جموں//شہر میں روشنیوں کے تہوار دیوالی کی تیا ریا ں عروج پر ہیں وہیں پیر کو دھنتیرس کے موقع پر مختلف بازاروںمیں لوگوںکی بھاری تعداد امڈ آئی جس نے جم کر خریداری کی ۔دھنتیرس کے دن زیور اور برتن خرید نانیک شگون مانا جاتا ہے ۔جموں کے مختلف بازاروں میں بالخصوص پٹاخے ،منیاری ،کپڑے اور مٹھائیوں کی دوکانوں پر گاہکوں کا بھاری رش ہے۔دیوالی کے سلسلہ جموں کے مندروں کو خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے اور مندروں میں پوجا پاٹھ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دیوالی ہندوؤں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے جوہندوستان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بڑے جوش خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ روشنیوں کا تہوار دیوالی جو دیپاولی کے نام سے بھی معروف ہے ۔ ہندوؤںکے عقائد کے مطابق جب بھگون شری رام چندر 14 سال کی جلاوطنی اورلنکا پر فتح پانے کے بعد ایودھیا میں واپس لوٹے توان کے خیر مقدم میں سارے شہر کو چراغوں سے روشن کیا گیا تھا اور جشن منایا گیا تھا۔ اسی جشن کو دیوالی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس لئے اس تہوارکو اندھرے پر روشی ،نادانی پر عقل اور برائی پر اچھائی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔یہ تہوار بکرمی سمیت کے کاتک ماہ منایا میں جاتا ہے ۔ دیوالی کا تہوار پانچ دن کا تہوار ہے جو دھنتیرس سے شروع ہوتا ہے ،اس دن لوگ سونے یا کسی بھی دھات کی خریداری کو نیک شگن مانتے ہیں ۔دیوالی کی آمد پر ہندو مذہب کے پیروکار گھروں مرمت ،تزئین وآرائش اور رنگ و روغن کرتے ہیں ۔مندروں کو بھی خوبصورتی کے ساتھ سجایا جاتا ہے اور خصوصی پوجا پاٹھ کا اہتمام کیا جا تا۔دیوالی کے دن ہندو مذہب کے پیرکار نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں ،دیے جلاتے ہیں ،یہ دیے گھروں کے اندر باہر اور گلیوں میں بھی رکھے جاتے ہیں ، دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی ماتا کی پوجا کی جاتی اور پاخے سر کئے جاتے ہیں ۔بعد میں اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کیا جا تا ہے ،مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں ،دوست احباب اور پڑوسیوں کو مدعوں کیا جاتا ہے ۔تحفے تحائف تقسیم کئے جاتے ہیں ۔ہندستان میں ہندو ہی نہیں بلکہ سکھ اور جین بھی دیوالی کا تہوار دوھوم دھام سے مناتے ہیں ۔جین پیروکا ر مہاتما مہاویر کے موکش (نجات) پانے کی خوشی میں چراغ جلا کر دیوالی مناتے ہیں اور سکھ اس دیوالی کو ’بندی چھور دیوس ‘کے طور پر مناتے ہیں ۔