پونچھ// محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے زیر نگرانی آٹھ سال قبل اعظم آباد تا سروری سڑک کی تعمیرکا کام شروع کیا گیا تھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا ہے۔ اس سلسلہ میں مقامی لوگوں نے نہایت ہی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اپنی آبائی اراضی سڑک کی تعمیرات کے لئے اس لئے صرف کردی تھی تاکہ گاڑی پر سفر کرنے کا خواب پورا ہوسکے لیکن محکمہ کی جانب سے ان کی زمینوں اور پہاڑیوں کو مشینوں کے ذریعہ کاٹ تو دیا گیا مگر سڑک ادھوری ہی چھوڑ دی گئی ہے جس کی وجہ سے 2014 میں آئے تباہ کن سیلاب کے دوران سڑک ان کی اراضی اور گھاس کی زمین کھسک کرتباہ ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے دوران بھی اس سڑک کے قریب کے مکانوں اور اراضی کو نقصان پہنچا ۔انہوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پورے ضلع میں کوئی نظام نہیں اور اس بدنظمی کی وجہ سے لوگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ڈیجیٹل بھارت کا خواب دیکھا جا رہا ہے تو دوسری جانب چند کلو میٹر سڑک آٹھ سال بعد بھی مکمل نہیں ہو رہی ۔ سڑک کے لئے زمین واگزار کرنے والے منظور حسین ولد عبدالعزیز، لعل دین ولد غلام دین ، محمد فاروق ولد جلال دین، محمد قاطف ولد محمد ستار اور محمد سلیم ولد جلال الدین کاکہناہے کہ انہیں ابھی تک معاوضہ بھی فراہم نہیں کیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ نہ ہی سڑک بن پائی اور نہ ہی زمینیں بھی رہیں اس لئے ڈپٹی کمشنر پونچھ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کرکے ان کے اس مسئلے کو حل کریں ۔