بانہال // رہبر تعلیم اساتذہ کی دو روزہ ہڑتال کی کال کی وجہ سے ضلع رام بن کے مختلف تعلیمی زونوں میں منگل کو دوسرے زور بھی مختلف پرائمری سکول مقفل پائے گئے جبکہ دیگر کئی سکولوں میں تعلیمی کام کاج متاثر رہا ۔رہبر تعلیم اساتذہ گذشتہ دو روز سے ا±ن کے حق میں ابھی تک ساتویں پے کمیشن کو لاگو نہ کئے جانے پر احتجاج پر ہیں ۔ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ سرکاری حکم نامے کے مطابق پانچ سالہ تسلی بخش سروس انجام دینے کے بعد رہبر تعلیم اساتذہ کوجنرل لائن ٹیچر تصور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آج تک ا±ن کو مستقل ہونے کے بعد چھٹے پے کمیشن کے علاوہ ریاست کے دیگر تمام سرکاری ملازمین کے ساتھ ہر مراعات دی گئی لیکن آج نامعلوم وجوہات کی بنا پر ا±ن کے حق میں ساتویں پے کمیشن کا اطلاق نہیں کیا گیا ۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز فورم کی طرف سے دی گئی کال کے تحت سرینگر کے ناظم تعلیم کے دفتر پر اساتذہ دھرنے پر تھے اور عید کی نماز وہ طور احتجاج سرینگر کی پرتاب پارک میں ادا کرنے جا رہے ہیں۔ فورم عہدیداران کے مطابق عید کے روز اس احتجاج میں ریاست کے مختلف اضلاع سے اساتذہ شرکت کر نے جا رہے ہیں۔ا±نہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ چار مہینوں سے وہ سراپا احتجاج ہیں لیکن سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سرکار سے لیکر اب گونر انتظامیہ تک اس بارے میں زبانی یقین دہانیوں کے سوا ابھی تک کوئی بھی پیش رفت سامنے نہیں آ رہی ہے ۔ رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کے صوبائی صدر آفتاب ملک ،فورم کے ریاستی میڈیا انچارچ مظفر احمد ، ضلع صدر رام بن فاروق رونیال،نائب ضلع صدر سیوا سنگھ ،تیرتھ سنگ بلوا ل، جنرل سیکریٹری شفقت نثار و دیگر عہدیداران نے ایک مشترکہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اگر ا±ن کے مطالبات خاص طور پر ساتویں پے کمیشن کو فوری طور پر لاگو نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے۔ ا±نہوں نے کہا کہ فورم کی طرف سے دو روزہ ریاست گیر ہڑتالی اور سکولوں کو بند کرنا انکی مجبوری بن گیا ہے اور مسئلہ حل ہونے تک رہبر تعلیم ٹیچر پرامن احتجاجی سلسلے کو جاری رکھنے پر مجبور ہیں ۔