زبان۔۔۔! آفریدگار عالم کی عجیب ترین کارسازیوں میں سے ایک ہے۔ انسانی جسم کا نرم ترین حصہ ہونے کے باوجود بھی اس کی اہمیت عجیب ہے۔ تاریخ آدم کے ہزارہا سال کی روداد کی تخلیق کا یہ نمونہ شاید ہی کسی دوسرے نمونے سے کمتر ہو۔ عجائب خانہء قدرت میں زبان کے انداز نرالے ہیں ۔ کسی نبی، ولی، عالم و عاقل کے دہن مبارک میں ہو تو کسی تحفے سے کم نہیں۔ اور کسی فاسق و فاجر کے منہ میں ہو تو کسی فتنے اور شر سے کم نہیں۔
انسان کی شخصیت اس کی زبان کے پیچھے چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ جب آدمی بول پڑتا ہے تو زبان کا پردہ ہٹ جاتا ہے۔ ذہین آدمی بر جستہ بھی ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ دوسرا سو بار سوچ کر بھی نہ کہہ سکے۔ صحیح زبان خدا کی دین ہے اور غلط زبان شیطان کا آلہ۔ اہل اللہ کا قول ہے کہ انسان کی راحت زبان کی حفاظت سے ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ریا کار کی تسبیح (زبان) کوڑے کرکٹ پر اگا ہوا سبزہ ہے۔
زبان چلتی ہے تو دلوں کے راز ظاہر ہوتے ہیں ۔ زبان کے پردے میں لاکھوں راز چھپے ہیں۔ ہمیں تعجب کیونکر نہ ہو کہ چھوٹی اور معمولی چیز بعض اوقات بڑی بڑی چیزوں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ زبان سے کشفِ راز ہوتا ہے۔ اور سچ جھوٹ سب پہچانا جاتا ہے۔ ایک شخص نے کسی عاقل سے پوچھا کہ تو کسی دوسرے شخص کو کتنی مدت میں پہچان لیتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر بولے تو فوراٌ پہچان لیتا ہوں اور اگر نہ بولے تو چال ڈھال ، یعنی زبان حا ل میں تین دن میں ، ورنہ کسی تدبیر سے اسے بولنے پر مجبور کرونگا۔ اگر وہ کسی بھی طرح نہ بولے تو چھوڑ دوں گا۔ کیونکہ اس میں پھر میرا نقصان ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص مجھے دو چیزوں کے صحیح استعمال کی ضمانت دے ، میں اسے جنت میں گھر دلانے کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک وہ جو دو رانوں کے بیچ میں ہے یعنی شرم گاہ اور دوسری وہ جو دو جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ یہ بھی منقول ہے کہ ’’ زبان کا جسم صغیر ہے اور اس کا جرم کبیر ہے‘‘۔ زبان کے ثواب بھی بڑے ہیں اور اس کے گناہ بھی بڑے۔ صدیقِ اکبر ؓ نے فرمایا کہ ’’ اے زبان۔۔اکثر لوگ تیری وجہ سے جہنم میں جائیں گے‘‘۔
اللہ رب العزت کے ہاں زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی بڑی اہمیت ہے۔ چونکہ ارشاد باری تعالی ہے، ’’ اے ایمان والو۔۔! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں‘‘۔ مومن کی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کی نگرانی ہوتی ہے اور فرشتے اس کو ریکارڑ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ایک ایک لفظ کا احتساب ہوگا۔ جن الفاظ سے گناہ ٹپکے، فحش ٹپکے، کسی کی دل آزاری ہو، ذلت ہو، فتنہ برپا ہو، غیبت ہو، تہمت ہو، شریعت میں ایسی باتوں سے منع فرمایا گیا ہے۔ تلوار کا وارجسم کو زخمی کرتا ہے اور زبان کا وار روح کو اور دل کو زخمی کرتا ہے۔ جو رشتے تلوار سے نہیں ٹوٹتے وہ زبان کے ایک معمولی وار سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ زبان کی تلوار کبھی زنگ آلود نہیں ہوتی۔ قبر میں جانے سے پہلے اس کا کوئی قفل نہیں۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ بندہ اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ بولتا ہے اور اپنے راز کھول دیتا ہے۔ آپؓ نے یہ بھی فرمایا کہ زبان کی لغزش پائوں کی لغزش سے زیادہ خطرناک ہے۔ حضرت یحیی بن معاذ ؓ نے فرمایا، ’’ ہنڈیا سے چمچ وہی نکال لائے گی جو اس کے اندر پکا ہوا ہو۔ یعنی انسان کے دل میں جو ہو وہ جب بولے گا تو اس کے دل کی بات ہی زبان پر آئے گی۔ حضرت باقی باللہ ؒ سے کسی نے سوال کیا کہ کچھ فرمائو تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔ آپ نے کہا کی جس نے میری خاموشی سے کچھ نہیں پایا وہ میری باتوں سے کیا پائے گا۔ کسی عاقل نے کہا کہ لمبی زبان انسان کو چھوٹا کرتی ہے۔ اور کسی دانا نے کہا کہ بند منہ کے اندر مکھیاں نہیں پڑتی۔
جس کی زبان اللہ کی زبان بن گئی وہ مردہ دلوں میں تازگی پیدا کرتی ہے۔ جس طرح صاف پانی مرجھائے ہوئے پھولوں میں شگفتگی پیدا کرتی ہے ۔ کیونکہ اللہ کے تصرفات جہاں ہوں ، بغیر کسی آلہ کے ہوتے ہیں۔ مگر سرعت تاثیر میں جادوگروں کے افسوں سے بڑھ کر ہیں۔ اسباب کا وجود اور ان سے اثرات کا تعلق بھی حکم خداوندی کے تابع ہے۔ جو بغیر لب و حرف کے خود بہ خود صادر ہوتا ہے۔ جس طرح چمن کے پودے اپنے خالق کا شکریہ ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ خاموش ہیں۔ لیکن پتے، پھل، پھول شکریہ ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ موسم بہار سے ان کی زبانوں کو گویائی عطا ہو جاتی ہے۔ ہائے آدمی۔۔۔! کہ اس شکر سے بے بہرہ ہے۔ کیونکہ لذت دہن نے اسے برباد کیا ہے ۔ اسی لئے تو زبان درازیوں میں مصروف ہے۔ اور فضول بولنے سے تو انسان کے بس عیب و ہنر ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جو سراسر نقصان ہے۔
زبان درازی سے اپنی اصلاح بہتر ہے۔ انسان اپنی لچھے دار زبانوں پہ ناز کرتے ہیں۔ حالانکہ ہماری زبانیں تو معانی سے خالی ہیں۔ ہم اپنی زبان درازیوں سے خریدار ڈھونڈتے ہیں۔ لوگ ہماری زبان فراخی کی وجہ سے جھوم رہے ہیں ۔ جبکہ اصل میں اپنی عمریں برباد کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی کی زبان درازی پہ واہ واہ کرنا یا کروانا مٹی کے ڈھیلے پہ نقش و نگار کرنا ہے۔ جو کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ کاش کہ کبھی ہم سے ہماری زبان چھوٹ جائے۔ جب تک یہ ناقص طوطی بولے گی، اصلاح نا ممکن ہے۔ حدیث میں آیا ہے ، ’’ جس شخص نے اللہ رب العزت کی معرفت حاصل کی ، اس کی زبان بند ہوگئی‘‘۔ اللہ کی معرفت کے آگے گویائی عاجز ہے۔
کج فہم و کج دل کی زبان بھی کج ہے۔ جس طرح اندھے کی لاٹھی اس کے اندھے پن کی دلیل ہے۔ زبان دراز اور زبان درازی کے مدعی راہ حق میں ذلیل اور حقیر ہیں۔ ممکن ہے کہ زبان درازی کی شان و شوکت بہت ہو، لیکن اس کا مدعی بالکل حقیر ہے۔ اہل زبان کی مثال ابر کے پانی کی سی ہے۔ اور زبان درازوں کی مثال پر نالے کی طرح۔ ابر کے پانی سے زمینیں سیراب ہوتی ہیں اور پرنالے کے پانی سے پڑوسیوں سے جھگڑا ہوتا ہے۔
جب انسان کی زبان لومڑی کی زبان میں ڈھل جائے تو سمجھو کی اس کا دل بھی کسی لومڑی یا بندر کے دل سے کم نہیں۔ شکل و صورت اور حسن و خوبی سے ذیادہ معتبر زبان ہے۔ کیونکہ زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے۔ اور جن کی زبان مسخ شدہ ہے، ان کے دل بھی ممسوخ ہیں۔ جسمانی ممسوخیت سے تو لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں کیونکہ ظاہری ممسوخیت سے اہل زبان اور اہل دل پہ کوئی عیب نہ آیا ہے اور نہ آئے گا۔ لیکن جو باطناٌ ممسوخ ، عہد شکن اور گستاخ ہیں، وہ سور اور گیدڑ بنے ہمارے ارد گرد گھومتے پھرتے ہیں۔ اور زبان درازیوں میں مصروف ہیں۔
زبان احتیاط کا نام ہے۔ اور احتیاط کے بھی مراحل ہیں اور مرتبے ہیں۔ اگر کوئی فاسق و فاجر و کاذب زبان چلائے تو احتیاط فرض ہے۔ اور اگر اہل زبان، معتبر، نیک لب کشا ہو تو احتیاط جائز ہے۔ اور اگر اہل دل یا اہل اللہ خموشی توڑے تو احتیاط برتنا حرام ہے۔ صحیح زبان کو سننے والے سخن فہم ہوں تو اہل زبان کا دل کِھلتا ہے۔ اور اگر برعکس ہو تو نکتے فرار اختیار کرتے ہیں۔ اہل زبان اسرار و حکم کے وارث ہیں۔ زبان سے حکمت اور دانائی کی باتیں کانوں کے ذریعے روح تک پہنچتی ہیں۔ اس طرح زبان خدا وند تعالی کی رحمت خاص ہوئی۔زبان کی مثال زمین کی ہے اور صحیح بات کی مثال فصل کی، کہ مقصود زمین نہیں بلکہ فصل ہے۔ مگر زمین مقصود کے لئے مددگار ہے۔
زبان ایک راز ہے کہ کھل گئی تو کچھ نہیں اور اگر بند ہے۔ تو سیپ میں موتی کی مانند ہے۔ زبان کا عقل کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ جو لوگ عقل نہیں رکھتے وہ دیوانگی میں بے ترتیب زبان چلاتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کسی کے ہوش و حواس گم ہو گئے ہوں۔آج کل لوگ سننے کے اہل نہیں۔ در اصل سچی اور واضح بات انسان کا کردار ہے۔ یعنی مغز ہے۔ اور جو اپنے جسم کے چھلکے کے ارد گرد گھوم رہا ہو اسے کیا معلوم کہ مغز کیا ہے۔ مغز ہی تو سمع و بصر ہے۔مغز نہیں تو فقط کھڑکھڑاہٹ ہے۔ اور کھڑ کھڑاہٹ صرف چھلکے کی ہوتی ہے۔ چھلکا ٹوٹ گیا تو کھڑ کھڑاہٹ بھی ختم۔
بد زبان کی زبان اس کی گدی سے کھینچنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ نقصان دہ ہے۔دیوانے سے ہتھیار چھین لینا عدل اور نیکی ہے۔ جب تک غلط کاری کے لئے کسی کے پاس سبب ہے ، وہ اس کا استعمال ضرور کرے گا۔ بد زبان کی زبا ن سے کوئی کلمہ نکلنا گویا زہریلے سانپ کا بل سے نکلنا ہے۔ زبان درازی کی حد تو یہ ہے کہ دل میں عداوت رکھتے ہوں اور زبان پر تعریف ہو۔
بر زبان تسبیح در دل گائو خر
ایں چنیں تسبیح کہ دار د اثر
ایسی زبان تعریف تو کرتی ہے مگر ان کے دل شکر گذاری سے خالی ہوتے ہیں۔ ایسی زبان کا جگ میں کوئی خریدار نہیں۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی زبان طوطی کی طرح ہوتی ہے، مگر باطن میں زہریلے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ بظاہر ترش رو ہوتے ہیں مگر ان کے باطن محبت سے بھرے ہوتے ہیں۔ انسان کی زبان سے اس کے قلب و دماغ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ زبان کی اچھائی یا برائی کا معیار اس کا کلام ہے۔ جو زبان گنے کی طرح میٹھی ہو وہ بہتر ہے اور جو دتورے اور نرکل کی طرح کڑوی ہو وہ خراب ہے۔
اہل زبان کا ہتھیار خاموشی ہے۔ اہل زبان کی مثال سمندر کی طرح ہے۔ کہ خاموش ہے اور جب ابل پڑتا ہے تو اسی سے ہزاروں نہریں پھوٹتی ہیں۔ یہ لوگ گفتگو نہ بھی کریں تب بھی فصیح و بلیغ ہوتے ہیں۔ بقول اقبالؒ
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زبان میری
زبان وہ ہے جس کی تائید عمل کرے۔ ورنہ کافر بھی تو اللہ کے وجود کا زبانی اقرار کرتے ہیں۔ مگر عمل یہ کہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ سچی زبان کڑوی نہیں ہوتی۔ سچی زبان کا ڈنک بھی شہد کی طرح ہوتا ہے۔ سچی زبان سے گھر روشن ہوتے ہیں۔ اور گندی اور جھوٹی زبان سے قومیں تباہ ہوتی ہیں۔ سچی زبان عقل کا آئینہ ہوتی ہے۔ گندی اور جھوٹی زبان عقل کب جنتی ہے۔
صحیح زبان نور ہے ۔ اہل زبان کے دہن سے نکلی ہوئی بات ایسی ہے جیسے انگور کے شیرے میں کوئی چیز ڈال کے اسے جوش دیا جائے ، تو اس میں بھی انگور کے شیرے کا ذائقہ آتا ہے۔ اہل زبان کی فصاحت و بلاغت تو ابر کا پانی ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے۔ لیکن پرنالے کا پانی مستعار ہوتا ہے۔ زبان بلال ؓکی آواز بھی ہے جسے نبی برحق ﷺ اکثر کہتے تھے ، ’’ اے بلال۔۔۔! اپنی آواز سے ہمیں راحت پہنچا‘‘ ایک ایسی زبان جس کی مٹھاس سے آدم ذادبے ہوش ہو جاتے تھے اور جس کے حسن سے حضور ﷺ مد ہوش ہوجاتے تھے۔ کسی کی زبان اللہ کے آگے مقبول ٹھہرتی ہے کہ اس کی عبادت اور حال میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ اور جس کی زبان فرعون اور ابو جہل کی زبان ہو، اس کے عمل اور حال میں تضاد ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ سراسر کذب اور گمراہی ہے۔
اپنی زبان کے غلط استعمال پہ افسوس کرو۔ کہ اسے چاہے نقل یا شیخی کے طور استعمال کرو ، ہر حال میں نقصان دہ ہے۔ کیونکہ لفظ کے منہ سے نکلنے سے کبھی کبھی بہت نقصان ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر زبان باریک دینی مسائل، دقیق توحید و رسالت تک کو تاریک دل عوام کے سامنے پیش کرے تو تباہی اور بربادی کا سبب بنتا ہے۔ دل کے اندھوں کے سامنے اسرار کی زبان استعمال کرنا فساد ہے۔ کبھی کبھی ایک بات جہاں کو ویرانہ بنا دیتی ہے۔ زبان آگ بھی ہے اور خرمن بھی۔ سراسر نقصان ۔ راہبر بھی اور قاصد بھی۔ سراسر کامیابی۔ جس نے زبان کے صحیح استعمال کو جانا اس نے کامیابی پائی اور جو شور و غل کا ذریعہ بنا، وہ خود بھی تباہ ہوا اور اپنے ساتھ ہجوم کے ہجوم بھی لے گیا۔