سرینگر//ڈلگیٹ سرینگر میں معروف ادیب اور کالم نویس راجہ بونیاری کی تازہ تصنیف ’شاردا پیٹھ‘ (تاریخ کے آئینے میں)کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ منگلوارکو ہوٹل شہناشاہ پیلس ڈلگیٹ میںنگینہ انٹرنیشنل اور کشمیر بُک پرموشن ٹرسٹ کے اشتراک سے تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت معروف ادیب ظفر اقبال منہاس نے انجام دی جبکہ معروف ادیب پرفیسر آفاق عزیز، نگینہ انٹرنیشنل کے چیف ایڈیٹر اور سرکردہ فکشن نگار وحشی سعید، نامور براڈکاسٹر و شاعر ستیش ومل اور راجہ نذر بونیاری ایوان صدارت میں موجود تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہواجس کی سعادت شبیر احمد ماٹجی نے حاصل کی جبکہ وحشی سعید نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ اس موقعہ پرستیش ومل نے ’شاردا پیٹھ ْ‘ پر تبصرہ پیش کیا جس کی کافی پذیرائی کی گئی۔ تقریب میں شاردا مشن سے وابستہ، سیو شاردا کمیٹی کشمیر کے بانی سربراہ رویندر پنڈتا ، جنہوں نے مذکورہ کتاب کا دیباچہ تحریر کیا ہے ،کا پیغام بھارتی ہریش نے پڑھ کر سنایا ۔ اپنے صدارتی کلمات میں ظفر اقبال منہاس نے راجہ نذر بونیاری کی زندگی کے مختلف جہتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے شاردا پیٹھ کو اُردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نذر بونیاری جیسا ادیب صدیوں میں جنم لیتا ہے ۔ پرفیسر آفاق عزیز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے راجہ نذر بونیاری کو مُبارکباد پیش کرتے ہوئے شاردا کی تاریخ کو سمجھنے کی ضروت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنے ماضی کے بارے میں جاننا ہوگا جبھی ہم اپنے حال کواچھی طرح سمجھ پائیں گے اورپھراسے اپنے مستقبل کے لئے محفوظ کر پائیں گے‘۔ انہوں نے راجہ نذر بونیاری کی ادبی خدمات کو بھی سراہا۔ تقریب کے دورن صف حاضرین میں موجود افراد نے بھی خیالات کا اظہار کیا جن میں اردو اور پنجابی کے معروف فکشن نگار خالد حسین ،اُردوو پہاڑی کے نامور ادیب اور افسانہ نگار ڈاکٹر جہانگیر دانش قابل ذکر ہیں ۔ آخر پر راجہ نذر بونیاری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یہ ایک ادنیٰ سی کوشش تھی جنہیں آپ کے پیار نے بلندی تک پہنچا دیا ۔ انہوں نے فرداًفرداً سبھی افراد کا تقریب کو کامیاب بنانے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔ تقریب میں معروف ادیب اورفکشن نگار نورشاہ،ادبی مرکز کمراز کے سیکریٹری محمد امین بٹ، معروف ادیب محمد عظیم خان، شیف ایڈیٹر شعبہ پہاڑی کلچرل اکادمی ڈاکٹر فاروق انوار مرزا، ایڈیٹر اردو اور ادیب محمد سیلم سالک، سرکردہ صحافی اور مدیر روزنامہ چٹان طاہر محی الدین ،نامور ادباء، جاوید شبیر، حسن انظر، پرویز مانوس ، نذیر مہدی، محمد اقبال ، شفیع احمد، اور ریسرچ سُکالر سبرینہ قابل ذکر ہیں ۔ تقریب کے میڈیا پارٹنر پہاڑی اخبار وائس آف ہلز تھا جبکہ نظامت کے فرائض زبیر قریشی نے انجام دئے۔