جنگ زدہ علاقوں سے شہریوں کی بحفاظت انخلا پر اتفاق
بیلاروس// روس اور یوکرین کے سفارت کاروں کے درمیان بیلا روس کی سرحد پر ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور اختتام پذیر ہوگیا جس میں ایک اہم نکتے پر فریقین نے اتفاق کرلیا۔ روس اور یوکرین کے سفارت کاروں کے درمیان امن مذاکرات کے دو دور مکمل ہوگئے۔ بیلا روس کی سرحد پر ہونے والی بات چیت کے دوران فریقین جنگ زدہ علاقوں سے شہریوں کے بحفاظت انخلا کے لیے محفوظ راہداری بنانے پر راضی ہوگئے۔اس حوالے سے یوکرینی صدر کے مشیر میخائیلوپوڈولایاک کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ہماری جانب سے دو نکات عمومی جنگ بندی اور عارضی صلح پیش کیے گئے جس پر اتفاق نہیں ہوسکا تاہم بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔یوکرین کے صدر کے مشیر نے مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق بتایا کہ فریقین شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے بعض مقامات پر ممکنہ عارضی جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں تاکہ شہریوں کے انخلاء کی اجازت مل سکے۔مشیر میخائیلوپوڈولایاک نے مزید بتایا کہ ممکنہ عارضی جنگ بندی بعض مقامات پر انسانی راہداری بنانے کے لیے ہوگی ۔
یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر روس کا قبضہ
حملے کے دوران پلانٹ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی
کیف//یو این آئی// یوکرینی حکام نے یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر روسی قبضے کی تصدیق کردی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی فوج نے یورپ کے سب سے بڑے زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کرلیا ہے ، جس پر حملے کے دوران خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے ۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمتری کُلیبا نے جوہری پلانٹ پر حملے اور قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ روسی فوج یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ این پی پی ہر طرف سے گولی باری کر رہی ہے ۔ آگ پہلے ہی بھڑک چکی ہے ، اگر اسے نہ روکا گیا تو یہ چرنوبل حادثہ سے 10 گنا بڑا ہو جائے گا۔ روسیوں کو فوراً آگ بند کرنا چاہیے ، ‘فوری طور پر، فائر برگیڈ کو اجازت دینا چاہیے ۔یوکرینی حکام نے کہا کہ پاور پلانٹ پر قبضہ ہوچکا ہے لیکن جوہری پلانٹ کو تاحال یوکرین کے لوگ ہی آپریٹ کررہے ہیں۔ روسی فوجیوں نے ٹینکوں کی مدد سے شہرمیں داخل ہونے اور جوہری پلانٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں نے یوکرین کے فوجیوں اور مقامی رہائشیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔