سرینگر//کشمیر ٹریڈ الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دکانوں کے شٹرڈائون کافیصلہ واپس لیںاور سوال کیاہے کہ کیا دکانوں اور کاروباری اداروں کو بند کرنے سے کرونا وائرس کے پھیلائو پر قابو پایا جاسکتا ہے؟ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز احمد شہدار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر واقعی شٹر ڈائون سے کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکا جاسکتا تھا،تو آج وادی میں روزانہ2ہزارکی اوسط سے کرونا کیسز سامنے نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھی تاجروں کو لاک ڈائون کے نتیجے میں نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑااور چھوٹے دکانداروں کا ہاتھ تھامنے کیلئے حکومت یا انتظامیہ سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ وادی کے تاجر اب5اگست2019کے بعد گزشتہ2برسوں سے اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں،جس کے نتیجے میں یہاں کی معیشت اور کاروبار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ بیان کے مطابق کشمیر ٹریڈ الائنس نے پہلے ہی صوبائی کمشنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر سے پے درپے کئی میٹنگیں کیںاور انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کیا کہ تاجر ایک اور لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا یہ بندشیں نہیں ، بلکہ یہ ذہنوں کو الجھا نے والی اذیت ہے ۔انہوں نے کہا، ’’انتظامیہ کو اب نئی منصو بہ بندی کیساتھ آگے آنا چاہئے‘‘۔انہوں نے ایک بار واضح کیا کہ شٹر ڈائون سے کرونا پر قابو پایا نہیں جاسکتا بلکہ اس کیلئے ایس ائو پیز اور محکمہ صحت و ماہرین کی طرف سے جاری ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے۔انہوں نے سرکار کو مشورہ دیا کہ وہ شٹر ڈائون کا حکم نامہ واپس لیکر زمینی سطح پر کرونا وائرس کو روکنے کیلئے ضوابط کی عملداری کو یقینی بنائے اور اس کیلئے سرکاری مشینری اور عملے کو متحرک کیا جانا چاہے۔ کشمیر ٹریڈ الائنس نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کو صلاح دی کہ وہ شعبہ صحت کو مضبوط و مستحکم کریں تاکہ اس عالمی وبا میں گرفتار لوگوں کا بہتر سے بہتر علاج و معالجہ کیا جاسکے۔شہدار نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ وہ تجارتی بندشوں کا سر نو جائزہ لے اور فوری طور پر کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے کے احکامات جاری کریں۔
کووِڈ- 19سے بچائوکے رہنمااصولوں کی خلاف ورزی | سوپور میں58افرادسے10,800روپے جرمانہ وصول
غلام محمد
سوپور//سوپور پولیس نے میونسپل حکام اور سب ضلع انتظامیہ کے افسروں کے ہمراہ قصبے میں ناجائز منافع خوری اور کووِڈ- 19سے بچائو کے رہنمااصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جامع مہم شروع کی ۔ا س دوران بس اسٹینڈ سوپور،مرکزی بازار ڈنگی وچھ رفیع آباد،پتوکھاہ اورچھانہ کھن علاقوں کے بازاروں کامعائنہ کیا گیااور اس بات کویقینی بنایا گیا کہ لوگ کووِڈرہنمااصولوں کے پاسداری کرتے ہیں اور دکاندارمقررنرخوں پراشیائے ضروریہ فروخت کررہے ہیں۔اس دوران ماسک نہ پہننے والے58 ڈرائیوروں،دکانداروں،راہگیروں اور مسافروں سے 10800روپے کا جرمانہ وصول کیاگیا۔ایس ایس پی سوپور نے کہا کہ اس مہم کا مقصداشیائے ضروریہ کی بلاخلل سپلائی کو یقینی بنانے کے علاوہ لوگوں کو کورونا سے بچائو کے رہنمااصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈرہنمااصولوں پرعمل کریں اورباہر نکلتے وقت چہرے پر لازمی طور ماسک لگائے۔
بارہمولہ میں کوروناوائرس سے ایک اور فوت،اموات کی تعداد185
فیاض بخاری
بارہمولہ//شمالی ضلع بارہمولہ میں بدھ کو کورونا وائرس کاشکار ایک اور شہری فوت ہوگیا۔اس طرح سے ضلع میں ابھی تک کووِڈ- 19 کی وجہ سے 185 اموات ہوئی ہیں۔قصبہ بارہمولہ کے رنگوار علاقے سے تعلق رکھنے والاایک 70 سالہ شہری 14 اپریل کے روز کووِڈ سینٹر انڈور اسٹیڈیم میں داخل کیا گیا تھا جہاں آج صبح اس کی موت واقع ہوگئی۔اعداد و شمار کے مطابق اس طرح سے ضلع بارہمولہ میں ابھی تک 185 افراد اس وبائی بیماری سے فوت ہوئے ہیں جبکہ 10707 مثبت پائے گئے ہیں جن میں سے 1128 سرگرم ہیں جبکہ دیگر افراد صحت یاب ہو کر اسپتالوں سے رخصت کئے گئے ہیں۔
طبی ماہرین کامشورہ | کووِڈ- 19سے بچنے کیلئے قوت مدافعت کومضبوط بنایا جائے
سری نگر//طبی ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ عالمگیر وباء کورونا وائرس طویل عرصے تک موجودرہنے والا ہے اورآج نہیں توکل ہرشخص اس وائرس میں مبتلاء ہوجائے گا۔ماہرین نے کہاہے کہ اس مہلک وائرس جومختلف شکلوں میں وقوع پذیر ہورہاہے ،سے محفوظ رہنے کیلئے ہرانسان کواپنی قوت مدافعت کومضبوط بنانے پرتوجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔طبی ماہرین کے بقول ’’یہ وائرس زیادہ عرصے تک رہے گا ہم میں سے ہر ایک آج ، کل یا پرسوں کوروناوائرس کا شکار ہوگا‘‘۔ماہرین کاکہناہے کہ صرف ایک ہی چیز جو ہماری حفاظت کر سکتی ہے، وہ ہے ہمارا مدافعتی نظام یعنی قوت مدافعت اور ہمیں اپنے دفاعی یامدافعتی نظام کو فروغ دینے کیلئے روزانہ کے مینو میں تین چیزیں رکھنی چاہیں۔’’ایک دہی، دوسرا کھانے میں کھانے کے بعد میدہ لہسن کا ایک ٹکڑا سیدھے پانی کے ساتھ اور تیسرا ایک کپ ادرک کا قہوہ شہد یا بغیر شہدکے اور لیموں دن میں کسی بھی وقت۔تاہم طبی ماہرین نے ساتھ ہی کہاہے کہ کوئی بھی غذاء لینے سے قبل ڈاکٹروں کی رائے لینا ضروری ہے ،کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیماری یامرض میں مبتلاء افرادکیلئے مذکورہ غذائیات سودمند نہ ہوں ۔