سال کے 365 دنوں میں سے زیادہ تر دنوں میں ہمیں بری خبریں پڑھنے کو ملی ہوں گی، تاہم ہر خبر بری نہیں تھی۔ساسال 2018 میں بھی کئی اچھی اور مثبت بھی خبریں سامنے آئیں ۔سال 2018 کے اختتام پر اگر ہم اس کا جائزہ لیں تو ہمیں مایوسی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا، ہمیں پتہ چلے گا کہ سال بھر میں ہم تشدد، دہشت گرد، نفرت اور انتہاپسندی کی وجہ سے ہونے والے مسائل پر خبریں پڑھتے رہے۔سال کے 365 دنوں میں سے زیادہ دنوں میں ہمیں ایسی متعدد خبریں پڑھنے کو ملی ہوں گی، جنہوں نے جہاں دوسرے لوگوں کی زندگی پر اثرات مرتب کیے ہوں گے، وہیں انہوں نے ہمارے ذہنوں کو بھی جنجھوڑ کر رکھ دیا ہوگا۔تاہم اگر سال بھر کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہمیں کچھ اچھی اور مثبت خبریں بھی ملیں گی، جنہوں نے اگرچہ فوری طور پر ہماری زندگی پر اچھے اثرات نہیں بھی چھوڑے ہوں گے تو وہ مستقبل میں ہمارے لیے اچھی ثابت ہوں گی ۔رواں سال بھی دنیا کے کئی ممالک میں مسائل حل نہ ہونے کی وجہ مظاہرے ہوتے رہے، وہیں امریکا اور برطانیہ سمیت دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کی حکومتوں کو بھی عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مسائل اور مشکلات کے باوجود کئی ممالک سے کچھ اچھی خبریں بھی سامنے آئیں اور ان خبروں سے براہ راست سینکڑوں افراد نے فائدہ حاصل کیا۔
سال 2018 میں جہاں سعودی عرب میں پہلی بار خواتین نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، وہیں جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی بار جنوبی اور شمالی کوریا کے سربراہان اکٹھے ہوئے۔رواں سال جہاں امریکا اور شمالی کوریا میں لفظی جنگ جاری رہی، وہیں کئی دہائیوں بعد پہلی بار امریکی صدر شمالی کوریا کے دورے پر بھی پہنچے۔اسی طرح کئی اور سیاسی اور سماجی بہتری کی اچھی خبریں بھی سامنے آئیں۔سال 2018 کے آغاز میں ہی جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان اختلافات کی جمی برف پگھلنے لگی تھی۔جنوری میں اختلافات کے باوجود شمالی کوریا نے اعلان کیا کہ وہ جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمئی اولمپک میں اپنی کھلاڑی بھیجے گا اور وہ کھلاڑی جنوبی کوریا کی ٹیم کا حصہ بن کر ایک ٹیم کے طور پر کھیلیں گے۔بعد ازاں شمالی کوریا کے کھلاڑی جنوبی کوریا گئے اور دونوں ممالک کے کھلاڑیوں نے ایک ہی ٹیم کے طور پر کھیل کھیلا۔دونوں ممالک کے عہدیدار ایک ہی جھنڈے تلے سرمائی اولمپکس میں شامل ہوئے۔جزیرہ نما ملک کیوبا میں تقریبا 59 سال بعد ملک کے سربراہ کی تبدیلی ہوئی، اگرچہ کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو 2016 میں چل بسے تھے، تاہم اپریل 2018 میں کیوبا کی نیشنل اسمبلی نے ملک کے نئے صدر کا اعلان کیا۔فیڈل کاسترو کی موت کے کچھ ہفتے بعد ہی امریکا اور کیوبا کے درمیان تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے اور ملک کے نئے صدر کو دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخص کو صدارت کے لیے منتخب کیا گیا وہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا، جب فیڈل کاسترو نے ملک میں سب سے اہم اور طاقت ور شخص کی اہمیت حاصل کی۔کیوبا کے لاکھوں عوام نے زندگی میں پہلی بار ملک میں صدر کے عہدے پر فیڈل کاسترو کے بعد 57 سالہ میوگل دیاز کینل کو دیکھا۔رواں برس جولائی میں ہی کیوبا نے پہلی بار نجی ملکیت کے حق کو تسلیم کیا، اس حوالے سے وہاں کے پارلیمنٹ نے خصوصی قانون سازی بھی کی ۔جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن (دائیں) اور شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن (بائیں) ڈیمارکیشن لائن پر جنوبی کوریا میں داخل ہوئے،دونوں ممالک میں اختلافات کی برف جو جنوری میں بگھلنے لگی تھی، وہ اپریل 2018 تک کافی پگھل چکی تھی اور 65 سال بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں نے پہلی بار نہ صرف ملاقات کی بلکہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ لڑنے کا معاہدہ بھی کیا1953 میں کوریا جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ شمالی کوریا کے کسی حکمران نے ڈیمارکیشن لائن عبور کرکے جنوبی کوریا میں قدم رکھا تھا۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے سرحد پر ملاقات کی اور یہ ملاقات دنیا بھر کے سیاسی ذہن رکھنے والے افراد کے لیے خوش آئندہ تھی۔خانہ جنگی کے شکار ملک عراق کے لیے سال 2017 اور 2018 اچھے ثابت ہوئے، کیوں کہ گزشتہ سال کے آخر میں جہاں عراقی حکومت نے شدت پسند تنظیم داعش کو شکست دینے کا دعویٰ کیا۔وہیں رواں برس مئی میں عراق میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات ہوئے، عراق میں 2003 سے امریکی حملے اور صدام حسین کے قتل کے بعد خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی اور بعد ازاں داعش سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم بن کر سامنے آئی۔یورپی ملک اسپین کی علیحدگی پسند شدت پسند تنظیم ای ٹی اے (ایٹا) کے لیڈران نے اسے تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔یہ تنظیم 40 سال قبل بنی تھی اور یہ کچھ علاقوں کی اسپین سے علیحدگی چاہتی تھی۔ایٹا کو اسپین اور یورپی یونین نے دہشت گرد قرار دے رکھا تھا اور اس کی 40 سالہ تحریک کے دوران 800 افراد ہلاک ہوئے۔تنظیم نے 2017 کے اختتام سے شدت پسندانہ کاروائیاں بند کرکے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے معافی مانگنا شروع کی اور بالآخر مئی 2018 میں اسے ختم کردیا گیا۔جنوب مشرقی یورپ میں بلقان کے جزائر میں واقع یورپی ملک یونان اور مقدونیہ کے درمیان گزشتہ 30 سال سے شمالی علاقہ جات کی مالکی پر جاری تنازع بھی جون 2018 میں ختم ہوا۔مقدونیہ کے شمالی علاقہ جات پر یونان اپنی مالکی کا دعویٰ کرتا تھا، تاہم وہ یہ علاقے شرائط پر مقدونیہ کے حوالے کرنے کو تیار تھا، جس پر دونوں تقریبا 30 سال بعد رضا مند ہوئے۔یونان کی جانب سے عائد کی گئی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے مقدونیہ نے شمالی علاقوں کی مالکی کے بعد اپنا نام جمہوریہ مقدونیہ کیا اور یوں دونوں جزائر میں جاری کشیدگی ختم ہوئی۔سال 2017 میں سعودی عرب کی حکومت نے خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم کی تھی، تاہم وہاں خواتین نے ڈرائیونگ سیٹ رواں برس جون میں سنبھالی ۔سعودی عرب میں 28 برس بعد خواتین نے جون میں ڈرائیونگ کی۔ ڈرائیونگ کی اجازت ملنے پر سعودی عرب کی خواتین نے جون میں سڑکوں پر گاڑیاں چلا کر منفرد انداز میں آزادی کا جشن منایا۔خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے علاوہ بھی رواں برس سعودی میں خواتین کے حوالے سے کئی اہم کام ہوئے۔ رواں برس سعودی خواتین کو جہاز اڑانے کی بھی اجازت ملی۔اسی طرح سعودی عرب میں رواں برس خواتین کو حرمین شریفین کے انتطامی عہدوں پر بھی تعینات کیا گیا۔سال 2018 میں سعودی عرب میں جہاں خواتین کی پہلی سائیکل ریس منعقد ہوئی، وہیں پہلی بار ایک خاتون کو غیر محرم مرد کے ساتھ خبریں پڑھنے کی اجازت بھی ملی۔سال 2018 میں ہی سعودی عرب میں پہلا فیشن ویک بھی منعقد ہوا، اسی طرح رواں برس میں ہی وہاں 35 برس سینما گھر کھولے گئے اور فلموں کی نمائش شروع کردی گئی۔سال 2018 میں آسٹریلیا کے اینگلیکن چرچ نے تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو آرچ بشپ کے عہدے پر تعینات کیا، عموما آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں اس عہدے پر مرد ہی تعینات کیے جاتے ہیں۔آسٹریلیا کے اینگلیکن چرچ نے کے گولڈس ورتھی نامی خاتون کو پرتھ کے ایک چرچ میں بطور آرچ بشپ مقرر کرنے کی منظوری دی۔سال 2018 نہ صرف سعودی عرب بلکہ اس کے حریف ملک ایران کی خواتین کے لیے بھی قدرے اچھا رہا، جہاں انہیں 4 دہائیوں بعد کھیل کے میدان میں جانے کی اجازت ملی۔سال 2018 میں ہونے والی عالمی فٹ بال ورلڈ کپ میں اگرچہ ایران کی ٹیم اچھی کارکردگی نہ دکھا سکیں، تاہم وہاں خواتین کو 1979 کے بعد پہلی بار اسٹیڈیم میں جانے کی اجازت دی گئی۔کھیل کے میدان میں جانے کی اجازت ملنے پر ایران بھر کی خواتین انتہائی خوش دکھائی دیں۔جنوبی کوریا میں رواں برس ہونے والے سرمائی اولمپکس میں جہاں جنوبی و شمالی کوریا کے کھلاڑی ایک ٹیم بن کر کھیلے، وہیں اس میں پہلی بار بہت بڑی تعداد میں مخنث اور ہم جنس پرست ایتھلیٹ کھلاڑی بھی شامل ہوئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے درمیان 12 جون 2018 کو جنوب مشرقی ایشیا کے جزیرہ نما ملک سنگاپور میں ہونے والی ملاقات رواں برس کی سب سے منفرد خبر بھی بنی۔یہ ملاقات عہدے پر براجمان رہنے والے کسی بھی شمالی کوریا اور امریکی سربراہان کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات تھی، اس لیے بھی اس ملاقات کو تاریخی قرار دیا گیا۔اس ملاقات سے قبل امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر اور شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم سنگ کے درمیان 24 سال قبل جون 1994 میں ملاقات ہوچکی ہے، جسے امریکی حکام نے نجی ملاقات قرار دیا تھا۔اس ملاقات سے محض 12 ہفتے قبل یہ دونوں رہنما ایک دوسرے کو ’پاگل‘ اور ’نا سمجھ‘ جیسے خطاب دے چکے تھے۔افریقہ کے پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک ارتریا اور ایتھوپیا نے جولائی 2018 میں 20 سالہ سرد جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے سرحدی تنازع کو حل کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک میں 1998 سے سرحدی حدود پر جنگ چلتی آ رہی تھی اور پسماندہ ممالک ہونے کے باوجود دونوں ممالک نے اس جنگ میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے اور دونوں کو بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔اسی سال ہی ایتھوپیا کی باغی جماعت نے حکومت کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان بھی کیا، دی اورومو لبریشن فرنٹ 1993 سے حکومت اور ریاست کے خلاف لڑ رہی تھی اور اس سے کئی علاقوں میں بدامنی پھیلی ہوئی تھی ۔ایتھوپیا کی پارلیمنٹ نے رواں برس اکتوبر میں پہلی بار 68 سالہ سہالے ورک زیوڈے کو صدر منتخب کیا۔رواں برس اگست میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرح کے جرم یا کیس میں کسی بھی انسان کو سزائے موت دینا ناقابل قبول ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔پوپ فرانسس نے سزائے موت کو شخصی حرمت و عظمت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ویٹی کن سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ پوپ فرانسس کے اس فیصلے کو کیتھولین عیسائیت کے نظریات میں اہم تبدیلی بھی قرار دیا گیا اور اس پر بحث ہونے لگیاگرچہ سائنسدان کئی سال سے ڈی این اے میں تبدیلی یا ترمیم کے تجربات میں لگے ہوئے اور گزشتہ 3 سال سے اس میں سائنسدانوں کو اہم کامیابیاں بھی ملی ہیں، تاہم رواں برس نومبر میں چینی سائنسدان کے دعوے نے دنیا کو حیران کردیا۔چینی سائنسدان نے دعویٰ کیا کہ اس نے 2 جڑواں بچیوں کی پیدائش سے قبل ان کے ڈی این اے میں ترمیم کرکے انہیں انتہائی خطرناک مرض سے آزاد کیا اور اس کے باوجود دونوں بچیوں کی کامیاب اور محفوظ پیدائش ہوئی۔چینی سائنسدان کے اس تجربے پر امریکا، برطانیہ، جرمنی و فرانس سمیت دیگر ممالک کے سائنسدانوں نے تنقید بھی کی اور اسے اخلاقی پستی بھی قرار دیا اور کہا کہ اس سے آئندہ کی نسلوں کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح رواں برس دسمبر میں ایک مردہ خاتون ڈونر سے ملنے والی بچہ دانی یا رحم کی پیوند کاری کرانے والی خاتون نے بچے کو جنم دیا تھا، یہ واقعہ بھی طبی دنیا کا منفرد واقعہ تھا۔امریکا میں اگرچہ مسلمان مقامی سیاست میں زیادہ متحرک ہیں اور کئی سرکاری اداروں میں مسلمان اہم عہدوں پر بھی فائز ہیں، تاہم سال 2018 میں پہلی بار امریکی کانگریس میں 2 خواتین رکن منتخب ہوئیں۔فلسطینی نژاد راشدہ طالب ریاست مشی گن اور صومالوی نژاد الحان عمر کو ریاست منی سوٹا کے عوام نے رکن کانگریس منتخب کیا۔ویسے تو گزشتہ ایک دہائی میں انٹرنیٹ و کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہر آئے دن اضافہ ہو ر ہا ہے، تاہم سال 2018 کے آخر تک دنیا نے ایک نیا سنگ میل عبور کیا۔اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی ٹی یو) نے دسمبر کے آغاز میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دنیا کے نصف سے زیادہ افراد یعنی 3 ارب 90 کروڑ سے زائد افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوچکی۔اگرچہ دنیا میں کئی سال خواتین و مرد حضرات کے لیے مانع حمل کی دویات دستیاب ہیں، تاہم رواں برس پہلی بار مرد حضرات کے لیے ایک کریم کو سامنے لایا گیا۔امریکی سائنسدانوں نے خصوصی کریم کی آزمائش بھی شروع کی، یہ کریم مرد حضرات کو دن میں ایک بار کمر اور کندھوں پر لگائے جائے گی جو کہ ٹسٹوسیٹرون اور پروجسٹرون مرکب پر مشتمل ہوگی اور یہ جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہوگی، جس سے حمل کو روکنے میں مدد ملے گی۔جنوب مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے سنگم پر واقع یورپی ملک جارجیا نے بھی سال 2018 میں تاریخ رقم کی اور وہاں پہلی بار ایک خاتون صدر منتخب ہوئیں۔نومبر 2018 میں 66 سالہ فرانسیسی نژاد جارجیائی خاتون سالومے زور ابشویلے نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے یہ اعزاز حاصل کیا۔سال 2018 کو یہ اعزاز بھی رہا کہ اس سال دنیا کے کسی بھی ملک میں فوجی بغاوت نہیں ہوئی، اگرچہ دنیا کے چند ممالک کی حکومتوں نے ایمرجنسی اور جزوی مارشل لاء سمیت قبل از انتخابات اور پارلیمنٹ کو تحلیل بھی کیا، تاہم دنیا کے کسی بھی ملک میں نئی فوجی بغاوت سامنے نہیں آئی۔
یوں 2018 اس دہائی کا وہ پہلا سال بنا جس میں کہیں بھی فوجی بغاوت نہیں ہوئی۔یورپی ملک سلو وینیا میں پہلی بار 55 سالہ خاتون کو آرمی چیف مقرر کیا گیا، 55 سالہ میجر جنرل ایلنا ایرمنک کو فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا۔رواں برس اگست میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار قبطی عیسائی خاتون کو صوبے کا گورنر مقرر کیا، منال عواد میخائل کو دمیاط صوبے کی گورنر مقرر کیا گیا، اس سے قبل وہ جیزہ میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر فائز تھیں۔نادیہ مراد نے 2015 میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں لرزہ خیز داستان سنائی تھی ۔پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کے بعد رواں برس دنیا میں دوسری بار ایک کم عمر لڑکی کو دنیا کے سب سے معتبر اور اہم ایوارڈ نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔عراق کے یزیدی کرد قبیلے سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نادیہ مراد کو داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے چند سال تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، جب کہ حملے میں ان کے تمام اہل خانہ کو قتل کردیا گیا تھا۔نادیہ مراد کو افریقی ملک کانگو کے 63 سالہ سماجی کارکن ڈینس میکویج کے ساتھ نوبل انعام دیا گیا تھا، نادیہ مراد کم عمری میں یہ انعام وصول کرنے والی دوسری شخصیت بنیں۔