کیا یہ معمولی نعمت ہے کہ انسان اپنے گھر سے خالی ہاتھ ہلاتا ہوا اور مضبوطی سے قدم رکھتا ہوا نکلے ،ہموار سانسیں اُس کے پھیپھڑوں میں ہوا بھر رہی ہوں،اُس کی نگاہیں دور دور تک دیکھ رہی ہوں اور اُس کے کان سب کی نقل و حرکت سُن رہے ہوں ۔یہ عافیت جس سے ہم لطف اندوز ہورہے ہیں کوئی معمولی چیز نہیں،ہمیں حاصل ہونے والی نعمتیں کتنی زیادہ اور کتنی گِراں قدر ہیں ،چاہے ہم اُن سے آنکھیں بند ہی کیوں نہ کرلیں۔کیا ہم نہیں دیکھتے کہ کتنے لوگ ان بیش بہا نعمتوں سے محروم ہیں اور ربّ ہی جانتا ہے کہ وہ کتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں ،کسی کے اعضاء پورے نہیں ،کسی کا دماغ اچھی طرح کام نہیں کرتا ،کوئی سانس لیتا تو ہَوا بجائے زندگی بخش ہونے کے ساتھ خارج ہوتی ہے ،کوئی ایک لقمہ کھاکر بھی پریشان ہے کہ اس کی قوتِ ہاضمہ جواب دے چکی ہے ،کوئی کسی مرض میں مُبتلا ہے تو کوئی کسی اور پریشانی میں۔اگر ہم سارے امراض سے محفوظ ہیں تو کیا ہمارے خیال میں قدرت نے ہمیں معمولی دولت سے نوازا ہے؟ کیا اس کا حساب نہیں لیا جائے گا؟۔
یہ ایک بھاری غلطی ہے کہ ہم اپنا سرمایہ اُس سونے چاندی ہی کو سمجھیں جو ہم نے جمع کررکھا ہے۔ہماا اصل سرمایہ وہ ساری صلاحتیں ہیں جن سے ہمیں قدرت نے مُسلح کیا ہے ،جیسے ذہانت ،طاقت اور آزادی اور سب سے بڑی نعمت اچھی صحت اور عافیت ہے، جس کی بدولت ہم زندگی سے جس طرح چاہیں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ اس دولت کی جو انہیں بلا شرکتِ غیرے حاصل ہے، بے قدری کرتے ہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے مشہور واعظ حضرت سماکؒ سے نصیحت کی درخواست کی،خلیفہ کے پاس ایک گلاس پانی لاکر رکھا گیا تھا ،حضرت سماکؒ نے کہا :اے امیر المومنین ! اگر شدید پیاس میں یہ پانی آپ سے روک لیا جائے تو کیا آپ اس کے لئے اپنی مملکت دیدیں گے ؟خلیفہ نے کہا :ہاں۔پھر انہوں نے کہا ،اگرپیشاب رُک جائے تو کیا اس کے اخراج کے لئے اپنی مملکت دیدیں گے؟ انہوں نے کہا:ہاں۔تب حضرت سماکؒ بولے ،ایسی مملکت میں کیا بھلائی ہے جو ایک گلاس پانی اور ایک بار پیشاب کے برابر بھی نہ ہو ،واعظ کی نیت یہ تھی کہ خلیفہ کی نگاہوں میں مملکت کی قدروقیمت گھٹائیں اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی نعمتوں کی قدروقیمت جتائیں لیکن عام لوگ اس نصیحت کو دوسرے پہلو سے دیکھتے ہیں ،وہ یہ کہ ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ جس نعمت کے لئے بادشاہ اپنے تاج و تخت چھوڑنے کے لئے تیار ہیں وہ ہم بغیر محنت کے اور تاج و تخت دِئے ہوئے پارہے ہیں تو کیا ہم اُس انعام کو یاد کرتے ہیں ،اُس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور کیا اُس پر شُکر ادا کرتے ہیں؟۔
اکثر لوگ صحت کی اہمیت کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے ،جب صحت خراب ہوتی ہے پھر اُس کی قدروقیمت سمجھ میں آتی ہے چونکہ عرصہ سے صحت کے عادی ہوتے ہیں، اس لئے اُسے معمولی سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بندوں کی لاپرواہی کی وجہ سے کسی حقیقت کو باطل نہیں کرتا ،وہ ایک ایک چیز کا حساب لے گا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ،انسان قیامت کے دن اتنے نیک عمل کے ساتھ آئے گا کہ اگر کسی پہاڑ پر مقابلے میں رکھ دئے جائیں تو نیک اعمال کا پلڑا جھُک جائے ،تب اللہ تعالیٰ کی نعمت میں سے ایک نعمت کھڑی ہوگی اور اُس کے بدلے ہی میں اُس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی اگر اُسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نہ نوازے‘‘۔اسلام زندگی کو ایک نعمت قرار دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہمیں روح و احساس سے نوازا ہے،جس طرح ہمارے لئے رات دن مسخر کئے ہیں اور جس طرح ہمیں زمین و آسمان کے درمیان جمایا ہے، اُس پر ہم اللہ کا شکر ادا کریں۔یہ ترقی یافتہ زندگی ایک خاص قسم کا اعزاز ہے جس پر ہمیں فخر کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچاننا چاہئے ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’تم اللہ کے ساتھ کفُر کا رویہ کیسے اختیار کرتے حالانکہ تم بے جان تھے ،اُس نے تم کو زندگی عطا کی ،پھر وہی تمہاری جان سلب کرے گا ،پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا ،پھر اُسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ (البقرہ۔۲۸)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں حواس دِیے ہیں تاکہ ہم وجود کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور اس میں جو کچھ اُسے سمجھیں اپنی مادی و روحانی صلاحیتوں سے اُس کے حُسن سے لطف اندوز ہوں اور اس کے نتیجے میں ہمارے احساسات اُس ذات کے لئے شکر گذاری کے جذبے سے لبریز ہوجائیں ،جس نے زندگی دے کر ہمیں معزز بنایا ۔انسان اُن نعمتوں کے وسیع دائرے سے غافل ہوسکتا ہے جن سے وہ فایدے اٹھارہا ہے لیکن اگر وہ صرف اپنے کھانے کے دستر خواں پر غور کرے تواُسے اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا کے کس کس گوشے سے اُس کے لئے کھانے پینے کی چیزیں مہیا ہورہی ہیں ،پھر اگر وہ غور کرے تو معلوم ہوگا کہ زمین و آسماں اُس کی خدمت اور اس کی زندگی کو آسان بنانے پر متفق ہوگئے ہیں تب وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب سمجھ پائے گا :
’’لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں ،اُن سب کا خالق ہے ۔تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت سے ہوسکتی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ،آسمان کی چھت بنائی ،اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہیں رزق دیا ‘‘۔ (البقرہ۔ ۲۱۔۲۲)
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کدورتیں اور مشکلات زیادہ تر خود انسانوں کی اپنی خواہشات کے پیچھے اندھے ہوجانے اور طرز ِعمل کی ابتری کی پیداوار ہوتی ہیں۔یہ تو انسان ہی ہے جس نے مجنونانہ حرکتیں اختیار کرکے زندگی اور اس کے سارے حُسن و جمال کو برباد کر ڈالا،نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کے آگے جھُکتا ہے اور نہ اس کی بات مانتا ہے ورنہ زمین لوگوں پر تنگ نہیں ہوئی ہے بلکہ لوگوں کے اخلاق تنگ ہوگئے ہیں۔اگر ہم اللہ کی نازل کردہ ہدایتوں کو اپنائیں اور اُس وسیع بھلائی کو سمجھیں جو اُس نے ہمیں عطا کی ہے تو ہمارا اور زندگی کا معاملہ کچھ اور ہی ہوجائے،لیکن اکثر لوگ زندگی اور عافیت کی دولت کو حقیر سمجھتے ہیں اور اُس سے فایدہ اٹھانے سے عاجز رہ جاتے ہیں،پھر ایسی تمنائوں کے لئے روتے رہتے ہیں جو پوری نہیں ہوتیںاور اگر پوری ہوگئی ہوتیں تو نہ جانے کیا ہوتا ۔ہمارے جسم کو جو عافیت حاصل ہے وہ کتنی قیمتی ہے؟وہ اعضا کتنے قیمتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا ہے،ہم جو پھل حاصل کرتے ہیں وہ کتنے لذیذ ہیں ،اگر ہم انہیں اچھی طرح حاصل کرسکیں اور اُن کی بے قدری نہ کریں ۔اسلام چاہتا ہے کہ وہ بھرپور انداز میں ہماری توجہ اس طرف مبذول کرائے کہ ہمیں حاصل شدہ نعمتیں کتنی نفیس اور اُن سے فایدہ اٹھانا کتنا ضروری ہے۔حدیث ِ رسول ؐ ہے کہ جبرائیل ؑ نے کہا کہ اے محمدؐ! چیزوں کا دارومدار اللہ کی رحمت ہی پر ہے،اس حدیث میں اُن نعمتوں کی قدروقیمت پر زور دیا گیا ہے جن سے اکثر لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں ،اس میں عدل و انصاف کی کمی یا آخرت میں جزا کی میزان میں کسی کوتاہی کی بات نہیں۔بعض لوگ اس بات کا کہ ’’چیزوں کا دارومدار اللہ کی رحمت پر ہے‘‘ غلط مطلب نکالتے ہیں تاکہ انتشار پھیلائیں اور یہ وَہم پیدا کریں کہ عمل سے جنت یا جہنم کو کوئی لین دین نہیں ہوتا،یہ تو اللہ کی رحمت ہے جو گنہگار کو بھی مِل جاتی ہے اور وہ جنت میں پہنچ جاتا ہے جبکہ دوسرا شخص اطاعت گذار ہونے کے باوجود جہنم میں چلا جاتا ہے۔
آج کل مے مسلمانوں میں اس طرح کی مہمل باتیں پھیلی ہوئی ہیں اور ایسی ہی مہمل باتوں نے اکثر مسلمانوں کے افکار کو گمراہ اور اُن کی کوششوں کو کمزور کرڈالا ہے۔اس سے صرف اللہ تعالیٰ سے دوری اور دین سے نا واقفیت ہی میں اضافہ ہوا ،آخر وہ شخص جنت میں کیسے جائے گا جس کی کوششوں نے اُسے اِس کا امیدوار ہی نہ بنایا ہو؟
خدا کی نافرمانی اُس کی رحمت و خوشنودی نہیں دِلا سکتی ،نیک عمل ہی اُس کی مہربانی اور مغفرت سے قریب کرتا ہے اور نیکیوں میں سَر فہرست یہ ہے کہ ہم پر جو نعمتیں نازل کی گئی ہیں ،ہم اُن کی عظمت و اہمیت کو سمجھیں ،اُن کی حقیقت اور حق کو پوری طرح محسوس کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اگر اُن کے سلسلے میں ہمارا حساب لے لیا اور اُن کی پوری قیمت ہم سے طلب کرلی تو ہم عاجز رہ جائیں گے ۔!!
احمد نگر سرینگر
رابطہ: 9697334305