وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف روحانی بزرگ، عارف باللہ اور تبلیغی جماعت ضلع کے امیر پیر شمس الدین شاہ طویل علالت کے بعد گذشتہ جمعةالمبارک کو’ مسجد المرشدین‘ میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ مرحوم و مغفور کسی تعارف کے محتاج نہیں بلکہ ملک بھر میں اُنکی خدمات کو یاد کیا جارہاہے۔ پیر شمس الدین شاہ نے اپنی پوری زندگی دعوتِ دین کے عظیم کام میں وقف رکھی اور قریباًپچاس سال سے ایک سرگرم داعی دین کی حیثیت سے دعوتی میدان میں کام کررہے تھے۔ اس دوران مرحوم نے پوری وادی کے ساتھ ساتھ بیرونی وادی کے کئ اسفار کئے اور دعوتی کام کو ایک مشن سمجھ کر دن رات وادی کے اطراف اکناف میں پیدل سفر کرتے رہے۔ مرحوم پیر صاحب نے مرکزی جامع مسجد سوگام میں تیس سال تک امام و خطیب فرایض انجام دئے۔ شاہ صاحب اوصاف ِحمیدہ سے متصف ایک صاحبِ کشف اور بالغُ النظر شخصیت تھے ، اپنی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دئے۔ مردِ درویش اور صاحبِ علم و فہم ہونے کے ناطے مرحوم کی عالمی منظر نامے پر بھی وسیع نظر تھی اور معاشرے کی تعمیر اور تطہیرکے معاملے میں کافی فکر مند تھے۔ انہوں نے وادی کشمیر کے مختلف مقامات پر دینی مدارس،مساجداور مکاتب کا قیام عمل میں لایا۔ سرینگر میں دارلعلوم قاسمیہ،کپوارہ میںدارلعلوم دودھوان، مسجد التوابین،مسجد النور دیدی کوٹ، شمس العلوم اور مسجدالمرشدین کا قیام عمل میں لاکر تعلیم و تربیت کے درجنوں مراکز کھول دئے تاکہ اُمت کو علم و عرفان کے نور سے منور کیا جاسکے۔ مرحوم کئ ماہ سے بسترِ علالت پر صاحب فراش تھے اور بالآخر12 نومبر 2021 بمطابق ٦ربی الثانی بروزِ جمعتہ المبارک اللہ کو پیارے ہوگئے۔آپ کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور پُر نم آنکھوں کےساتھ انہیں مسجد المرشدین کے احاطے میں پیوند ِ لحد کیا۔ اِنّا للِٰہ واِنّا اِلیہِ راجعون۔
پیر شمس الدین مرحوم کا تعلق وادی لولاب کے سونہ نار گاوں سے تھا ،آپ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے، والد صاحب کا نام پیر عبد اللہ شاہ تھا ،جو اپنے وقت کےدیندار شخص تھے۔مرحوم کے برادران بھی علم و تقویٰ سے آراستہ تھے، جن میں پیر عبد العزیز شاہ جو عالم با العمل اور زہد و تقویٰ سے مزین ایک سادہ مزاج ،با اثر علمی شخصیت تھے۔ مرحوم کے برادر اصغر غلام احمد شاہ جو پیشے سے ایک اُستاد تھے بھی پوری زندگی دعوتِ تبلیغ میں مصروف رہےاور فی الوقت لولاب وادی میں امارت کے منصب فائز تھے، لیکن چند ماہ قبل ایک حادثہ کا شکار ہوکر بستر علالت پر صاحبِ فراش ہیں۔پیر شمس الدین بچپن سےعابد انہ اوصاف سے مزین اور ایک منفرد وجاہت رکھتے تھے۔ ملنسار، خوش گفتار، باکردار اور باوقار شخصیت تھے۔ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ فارسی کی اہم کتابوں کا مطالعہ اپنے بردار مرحوم عبد العزیز شاہ صاحب کی وساطت سے کیا تھا جبکہ فارسی اشعار ہمیشہ ازبر زبان رہتے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ جب منشی اﷲ دتاؒ صاحب کشمیر تشریف لائے تھے تو شمس الدین صاحب اُن دنوں سوگام کی جامع مسجد میں امامت و خطابت کا فریضہ انجام دیتے تھے، اسی دوران جب حضرت منشی اﷲ دتا صاحب بارہمولہ سے سوگا م لولاب تشریف لائے تو پیرشمس صاحب کو اپنی نظرِ شفقت و عنایت سے نوازا ۔ اُن کی شرافت ، متانت ،سنجیدگی ،بردباری ،مستقل مزاجی ،سادگی اور دین داری کو دیکھ کر فرمایا کہ ’’مجھے میرا مطلوب مل گیا‘‘۔ پیر صاحب بھی اپنے مربی کو پہچان گئے اور حضرت منشی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرکےتاحیات اُن کے شریک سفر بنے۔ چنانچہ پیر شمس الدین صاحب کو اپنے علاقے میں ایک خاص خاندانی اثر موجود تھا، جس کے نتیجہ میںانہیں عوام میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور اسی مقبولیت کے بدولت جہاں انہیںنے دعوت و تبلیغ کے کام میں کافی مدد ملی ، وہیں منشی جیؒ کے منظورِ نظر بننے میں ممد و معاون ثابت ہوئی ۔ پیر شمس صاحب نے بڑی استقامت کے ساتھ اپنے آپ کو حضرت منشی جی ؒ کے ساتھ مربوط رکھا ،گویا یہ دونوں حضرات ایک جان دو قالب ہوگئے ۔ منشی جی نے دہلی واپس جانے سے قبل بارہمولہ میں اُس زمانہ کے تاشقند اڈہ کے اجتماع میں باضابطہ اعلان کیا کہ میں نے اپنے دو مریدوں یعنی پیر شمس الدین صاحب لولابی اور ولی محمد شاہ صاحب سوپوری کو خلافت دی ہے ۔لہٰذا میرے واپس جانے کے بعد اگر کوئی طالب ہمارے ساتھ تعلق جوڑنا چاہتا ہے تو وہ ان دو خلیفوں کی وساطت سے مجھ سے بیعت کرسکتا ہے،پورےمجمع میں ان دونوں کو کھڑا ان کی ناشاندہی کروائی گئی۔اس کے بعد بہت سارے لوگوں نےپیرصاحب کے ہاتھ پربیعت کی۔
پیر صاحب نے اپنی پوری زندگی دعوتِ دین میں وقف کی اور ساتھ ہی ساتھ وادی بھر میں دینی مدارس کا قیام عمل میں لایا۔انہوں نے ضلع کپواڑہ میں ایک بڑا دعوتی مرکز’’ مسجدالمر شدین ‘‘کے نام سے تعمیر کیاجس سےہزاروں لوگ مستفید ہورہے ہیں۔اپنی پیرانہ سالی کے دوران آپ صرف ملکی مشوروں میں ہی شرکت کرتے رہے اور کپواڑہ کے مرکز میں اکثر اوقات گذارتے اور دعوت و تبلیغ کے کام کی نگرانی فرماتے تھے، کچھ سال قبل اپنی دعوتی ذمہ داریاں اپنے فرزندِ ارجمند عبد الرشید پیر صاحب کو سونپ دیں۔
پیر شمس الدین شاہ صاحب وادی کشمیر کے معروف روحانی بزرگ مانے جاتے تھے ، اپنی حیاتِ مستعار میں دسیوں بار کعبتہ اللہ کی زیارت کی۔ مرحوم کے انتقال کی خبر سنتے ہی وادی کے اطراف و اکناف سے ہزاروں لوگ اُنکے نماز جنازہ میں شرکت کرنے کے لئے اُمڈ آئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پیر صاحب کے جنازے میں تیس ہزار سے زائد لوگ شریک ہوئے۔مرحوم کی نمازِ جنازہ امیر تبلیغ جموں و کشمیر محترم پرویز صاحب کی پیشوائی میں پڑھائی گئ اور پیر صاحب کے فرزندِ ارجمند الحاج پیر عبد الرشید صاحب کو خلیفہ اور جانشین مقرر کرکے اُنہیں دستار بندی کی گئی۔ مرحوم کے موت پر ملکی سطح پر علماء ،صلحاء اور سیاسی قایدین نے گہرے دُکھ کا اظہار کیااور اُن کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے اُنہیںخراجِ عقیدت پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم پیر شمس الدین شاہ صاحب کو جنت الفردوس عطا فرمائے اور اُنکی خدمات کو شرفِ قبولیت فرماکر انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین