کشتواڑ // مرکزی مجلس شوریٰ ضلع کشتواڑ کا ہنگامی اجلاس امیر مجلس کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس دوران چھاترو میں کزشتہ روز جاوید حمد کی ہلاکت پر زبردست تشویش کا اظہار کیا کیا، مجلس شوریٰ نے کشتواڑ پولیس کی جانب سے جاوید احمد کی حراستی قتل کو انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوے انسانی حقوق کی علمبرداروں سے فوری مداخلت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مجلس نے ایس ایچ او چھاترو اور تھانہ منشی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ریاست گیر احتجاجی مظاہرے شروع کئے جائیں گے۔ مجلس شوریٰ نے کہا کہ نا معلوم وجوہات کی بناء پر چھاترو اور دیگر علاقوں میں بھی پولیس اہلکاروں نے دہشت مچاررکھی ہے۔لوگوں کو گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ سراسر مقامی پولیس کی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے ،لوگوں کو بلاوجہ گرفتار کرنے کیلئے پولیس اہلکاروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔مجلس نے کہا کہ اگر جلد از جلدمعاملہ کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تواس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور مقامی حکام کی ہوگی۔