حضرت بل اور خانقاہِ معلی میں اژدہام، بازاروں میں گہماگہمی
سرینگر//رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ کے موقع پر وادی کشمیر کی مساجد اور درگاہوں میں عقیدت مندوں کا غیر معمولی ہجوم دیکھا گیا۔ نمازِ جمعہ اور خصوصی دعاؤں کے لیے ہزاروں افراد نے تاریخی عبادت گاہوں کا رخ کیا، جس سے پورا ماحول روحانیت اور عقیدت سے معطر ہو گیا۔درگاہ حضرت بل،اثار شریف شہری کلاشپورہ،جناب صاحب صورہ میں بھی عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا جہاں لوگوں نے روزے کی حالت میں نمازِ جمعہ ادا کی اور ملک و ملت کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ قدیم شہر میں واقع خانقاہ معلی سرینگر،اور دیگر مرکزی مساجد میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔
وادی کے دیگر اضلاع میں بھی فرزنداں توحید نے مساجدوں میں حاضری دی جبکہ کعبہ مرگ، آثار شریف پنجورہ شوپیاں، حضرت زین الدین ریشیؒ عشمقام، بابا پیام الدین ریشیؒ ٹنگمرگ، شیخ نور الدین نورانیؒ چرار شریف، سمیت دیگر خانقاہوں اور مساجدوں میں نماز جمعہ پر عقیدتمندوں نے آہ وزاری کی اور گناہوں کی مغفرت کیلئے دعائیں مانگیں۔رمضان کے تیسرے جمعہ کو وادی میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ نمازیوں کی سہولت کے لیے کئی مقامات پر وضو اور صفائی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے اقدامات بھی کیے گئے۔ادھر مساجد کے اطراف بازاروں میں بھی غیر معمولی گہماگہمی دیکھی گئی۔ افطار کے لیے روایتی اشیائے خورد و نوش، کھجوریں، پھل، پکوان اور مٹھائیاں خریدنے والوں کا رش رہا۔ پرانے شہر کے بازاروں، لال چوک اور دیگر تجارتی مراکز میں دکانداروں نے رات گئے تک کاروبار جاری رکھا۔بعض مقامات پر پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ماحول دوست اقدامات کی بھی اپیل کی گئی تاکہ عبادت کے اس مقدس مہینے میں صفائی اور نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔