بانہال//بانہال اور رام بن کے سیکٹر میں جموں سرینگر فور لین شاہراہ پروجیکٹ کے ساتھ رہنے والے کئی گاں والوں نے فورلین شاہراہ کی تعمیراتی کمپنیوں کے خلاف احتجاج کیا اور تعمیراتی کمپنی سی پی پی پی ایل سے پچھلے دو سال سے شاہراہ کی تعمیر سے نکلنے والے ملبہ کیلئے لیز پر لی گئی ملکیتی اراضی کے معاوضے اور کرایہ کا مطالبہ کیا ہے۔ بانہال اور رام بن کے درمیان تلباغ ، شابن باس ، رتن باس ، طبیلہ ، چملواس ، رامسو اور ماروگ کے زمینداروں نے تعمیراتی کمپنیوں کی طرف سے ملبہ ڈال کر تباہ کی گئی اراضی میں احتجاج کرکے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کی ۔ مقامی زمینداروں کی قیادت ماسٹر عبدالغنی بہورو کر رہے تھے۔ ان نے نمائندوں کو بتایا کہ پہلے تعمیراتی کمپنی ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی نے شاہراہ کی کھدائی سے نکلنے والے ملبے کو ڈالنے کیلئے ان کی ملکیتی اراضی لیز پر لی تھی اور پہلے دو سال تک معاوضہ ادا کیا گیا تھا لیکن بعد میں ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی کو بلیک لسٹ کیا گیا اور نئی تعمیراتی کمپنی سی پی پی پی ایل کو رام بن بانہال کے درمیان شاہراہ کی تعمیر کا کام سونپا گیا لیکن اب تین سال سے لاکھوں روپئے کی معاوضے اور کرایہ کی رقم تعمیراتی کمپنی سی پی پی پی ایل کے ذمہ ہے کیونکہ معاہدے کے مطابق ایچ سی سی کے بلیک لسٹ ہونے کے بعد معاوضے کی یہ رقم جو قریب ایک کروڑ روپیہ ہے ، سی پی پی پی ایل سے لینا مطلوب ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام کی مداخلت کے باوجود ایچ سی سی کی طرح CPPPLبھی ٹال مٹول کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کروڑوں روپئے مالیت کی زمینیں، پھلدار اور غیر پھلدار درخت ملبے اور پتھروں سے تباہ کئے گئے ہیں اور اب تین سالوں سے کرایہ نہ دینے کی وجہ سے رام بن ، رامسو اور بانہال کے درجنوں زمینداروں کو شدید مشکلات میں ڈالا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایچ سی سی کے بعد ہماری زمینوں میں CPPPLکے ذریعے ڈمپنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن لیز پر لی گئی زمینوں کا معاوضہ اور کرایہ سی پی پی پی ایل سے واجب الاداہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے مالکان نے معاہدے کے مطابق HCCسے صرف دو سال کا زمین کا کرایہ اور معاوضہ وصول کیا ہے لیکن HCCکے بے دخل ہونے کے بعد CPPPLگزشتہ کئی سال سے زمین کے مالکان کو زمین کا معاوضہ ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ رام بن اور نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے اپیل کی ہے کہ وہ رام بن ۔ بانہال کے غریب زمیندار کے معاملے میں فوری مداخلت کریں اور بقایا جات واگذار کئے جائیں۔ انہوں نے کہا شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے زمیندار اپنے بال بچوں کو لیکر شاہراہ پر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہو جائینگے۔