رمضان المبارک کا مہینہ خیر وبرکت مہینہ ہے۔ایمان وعبادت کا مہینہ ہے۔مسلمان کو مسلمان بن کر اور اپنے اعمال کو خدا کی جوشنودی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کا مہینہ ہے۔دولت مند کو اپنی دولت مندی کے ذریعے خدا کو راضی و خوش کرنے کا، اور غریب کو اپنی غریبی کے باوجود نیک عمل کرنے کا مہینہ ،یہ مہینہ آتا ہے تو فضا کو پر نور بنا دیتا ہے۔اہل ایمان میں مسرت کی لہر دوڑ ادیتا ہے۔ مسلمانوں کی صبح وشام کو عجیب رونق سے پر رونق بنا دیتا ہے۔بڑے عمر کے لوگ خلوص کے ساتھ نیکی پر کار بند ہوتے ہیں۔ چھوٹی عمر کے افراد اس ماہ کی پر لذت افطاری سے سرور ولطف حاصل کرتے ہیں۔ فجر کی سحریاں اور اس کے غروب وشمس کی افطاریاں اس کی راتوں کا ذکر و عبادت ،اس کے دونوں کی تلاوت سب اس ماہ کی رونق کو دوبالا بناتی ہیں۔پھر ان سب باتوں پر حاصل ہونے والا اجر ہر مومن کے دل کو سکون میسر کردیتا ہے کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس پر مخصوص اجر دینے کا وعدہ ہے۔رمضان کا روزہ در حقیقت مختلف قسم کے اعمال کرنے کا مجموعہ ہے۔اس میں مسلمان کو اپنے پرودگار کی رضا کی طلب میں اپنے نفس کو مارنا پڑتا ہے۔اس میں ا?خرت کے اجر کے لئے اپنے مال کی صرف کرنے کا،اپنے پروردگار کی یاد کو دل میں جگانے کے لئے نماز و تلاوت کا خاص موقع ملتا ہے۔اپنی زبان کو خوبی اور نیکی کا پابند بنانے کا ماحول ملتا ہے۔اپنے وقت کو ستھر ے اورپاکیزہ کام کے ساتھ وابستہ کرنے کا داعیہ ملتا ہے اور نیک عمل کرنی کی توفیق ملتی ہے۔
رمضان المبارک میں اللہ تعالی کے حکم سے شیاطین قید کردئے جاتے ہیں۔شیاطین جن کاکام بس یہ ہے کہ وہ انسانوں کو اچھے کاموں سے دور رکھیے اور برے کاموں کے سبز باغ دکھائیں۔اس ماہ میں اپنے اس ظالمانہ اور گندے کام سے روک دیئے جاتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں نیکی کرنے والوں کو نیکی کرنے کی آسانی ہوتی ہے اور برائی اختیار کرنے والوں کی طرف مائل ہونے میں اتنا داعیہ نہیں باقی رہتا جتنا غیر رمضان میں ہوتا ہے۔ہر انسان نفس ونفسیات سے بھی مرکب ہے،انسان کا نفس لذت کوش اور راحت طلب ہوتا ہے اس میں طمع کا مادہ بھی ہوتا ہے اور خود غرضی کا جذبہ بھی ہوتا ہے،زندگی کی بہت سی برائیوں کو اختیار کرنے میں انسان کا نفس متحرک بنتا ہے اس میں شیطان کی کوشش پر ہی انحصار نہیں ،شیطان اس میں صرف بڑھاوا دیتا اور طاقت پہونچاتا ہے اور مزید بڑی برائیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور ان میں معاونت کرتا ہے۔ رمضان میں جو برائیوں کی جاتی ہیں وہ اس لئے کم ہوتی ہیں کہ وہ صرف نفس کے اثر سے ہوتی ہیں ان کو شیطان کا سہارا نہیں ملتا۔لیکن انسانی نفس بعض انسانوں میں اور بعض موقعوں پر اتنا قوی اور موٹا ہوجاتا ہے کہ اس کو اپنے برے اقدامات کے لئے شیطان کے سہارے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی ،یہ نفس رمضان کے مہینہ میں بھی اپنا کام کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالی نے روزہ میں یہ بھی اثر رکھا ہے وہ نفس کو کمزور کردے اور اس کو اس کے برے اثرات سے روکے اور اس کے اثر کو کم کردے کیونکہ روزہ در حقیقت نفس کے خراب اثر کو توڑنے کا عمل ہے،انسان کا پیٹ جب خالی ہوتا ہے اور پیاس کا احساس ہوتا ہے تو برائیوں کی طرف اس کا رجحان کمزور پڑجاتا ہے،انسان میں بھرے پیٹ کے ساتھ غلط کاموں کی طرف جو میلان ہوتا ہے وہ خالی پیٹ میں اور انسانی خواہش کی عدم تسکین کے موقع پر نہیں ہوتا اسی لئے رسول اللہؐ نے ایسے شخص کو جس کو نفسانی خواہش زیادہ ہوتی ہو لیکن اس کے پاس ازدواجی زندگی اختیا کرنے کی ملی سکت نہ ہو روزے رکھنے کی تلقین فرمائی تاکہ وہ اپنی خواہش پر غالب آسکے اوراس کی خاطر غلط کام میں مبتلا نہ ہوجائے۔روزہ کی ساخت اللہ تعالی نے ایسی بنائی ہے کہ وہ نیکیوں کی راہ بناتا ہے اور گناہوں کی راہ روکتا ہے لیکن روزہ کے اثرات اور اس کی نیک فضا اسی وقت اپنا عمل کرتی ہے جب روزہ کو اس کے آداب اور اس کی مقرہ احتیاطوں کے ساتھ رکھا جائے وہ خدا کے لئے ہو ،اپنے کس مادی یا خود غرضانہ مقصد کے لئے نہ ہو روزہ میں جو باتیں ممنوع قرار دی گئی ہیں ان سے پورا پرہیز ہو اور روزہ کی فضا کو قائم کرنے کے لئے جو اعمال بتائے گئے ہیں وہ اختیار کئے جائیں۔روزہ یوں ظاہر میں فجر کے وقت سے غروب آفتاب کے وقت تک کھانے پینے اور ازدواجی عمل سے بچنے کا نام ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جھوٹ،غیبت سے اور زبان وہاتھ کے دوسرے گناہوں سے پورا پر ہیز کا نام بھی ہے۔چناچہ حدیث میں ا?یا ہے کہ’’کسی نے روزہ رکھا اور کھانے سے پر ہیز کیا لیکن غیبت ،جھوٹ جیسے کاموں سے پرہیز نہیں کیا تو اس کو کیا ضروت تھی کہ وہ بھوکا پیاسا رہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے شخض کا روزہ بیکار گیا ‘‘۔روزہ کو اللہ تعالی نے نیکیوں کا موسم بنایا ہے اس میں جس قدر نیکی کرنے کی صورتیں بنتی ہیں دوسروے اعمال میں مشکل سے بنتی ہیں۔اس میں تو خود روزہ ایک بڑا عمل ہے پھر اس میں نماریں، تلاوت قرا?ن پاک ہے۔غریبوں کی مدد ہے اور باقید ہر وقت کھانے پینے سے روک ہے اور مومن کی کیفیت اپنانے کا موقع ہے۔اس میں نیکی کرنے کا ثواب ستر گنا کردیا گیا ہے۔غیر رمضان میں کی جانے والی ایک نیکی اور رمضان میں کی جانے والی ایک نیکی ثواب میں ایک اور ستر کا فرق ہے۔
پھر رمضان میں روزہ رکھنا چونکہ تمام مسلمانوں پر بیک وقت ضروری کیا گیا ہے اس لئے مسلمانوں کے معاشرہ میں اس پوری مدت میں ہر طرف ایک ہی فضا بن جاتی ہے اور وہ فضا نیکی کی،ہمدردی کی،نرمی کی ،آخرت طلبی کی،احتیا ط وعبادت کی فضا ہوتی ہے۔اسی لئے رمضان میں ان لوگوں کو جن کو بیماری یاسفر کے عذر کی وجہ سے روزہ موخر کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان کو بھی یہ منع ہے کہ وہ بر سر عام نہ کھائیں۔ان کو حکم ہے کہ سب سے علاحدو جگہ ایسا کریں تاکہ روزہ کی فضا متاثر نہ ہو۔رمضان دراصل نفس کو قابو کرنے اور اس کی بری طاقت کوکمزور کرنے کا ایک سالانہ تربیتی نظام ہے اس نظام سے ہرمسلمان کو سال میں ایک مرتبہ گذرنا پڑتاہے۔ضروت ہے کہ جس طرح ہم زندگی کی ضرورت کے لئے کسی بھی سالانہ تربیتی کیمپ یاتربیت گاہ میں وقت توجہ و عمل کے ساتھ گذارتے ہیں رمضان کے اس نظام میں بھی اس کے ا?داب اور احکام کے مطابق وقت گذارا کریں تاکہ ہم اس سالانہ تربیت گاہ سے پوری طرح کامیاب ہو کر اور ایک صالح اور سچے مسلمان بن کرنکلا کریں۔روزہ کی افادیت اور اس کی اہمیت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے دوسرے اعمال کے مقابلہ میں اس سے اپنی پسندزیادظاہر کی ہے۔چناچہ حدیث مبارک ہیں کہ’’حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہؐنے روزہ کی فضیلت اور قدر قیمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھایا جاتا ہے مگر اللہ تعالی کا ارشاد وے کہ روزہ اس عام قانون سے مشتسنی اوربالاتر ہے وہ بند ہ کی طرف سے خاص میرے لئے ایک تحفہ ہے اور میں ہی (جس طرح چاہوں گا)اس کا اجر ثواب دوں گا۔میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہش نفس اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے پس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی اس قربانی اورنفس کشی کا صلہ دوں گا۔(باب صیام۔صحیح بخاری)۔اللہ تعالی ہم سب کو رمضان اور اس کے روزوں کی قدر کرنے کی توفیق دیں۔(آمین)
رابطہ :رعناواری سرینگر،9103654553