کچھ دن پہلے میں اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ دودھ پتھری پکنک کے لئے گیا ہوا تھا۔ ہم رات بھر وہیں ٹھہرے، بہت مزہ آیا۔ رات گئے تک ادب، شاعری، سیاست اور سماجیات پہ باتیں ہوتی رہیں۔دوران گفتگو میرے ایک دوست نے ایک ایسی بات کہی جو اتنے دن گزرنے کے بعد بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات کسی نے پہلے بھی کہی ہو، لیکن میں نے پہلی بار اپنے دوست کی زبانی ہی سنی ۔
دوست نے کہا، ’سچ میں ایک ذرا سی ترمیم کرکے اُسے آپ جھوٹ بنا سکتے ہیں لیکن جھوٹ میں جتنی بھی ترامیم ہوں، اسے آپ سچ میں نہیں بدل سکتے۔ سو دنیا کی سب سے بڑی سچائی جو ہے وہ جھوٹ ہے۔‘
بہت ہی دلچسپ بات۔ بہت سارے لوگ اس سے اختلاف کریں گے، بہت سارے اس بیان کی دھجیاں اُڑائیں گے لیکن ذاتی طور مجھے اس بیان میں ایک اچھی خاصی دلیل دکھائی دیتی ہے۔ سچ بولنے کے لئے ہمت چاہئے۔ کلیجہ چاہئے۔ کچھ سچ ایسے ہیں جو ہم صرف اپنی خوابگاہوں میں بول سکتے ہیں۔ کچھ سچ ایسے ہیں جو ہم صرف اپنے افراد خانہ کے ساتھ ہی بول سکتے ہیں۔ کچھ سچ ایسے ہیں جو ہم صرف اپنے ایک مخصوص دوستوں کے دائرے میں بول سکتے ہیں۔ اور کچھ سچ ایسے ہیں جو ہم صرف اپنے آپ سے بول سکتے ہیں۔
لیکن جھوٹ پر ایسی کوئی پابندی نہیں۔ جھوٹ آپ کہیں بھی کسی بھی جگہ بے دھڑک بول سکتے ہیں۔ اور اس بات سے کوئی انکاری نہیں ہوسکتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک فن ہے جسے بولنے کے لئے آپ کو اپنی چہار دیواری کی پناہ نہیں ڈھوندنا پڑتی۔ سیاسی اجتماع ہو، مذہبی اجتماع ہو، سماجی اجتماع ہو، آپ جھوٹ بے دھڑک بول سکتے ہیں صرف آپ کو جھوٹ بولنے کا فن آنا چاہئے۔ سچ بولنے کے لئے فن سیکھنے کی ضرورت نہیں۔یہ تو الہامی ہے۔ سارے پیغمبروں کو دیکھ لیجئے، جب اُن پر سچ کا نزول ہوا تو ان کو کتنی گھبراہٹ ہوئی، وہ وہی سچ لوگوں تک لے جانے میں پہلے پہل کتنا ہچکچائے۔
لیکن جھوٹ کو ان آزمائشوں سے نہیں گزرنا پڑتا، جھوٹ تو اپنے آپ بے دھڑک بول سکتے ہیں، کسی بھی ہچکچاہٹ کے بغیر۔ اور جان کی امان پا ئوں تو عرض کروں ہم میں سے اکثر لوگ، اکثر جھوٹ ہی بولتے رہتے ہیں۔ کسی نے آپ کے موبائیل پہ فون کیا۔ آپ نوہٹہ سے منی بس میں بیٹھ کے لال چوک آرہے ہیں۔ اور آپ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فون کرنے والے کو بتاتے ہیں آپ حیدر پورہ میں کسی میٹینگ میں بیٹھے ہیں۔ منی بس میں آپ کے ہمسفر غصہ نہیں ہوتے۔ اُن کے ہونٹون پہ یا تو ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے یہ پھر ایک ہمدردانہ مسکراہٹ، یہ سوچ کے کہ ’ہم بھی تو ایسے جھوٹ اکثر بولتے رہتے ہیں‘۔
اسی بات پر مجھے ایک واقع یاد آگیا۔ کئی برس قبل میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے ایک دوست تھے جو ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے بہت ہی قریب ہیں۔ اکثر جب میں اُن کا فون لگاتا تو وہ بہت ہی دھیمی آواز میں جواب دیتے، ’میں صاحب کے پاس بیٹھا ہوں، بعد میں فون کروں گا۔‘ اُس دن باتوں باتوں میں اُس کی بات بھی چھڑ گئی۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے مجھے کہا، ’ ذرا اُس کا نمبر تو ملا ئو۔‘ میں نے نمبر ملایا تو وہاں سے بہت ہی دھیمی آواز میں جواب ملا۔ ’میںصاحب کے پاس بیٹھا ہوں، بعد میں فون کروں گا۔‘ میں نے اُس سے بھی دھیمی آواز میں کہا، ’میں صاحب کے پاس بیٹھا ہوں، بات کرو۔‘ اور فون صاحب کو تھمادیا۔
ایک اور واقع یاد آگیا۔ میں رائیل اسپرنگ گالف کورس کے ریستوراں میں بیٹھے چائے پی رہا تھا۔ میرے ایک دوست تھے جو ایک اچھے منصب پر براجمان تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ باہر ٹہل رہے ہیں۔ میں نے اُن کے موبائیل پہ فون لگایا۔ ’کہاں ہو بھائی،‘ میں نے پوچھا اور در جواب اُنہوں نے کہا، ’ابھی فون رکھو، میں کسی میٹنگ میں مصروف ہوں۔‘ حق مغفرت کرے، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ میں نے کبھی اُن سے اس بات کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کبھی صاحب کے دوست سے۔
دراصل سچ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ سچ تو سچ ہے۔ لیکن جھوٹ بولنے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ ایسے لوگوں کی بہت ہی کم تعداد ہے جو کسی کو تکلیف دینے، آزار پہنچاننے، تنگ طلب کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کوrelevent رکھنے کے لئے بے ضرر جھوٹ بولتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی مصلحت کے تحت جھوٹ بولتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو فقط ایسے ہی جھوٹ بولتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو آپ Compulsive liars کہہ سکتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہیں بولیں گے تو وہ جی نہیں پائیں گے۔ ہمارے گھر میں ایک شخص لگ بھگ پچھلی تین دہائیوں سے کام کر رہا ہے۔ رشتہ اتنا گہراہے کہ میرے بچے اُسے ماموں کہہ کے بلاتے ہیں۔ وہ ایک Compulsive liar ہے۔ اس کو ہر روز ایک دو جھوٹ بولنے ہیں۔وہ گھر آئے گا اور کہے گا کہ اُس نے راستے میں ریچھ کو دیکھا۔ اب یہ بے ضرر جھوٹ ہے۔ میری غیر حاضری میں وہ میرے بارے ایسی باتیں کہے گا جو میں نے کہی ہی نہیں۔ باتیں اچھی ہوتی ہیں لیکن میں نے کہی نہیں ہوتی ہیں۔اب وہ بھی میری طرح بوڑھا ہورہا ہے لیکن اب بھی وہی کرہا ہے کیونکہ Old habits die hard۔ لیکن ایک طبقہ ہم میں ایسا ہے جو بھلے کتنا بھی جھوٹ بولتا ہو، لکھتا صرف سچ ہے۔ اور وہ ہے شاعر۔
لاکھ پردوں میں رہے
بھید یہ سب کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے۔
کتنے بھی ڈکٹیٹر آئیں، فیض احمد فیضؔ کی قبیل کے لوگ کہیں گے۔۔۔
جب تخت اُچھالیں جائیں گے، جب تاج گرائیں جائیں گے
اور کتنا بھی آر ایس ایس کا نفوذ بڑھ جائے، راحت اندوری کی قبیل کے لوگ لکھیں گے۔۔۔
تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے!
اور کشمیر وادی میں کتنی بھی گھٹن ہو، ہمارے نوجوان شاعر طا رق علی میر کی قبیل کے لوگ کہتے رہیں گے۔۔۔
بیٹھ کر دلی، اسلام آباد میں
لوگ کشمیر کشمیر کرتے رہے!
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘