ماسکو//یو این آئی// روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے باوجود روس اور چین نے گیس کی باہمی تجارت میں ڈالر کی چُھٹی کرا دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق روس اور چین نے خطے میں باہمی تجارت سے ڈالر کے عمل دخل کا خاتمہ کر دیا، دونوں ممالک نے اپنی کرنسی میں گیس کی ادائیگیوں کا معاہدہ طے کر لیا۔روسی گیس کمپنی گیزپروم کا کہنا ہے کہ اس نے چین کو گیس کی فراہمی کے لیے امریکی ڈالر کی بجائے یوآن اور روبل میں ادائیگیاں شروع کرنے کے لیے چین کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔روسی گیس کمپنی گیز پروم کے سربراہ نے چینی آئل گروپ کے سربراہ کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کی، جس میں گیز پروم کے سی ای او نے کہا کہ یہ معاہدہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان بہترین تعلقات کی علامت ہے ، جو دوسری کمپنیوں کے لیے بہترین مثال بن جائے گا۔خیال رہے کہ روس مغربی پابندیوں کے درمیان امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دے رہا ہے ۔گیز پروم کے سی ای او الیکسی ملر نے چین کے آئل گروپ CNPC کے سربراہ ڈائی ہولیانگ کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ادائیگی کا نیا طریقہ کار باہمی طور پر فائدہ مند، بروقت، قابل اعتماد اور عملی حل ہے ۔ملر نے مزید کہا کہ یہ حساب کو آسان بنا دے گا اوردوسری کمپنیوں کے لیے ایک بہترین مثال بن جائے گا۔ادھربائیڈن انتظامیہ وفاق سے مالی اعانت سے چلنے والی امریکی ٹیک کمپنیوں پر 10 سال کے لیے چین میں “جدید ٹیکنالوجی” کی سہولتوں پیداپر پابندی لگائے گی۔یک رپورٹ کے مطابق، یہ رہنما خطوط 50 بلین ڈالر کے منصوبے کے حصے کے طور پر متعارف کرائے گئے ہیں جس کا مقصد مقامی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی تعمیر ہے ۔یو ایس کامرس سکریٹری جینا ریمنڈو نے یو ایس چپس اینڈ سائنس ایکٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، “ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی گارڈنگ نافذ کرنے جا رہے ہیں کہ جو لوگ چپس کے فنڈز وصول کرتے ہیں وہ قومی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے ۔ دس سال کی مدت کے لیے ۔”انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں کو پیسہ ملتا ہے وہ صرف چین میں اپنی فیکٹریوں کو بڑھا سکتی ہیں تاکہ چینی مارکیٹ کی خدمت کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب تجارتی گروپ چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش میں مزید حکومتی امداد کے لیے زور دیتے ہیں۔ انہیں عالمی مائیکرو چِپ کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پیداوار میں کمی آئی ہے