور رورل لائیولی ہڈز مشن اور حمایت و مہارت کی ترقی کے پروگراموں کے ذریعے دیہی معاش کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
منریگا اور مالیاتی کمیشن سے فنڈز سے دیہی صفائی ستھرائی: سوچھ بھارت مشن(گرامین)کو نافذ کرتا ہے، سائنسی ٹھوس فضلہ کے انتظام، مائع فضلہ کو ٹھکانے لگانے، اور دیہی علاقوں میں کھلے کچرے کو جلانے کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ پنچایتیںگائوں کی سطح کے معاملات کا انتظام کرتے ہیں جس سے لوگ حکومت کیساتھ براہ راست جڑ جاتے ہیں۔ وادی کشمیر میں پچھلے کئی برسوں سے دہی ترقی محکمہ، جو کسی بھی خطہ کی ترقی کیلئے بنیادی سرکاری ادارہ ہوتا ہے، کے تئیں حکومت نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔اس بات کا ثبوت اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کم سے کم پچھلے 2برسوں سے وادی کشمیر میں کسی بھی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کی نئی تقرری نہیں کی گئی ہے۔یہ امر قابل غور ہے کہ وادی کے 10اضلاع میں قائم 139بلاک کام کررہے ہیں لیکن ان میں سے 57کسی بھی بی ڈی او کے بغیر ہیں۔57بلاکوں کا اضافی چارج دیگر بی ڈی اووز کو دیا گیا ہے جو اپنے کام کیساتھ قطعی طور پر انصاف نہیں کرپارہے ہیں اور اسی وجہ سے کپوارہ جیسی صورتحال پیش آتی ہے کہ دہی سکیموں کی ناقص عمل آوری کی بنا پربلاک ڈیولپمنٹ آفیسروں کی تنخواہیں روکنے کے احکامات صادر کرنے پڑتے ہیں۔وادی کے ہر ایک بی ڈی اووز کے اوسطاً تین یا چور بلاکوں کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ ہفتے کے 6دنوں میں وہ تین یا چار بلاکوں میں کئے جارہے کام کیساتھ انصاف نہیں کرسکے گا کیونکہ ایک انسان کیلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ پورے ایک ہفتے میں مختلف علاقوں میں کئے جارہے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے، دورے کرے اور میٹنگوں کا انعقاد کرے۔
کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ رورل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں بی ڈی اوز کی تقرریاں کرنے کیلئے جو قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں ان میں 50فیصد براہ راست ریکروٹمنٹ(جے کے اے ایس) اور 50فیصد ڈیپارٹمنٹل پرموشن کمیٹی کی جانب سے اسامیاں پر کرنی ہوتی ہیں ۔سروس رولز میں واضح طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ ہر ایک محکمہ میں ڈی پی سی کی میٹنگ ہر سال منعقد ہوا کرے گی تاکہ التوا میں پڑے ملازمیں کی ترقی کے معاملات کو نمٹایا جاسکے۔لیکن دہی ترقی محکمہ میں ان قواعد پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔نتیجہ کے طور پر کسی بی ڈی اوز کی تقرری بھی نہیں ہوتی ہے اور براہ راست تقرریاں بھی نہیں کی جاتی ہیں۔رولز کے مطابق ڈی پی سی میں پنچایت انسپکٹروں کو سینیارٹی کی بنیاد پر بطور بی ڈی اوزپرموشن دی جاتی ہے ، لیکن ایسا پچھلے 2برسوں سے نہیں ہورہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ دو سال قبل بی ڈی اوز کی خالی اسامیوں پر بھرتی عمل کو شروع کرنے کیلئے کشمیر کیلئے 20اور جموں کے لئے 14سینئر پنچایت انسپکٹرز کے ناموں کو منظوری دی گئی اوران کی ویجیلنس اور ڈگریوں کی تصدیق بھی بہت پہلے کی گئی تھی۔ان امیدواروں کو دو ماہ قبل بی ڈی اوز کے چارج کے لئے کلیئر بھی کیا گیا لیکن انتظامی محکمہ، متعلقہ وزیر کی منظوری کے باوجود احکامات کرنے میں تاخیری حربہ آزما رہا ہے۔اس ضمن میں 27جنوری کو ڈائریکٹر دہی ترقی کے نام مکتوب میں انہیں 10روز کے اندر ہر طرح کی معلومات بھیجنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن تب سے مزید 4ماہ ہوچکے ہیں لیکن جی اے ڈی کی جانب سے احکامات صادر نہیں کئے جارہے ہیں۔عمومی انتظامی محکمہ کی جانب سے پچھلے دو برسوں سے 57بلاکوں کو لاوارث چھوڑنے کی وجہ سے برتھ اینڈ ڈیتھس معاملات التوا میں پڑے رہے ہیں۔یہ صرف یہ بلکہ سوچھ بھارت مشن( گرامین) کے تحت مائع فضلہ اور، ٹھوس فضلہ کا انتظام، گھر گھر جاکر کوڑا کرکٹ جمع کرنا کا عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔اسکے علاوہ منریگا کے تحت کام بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ وزیر اعظم آواس یوجنا پر انتہائی سست رفتاری سے کم ہورہا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر کام کیا جارہا ہے، جہاں ویری فکیشن کا عمل ٹھپ پڑا ہے، کیونکہ بی ڈی اوز پر کام کا بہت سارا بوجھ پڑا ہے۔ڈسٹرکٹ کیپیکس بجٹ کے تحت ٹارگٹ مکمل نہیں ہورہا ہے،ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کی ترسیل اور اسکا استعمال،اراکین اسمبلی کے کانسٹیچیونسی ڈیولپمنٹ فنڈ اور ممبران پارلیمنٹ کے ترقیاتی فنڈس کی بر وقت ترسیل کے کام متاثر ہورہے ہیں۔انتظامیہ بی ڈی اوز کی تقرریاں کرنے میں جان بوجھ کو جو غفلت کررہی ہے اسکی وجہ سے زمینی سطح پر ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابرہورہے ہیں۔خاص طور پر دہی علاقوں میں تقریباً سبھی کام ٹھپ پڑے ہیں۔