ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کے بارے میں ﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ ۔٭اﷲ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں سے رسولؐ کو بھیجا۔٭تمہارے پاس نور آیا اور روشن کتاب آئی۔ ٭اے پیا ر ے نبیؐ!ہم نے آپؐ کو شاہد بنا کر بھیجا۔
قرآن پاک کے عنو انات کو دیکھیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے ،بھیجے جانے ،مبعوث ہونے ،جلوہ گر ہونے کے لیے کیسے کیسے عنوانات ﷲتعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمائے ہیں۔ ان سے حضورؐکے تشریف لانے کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ایک مقام پر فرمایا گیا :نبی کریمؐ کی ذاتِ مقدسہ تمام کائنات کے لیے رحمت ہے اور حضور ؐتمام عالمین کے لیے ہدایت و رحمت بن کر تشریف لائے۔حضور ؐکا ارشاد ہے’’مجھے حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا۔‘‘
محسن انسانیتؐ نے ان اخلا قِ فاضلہ پر بطریق احسن عمل کرکے دکھایا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر محمد رسول اللہ کے بجائے محمدبن عبداللہ کے لکھے جانے پر راضی ہوجانا، امیر حمزہ ؓکے قاتل وحشی کو معاف کردینا۔ ہندہ کو عفو ودرگزر سے نوازنا، اپنے جانی دشمن ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کونادم ہونے، بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے پر کمال شفقت سے پیش آنا، مشرکین کی سنگ باری سے زخمی ہونے پر بددعا کے بجائے خدایا میری قوم کو ہدایت عطا فرما کہ وہ جانتے نہیں، کے الفاظ سے ان کے حق میں دعا کرنا، جنگ میں بوڑھوں، عورتوں اور بچوں سے نیک سلوک کی تلقین کرنا،بیوگان اور یتامیٰ اور مساکین کا خیال رکھنا،مزدوروں کی مزدوری ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکرنے کی تاکید فرمانا، آپؐ کے خلق عظیم کی وہ روشن مثالیں ہیں، جن کی نظیر تاریخ عالم پیش کرنے قاصر ہے۔
نبی آخرا لزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہر ایک کے لیے ایسا روشن نمونہ ہے کہ جس پر چل کر اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو سکتی اورانسان دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ نمونہ اس چیز کو کہا جاتا ہے جسے سامنے رکھ کر دوسری چیز کواُس کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ بہترین نمونہ ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہؐ کی حیات مبارکہ کو اپنے سامنے رکھ کر اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا جائے اور ہر معاملے میں آپؐکی اطاعت و فرماں برداری کی جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’حقیقت میں تمہارے لئے رسول اللہؐ (کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہ (حیات) ہے ،ہر اس شخص کے لئے جو اللہ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے۔‘‘(سورۃ الاحزاب، آیت:۲۱) قرآن کریم کی اس آیت میں وجہ تخلیق کائنات ،فخر موجودات محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰؐ کی حیاتِ طیبہ اور آپؐ کے بے مثال اسوۂ حسنہ کو بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔
ہر اس شخص کے لئے جسے اس بات کا احساس ہو کہ ایک دن میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گا، اس سے ملاقات کروں گا اوروہ مجھ سے میرے اعمال کی باز پُرس فرمائے گا، میرا حساب و کتاب لے گا اور یہ احسا س بھی اسی شخص کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا اوراسے خوب یاد کرتا ہو۔ آیت میں عموم ہے، یعنی تم سب کے لیے،چاہے تمہارا تعلق انسانیت کے کسی بھی طبقے سے کیوں نہ ہو، امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر ، امام ہو یامقتدی ،منصف ہو یا مدّعی ،خطیب ہو یا طبیب، معلّم ہو یا متعلّم،روزے دار ہو یا شب بیدار، مجاہد ہو یا سپہ سالار، تاجر ہو یا خریدار، نوجوان ہو یا بزرگ، بچہ ہو یا یتیم، شوہر ہو یا باپ۔
بہرحال تاریخ گواہ ہے کہ جب تک امتِ محمدیہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت و سیرت کواپناآئیڈیل بنائے رکھا، کامیابی وکامرانی اور عزت و وجاہت کی منزلیں طے کرتی چلی گئی اور جہاں حضور اقدسؐ کی سنت و سیرت سے اعراض کیا، غیروں کی نقالی اور مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے پستی اور تنزلی کی گھاٹیوں میں جاپڑی اور اپنا سارا رعب و دبدبہ گنوا بیٹھی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو غیروں کی نقّالی و مشابہت سے بچا کر اپنے پیارے حبیبؐ کی سنت وسیرت کو اپنانے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)