سیّد محمد مشرف شاہ
خدائے لم یزل کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت انسان کو دیا ہوا جسم ہے،جس کی نشو نما میں وہ ہر وقت لگا رہتا ہے۔اور اپنے جسم کے ساتھ ایک معمولی سا گھاس کا تنکا بھی نہیں لگنے دیتا۔مگر کیا ہم کبھی ان لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں کہ جن کو آدھا آدھا جسم ہی نہیں ہوتا ہے۔ایک ایک ٹانگ اور ایک ایک بازو یا دونوں بازو ہی نہیں ہوتے ہیں۔کیا ہمیں ان لوگوں کاکبھی خیال آتا ہے جن کے پاس قوت سماعت اور قوت بصارت ہی نہیں ہوتی ہے؟کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اتنی تکلیفوں کے ساتھ ان لوگوں کی زندگیاں کیسے گزرتی ہوں گی؟اگر ایک صحت مند انسان کو ذرا سی خروچ آجائے تو وہ سب کو بتاتا پھرتا ہے اور برداشت نہیں کر پاتا ہے مگر وہ معذور لوگ بھی تو ہوتے ہیں کہ جو اتنی تکلیفوں کے باوجود بھی آہ تک نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سے گلہ شکوہ کرتے پھرتے ہیں۔
یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ مشکلوں میں تو ان لوگوں کی زندگیاں گزر رہی ہیں۔ جن کو چلنے پھرنے میں کھانے پینے میں اور حتی کہ قضائے حاجت کے لئے بھی دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کو دو وقت کی روٹی کے لئے بھی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ ہم ذرا سوچیں کہ ان کواپنی بیوی اور بچوں کا خرچ چلانے میں کتنی ہی مصیبتوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہوگا۔اگر دیکھا جائے تو دنیا کے ہر مذہب کے اندر معذور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی پاسداری کی تلقین کی گئی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ حقوق اور حسن سلوک تو دور کی بات، انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے جو انسانی تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ ٹھیک ہے کہ عالمی یوم معذوری 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے مگر افسوس کہ یہ عالمی یوم معذوری بھی صرف نام کا رہ گیا ہے۔ جہاں اس دن معذور لوگوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور ان کی سماجی اور معاشی زندگیوں کے بارے میںرائے دی جاتی ہے وہیں اس طرح کے بے کس لوگوں کی طرف بہت کم دھیان دیا جاتا ہے۔
ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ہمارے ملک کے اندر بھی معذور طبقہ کے لوگوں کے لئے بہت سارے کام ہوئے اور متعدد اسکیمیں چلائی گئیں۔ لیکن حق بات تو یہی ہے کہ ہمارےیہاں پر ابھی بھی متعدد علاقے ایسے ہیں جہاں پر معذور طبقہ بہت پیچھے نظر آتا ہے۔انہیں علاقوں میں جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کا ایک گاؤں سلوتری ہے جو سٹی ہیڈ کواٹرز پونچھ سے تقریبا ً10 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہاں پر محلہ کھبی ناڑؔی وارڈ نمبر5کے محمد امین جن کی عمر تقریبا 40 سال ہے، اپنی دا ہنی ٹانگ میں پولیو کا شکار ہیں اور اس وقت دو لڑکے اور ایک لڑکی کے والد ہیں۔ اُسے ایک ہزار روپے ماہوار پینشن ملتی ہے جس کے حصول کے لئے اُسے جھلاس بینک جانا پڑتا ہے۔جس پر اُسے سفر پر کرایہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ وہ بھی کبھی کبھی دو دو یا تین تین مہینے بعد ملتی ہےاور اس دوران یہ محدودرقم متعلقہ بنک تک آنے جانےکےسفری کرایہ پر ہی خرچ ہوجاتی ہے۔ اسی سلسلے میں وہاں کے مقامی حاجی صادق نے کہنا ہے کہ جب ایک ہزار ماہانہ سے بیوی بچوں کا خرچہ پورا نہیں ہوتا ہے تو اُسےمانگ کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ محمد امین نے دو بار اسکوٹی کے لئے بھی سوشل ویلفیر دفتر میں درخواست دی مگر اس طرف کوئی خاص دھیان نہ دیا گیا۔اسی طرح محمد فاروق جن کی عمر تقریبا 36 سال ہے جو سن 2002 میں ایک مائین پھٹنے کی وجہ سے اپنی ایک ٹانگ گنوا بیٹھے اور اب پلاسٹک ٹانگ کے سہارے چلتے ہیں۔ انہیں بھی ابھی تک کوئی اسکوٹی اور وہیل چیئر نہیں ملی ہے۔ محلہ کھبی ناڑؔی کے ہی باشندہ محمد اعجاز (20 سال) سن 2018 میں بجلی کا جھٹکا لگنے سے شدید زخمی ہوئے اور جموں اور سرینگر میں علاج ِبسیار کے باوجود معذور ہوکر رہ گئے ہیں۔ اُس کے والد محمد یونس کاکہنا ہے کہ ابھی تک اعجاز کے علاج میں ان کا لگ بھگ آٹھ لاکھ روپے صَرف ہو چکا ہے اور ایک مہینےکے لئے دوائی اور پٹی وغیرہ پر بیس سے پچیس ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے۔اس کے باوجود بھی ان کے بیٹے کی صحت پر رتی برابر فرق نہیں پڑا۔وہ ااج بھی اُسی حالت میں ہے جیسے بجلی کا جھٹکا لگنے کے وقت تھے، انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق اعجاز کے جسم سے کرنٹ پاس نہیں ہوا ہے، جس کی وجہ سے جسم میں بیڈسور پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اعجاز کو کمر سے نیچے جان ہی نہیں ہے۔محمد یونس نے بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ان کے وارڈ میں جو ڈسپینسری ہے، اس سے تھوڑی سی ٹیبلٹس اور این ایس کی بوتل ملتی ہے۔الغرض ان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا معذوری کی زندگی جی رہا ہے لیکن اُنہیں کوئی مدد نہیں ملتی ہے۔ ملک میں جہاں پر برابری اور یکساں حقوق کی بات کی جاتی ہے، اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو یہ لوگ برابری سے کوسوں دور ہیں کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لئے کئی فلاحی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔وہیں دوسری جانب سلوتری گاؤں کے یہ معذورمددکیلئے ترس رہے ہیں۔انتظامیہ کو اس جانب سنجیدہ نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ ان ستم رسیدہ لوگوںکو کسی حد تک راحت مل سکے۔