رام بن //ضلع کے مقامی گوجر لیڈروں نے بد نام زمانہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس میں اہم کارکن طالب حُسین کی گرفتاری کو سانبہ پولیس کی جانب سے ذاتی دشمنی حل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ منگل کے روز یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طبقہ کے لیڈروں نے کہا کہ کو ایس ایچ او پولیس اسٹیشن طالب کو ایک جعلی اور من گھڑت کیس میں ملوث کر رہاہے۔انہوں نے کہا کہ اپریل 2018 سے اسکے خلاف من گھڑت دلیلیں بنا نے کی کوششیں کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالب کو ہندو مسلم کے درمیان تفرق پیدا کرنے اور کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کے معاملہ کے نام پر رقم جمع کرنے کا بھی مبینہ الزام لگایا جا رہا ہے۔ ان لیڈروں نے مبینہ الزام لگایا کہ بی جے پی کے ممبر اسمبلی چودھری لعل سنگھ کے ایما پر ایس ایچ او پولیس اسٹیشن نے اُس پر پاکستانی ہونے کی لیبل لگا کر ایک جھوٹے کیس میں پھنسا رہی ہے۔گوجر لیڈروں نے مبینہ الزام لگایا کہ جنھوں نے کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس میں ملوث مبینہ ملزماں کے حمایتی طالب حسین کے خلاف سازشیں تیار کر رہے ہیںاور طالب کی گرفتاری کو اسی منصوبہ بند سازش کاایک حصہ قرار دیا ۔ان لیڈروں نے پولیس حراست میں طالب کو حراساں کرنے کی مذمت کی اور ریاست کے گورنر سے اس سلسلہ میں انصاف کی اپیل کی ہے۔