نیا اسلامی سال یعنی 1442 ہجری دستک دے چکا ہے ۔ ہم نے نئے سال میں قدم رکھ کے حیاتِ مستعار سے ایک سال کا قیمتی عرصہ کم کرلیا ہے۔ محرم الحرام اسلامی کلینڈر کا پہلا مہینہ ہے جس کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا کہ محرم الحرام حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے ، اس کا مقام بلند اور اسکی حرمت و عزت بہت زیادہ ہے۔ سالِ نو ہمیں اس حقیقت کی یاددلاتا ہے کہ یہ شب و روز ہمیں اس دنیا سے دور اور آخرت کے قریب لے رہے ہیں۔
ہر سال کے آغاز پر اور نئے سال کا سورج روشن ہونے پر انفرادی واجتماعی سطح پرہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہئے تا کہ ماضی کا جائزہ لے کر اپنے حال کی اصلاح کی جا سکے اور صحیح معنوںمیں مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کی جا سکے تاکہ اغراض و مقاصد پورے ہوں اور مفادات کا حصول ممکن ہو ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا ایک سال کو الوداع کہنا اور دوسرے سال کا استقبال کرنا ہمارے عزائم کو بیدار کرے گا ؟ صاحب توفیق وہ ہے جو اپنے حال کی اصلاح کیلئے کوشش کرے اور اپنی بقیہ زندگی کے دنوں میں کچھ کر گزرنے کی ٹھان لے تاکہ اس کا کل آج سے بہتر ہو اور اس کا آج گزشتہ کل سے افضل ہو اور اس کا نیا سال اس کے گزشتہ سال سے اچھا ہو۔
ملت اسلامیہ جو آج نئے سال کا استقبال کر رہی ہے ۔گزشتہ سال جو اپنے دامن میں بہت بڑے حادثات و واقعات لے کررخصت ہو گیا ہے اسے الوداع کہہ رہی ہے ،اسے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ ان چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور ان خطرات کا پامردی سے سامنا کرے جو اسے درپیش ہیں۔
عقلمند وہی ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اور اپنی گناہوں اور گزشتہ خطاؤں سے اپنے رب کی طرف توبہ کرلے۔مسلمان پر یہ واجب ہے کہ وہ صدق نیت اور پر امن مقاصد کو پوری دنیا کے سامنے ثابت کر دے۔ اپنے اہداف و مقاصد کی بلندی سے دنیا کو روشناس کرا دے اور پورے عالم پر اسلام کی روح کو واضح کر دے۔ وہ اسلام جو صحیح معنوں میں رحم و کرم کا درس دیتا ہے ، تمام باریکیوں کے ساتھ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے ، تمام تر شکلوں سے حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے اور ہر ممکن طریقہ سے دین و دنیا اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی فکر مہیا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو اس دنیا میں اسلئے مبعوث فرمایاتاکہ وہ انسانی سماج کی اصلاح و تربیت ، دلوں کی صفائی اور اخلاق وکردار کو سنواریں، ایسی تعلیم دیں جس سے اللہ کی پہچان کی جا سکے، ایسی پاکیزہ چیزیں اور حکیمانہ باتیں بتائیں جن سے ایمان کومضبوط کیاجا سکے۔لیکن آج کا مسلمان اگر آج اپنے آپ کا جائزہ لیتاہے اور اپنے باطن میں جھانکتا ہے تواْس پریہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا دل صاف نہیں ہے،اس کے دل پر گناہوں کا گرد وغبار جما ہوا ہے، وہ خواہشات نفس کا غلام ہوچکا ہے،وہ دنیا کا لالچی ہوگیاہے،اس کے حرکات و سکنات اورذہنی وقلبی میلان سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں،اْسے جب بھی ذرا فراخی ملتی ہے تو وہ غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اورجب ذرا سی تنگی اور آزمائش آجاتی ہے تو وہ مرجھا جا تا ہے اور ناامید ہوجاتاہے۔غرض کہ آج نہ نگاہوں میں شوخی ہے نہ دل میں درد۔نہ روح میں سوز ہے اور نہ گفتگو میں ساز۔ گویا زندگی توہے لیکن زندہ دلی نہیں،بلکہ آج کی اِس دنیا میں ’’کمائو ،کھائواور عیش کرو۔‘‘ زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔ کیا واقعی یہی حیات انسانی کے اعلیٰ مقاصد ہیں؟
نئے ہجری سال کے آغاز سے ہمارے ذہن میں ہجرت نبوی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ،جو ہجرت کفر سے اسلام کی طرف تھی ، جو ہجرت اسلام کی سربلندی اور اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے تھی۔ نئے اسلامی سال کی آمد پہ کفر سے اسلام کی ہجرت کی یاد تازہ ہونے کے ساتھ ہمیںانصاریوں کا اپنے مہاجر بھائیوں کی دل کھول کر مدد کرنا اور خود پہ انہیں ترجیح دینے کے طرزعمل کو نہیں بھول جانا چاہئے۔ آج اگر مسلمان اسلام کی سربلندی کے لئے اسی طرح قربانی دینے پر آمادہ ہوجائے اور اپنے مظلوم ومجبور بھائیوں کی امداد کرے تو دنیا کے کسی خطہ میں مسلمان کمزور نہیں رہیں گے۔دشمنوں کے دلوں میں جیسے پہلے ہمارا رعب ودبدبہ قائم تھا پھر سے قائم ہوجائے گامگر افسوس کہ مسلمان ہی مسلمان کو مٹانے،کمزور کرنے اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے پہ تلا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج ہم ہرجگہ پسپا اور سہمے ہوئے ہیں ۔
محرم الحرام یعنی سال کا پہلا مہینہ جہاں اس کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے وہیں فرمان رسولؐ سے اس کی عظمت مزید دوبالا ہوجاتی ہے۔ آپ ؐ فرماتے ہیں: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز یعنی تہجد ہے(صحیح مسلم )۔نئے سال کے استقبال پہ ہمیں وقت کی قدر کرنا بھی سیکھنا ہوگا،زمانے کی چکاچوند اور اس کی دل فریبی کا شکار ہوکر عیش وعشرت اور رنگ رلیوں کوہی زندگی نہیںسمجھ لینا ہے۔ پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد عربیؐؐ کا فرمان ہے : تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم مسافر ہو۔
آج جبکہ امت مسلمہ مختلف راستوں کے دوراہے پر کھڑی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس بات کا یقین کر لے کہ اس کی عزت و قوت اس کے اپنے دین کے ساتھ گہرے ربط میںپنہاں ہے۔ یہی کار آمد و فعال اسلحہ ہے جو امت سے تمام خطرات کو دور کر سکتا ہے اور یہی وہ زبردست آہنی لباس ہے جس کے ذریعے ان تباہ کن حملوں سے بچا جا سکتا ہے جو آج اس روئے زمین پر مختلف قوتوں کی طرف سے درپیش ہیں۔
نئے سال کی آمد پر کیا ہی بہتر ہوتاکہ ہم مسلکی تعصبات کو اجتماعی اور قومی مفادات پر قربان کردیں، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور مواسات کا رویہ اپنائیں اور اپنے اجتماعات کو دل آزاری کے بجائے زخموں پر مرحم رکھنے کیلئے استعمال کریں ۔
آئیے فضا تبدیل کریں، محبت والفت کو عام کریں، دکھی انسانیت کے ہمدرد بن جائیں اور انسانیت کی عظمت کو پروان چڑھانے والے نظام کو ایک مرتبہ پھر اپنالیں۔