اب تقریباً دو سال بیت چکے ہیں جب سے کشمیر میں تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ اب سماج میں بھی یہ بات رس بس چکی ہےکہ اب تعلیم کا کوئی بھی فائدہ نہیںہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰ کو ہٹا کر،وادی کشمیر میں مہینوں کے لیے تعلیمی ادارے بند رہے۔ اس کے بعد ۲۰۲۰ کی شروعات ایک نئی وبا نمودار ہوئی، جس نے پوری دنیا کے اداروں کے کے ساتھ تعلیمی اداروں کو بھی بند کروانے پر مجبور کروایا۔ ۲۰۲۱ء سے لے کر آج تک ان دو سالوں میں جتنا نقصان تعلیمی نظام کو پہنچا ہے اتنا نقصان کسی نظام کو نہیں پہنچا ہے تو ایسے میں ہمارا رول کیا اور کیسا ہونا چاہیے؟ اپنی آنکھوں کے سامنے اس نظام کو برباد دیکھتے ہوئےہمیں زیادہ تو نہیںتھوڑا احساس ضرور ہونا چاہیے۔امیر بچوں کے لیے تو پڑھنا کوئی مسئلہ نہیںہے مگر غریب بچوں کے لیے یہاں پڑھنا بہت ہی زیادہ مشکل ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی کے اس دور میں ایک غریب کہاںگھر بنائے ، بچوں کو پڑھا ئےاورپھر ان کی شادی کرے۔تو ایسے میں ہمیں کیا کرناچاہئے۔ بحیثیت مسلمان اور خاص طور پر بطورِ انسانیت، تعلیمی اداروں کو کھولنے میں ، علم کو عام اور قابل عمل بنانے کے لیے، ہم کیا کرسکتے ہیں، آگے آنے والے سطروں میں اس کی بات ہوگی۔
پہلے ہم علم کی فضیلت اور افادیت کی بات کرتے ہیں۔ ہر مذہب میں علم کی فضیلت اور افادیت پر زور دیا گیا ہے۔ عالم کی فضیلت جاہل پر بہت ہی زیادہ ہے۔ظاہر ہے کہ جاہل اور عالم ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔پیغمبر وراثت میں دولت نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ علم چھوڑتے ہیں ،جس سے علم کی فضیلت اور افادیت کا پتہ چلتا ہے۔تو ایسے میں ہم دوسرے فروعی مسائل کو چھوڑ کر، تعلیم جیسی بنیادی چیز کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔مذہبی مقامات ، اپنے گھروں ، کھیل کود کے میدانوں، شادی کی محفلوںاور دوسرے مجالس میں ہم علم کی عظمت کو بیان کر سکتے ہیں۔اس سے علم محدود اور مخصوص تعلیمی اداروں سے نکل کر ہر جگہ پانے والی ایک شٔے بن سکتی ہے۔اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوگا کہ لوگ اپنی روزمرہ عبادات و عادات کی طرح علم کو عام کرنے کی اس عبادت میں مشغول رہیںگے اور اس عمل سےنہ صرف وہ خود اس نعمت سےفیض یاب ہوں گے بلکہ دوسروں کو بھی مستفید کریں گے۔
اب اگرہمارے معاشرے میںناسور کی طرح موجود بدعات اور رسم و رواج کی بات کریں گے جو کہ اب ہر صورت میں ہمارے لئے بربادی کا سامان بن چکے ہیں۔مگر اس کے برعکس تعلیم میں ان پیسوں کا استعمال، ترقی کا ضامن ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرنا تو مشکل ہے ہی مگر اس کو عملانہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ جو طاقت ان رسموں میں صرف ہوتی ہے،وہ تعلیمی اداروں کے چلانے اور کھولنے میں معاون ہوسکتی ہے۔ اگر ہم اس معاملے میں ہاتھوں ہاتھ کامیابی نہ حاصل کر سکتے ہیں مگر کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بے. اللہ تعالیٰ ہم سے کوشش چاہتا ہے، نتیجہ نہیں۔ نتیجہ تو اس کے ہاتھ میں ہے. یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ آج تک ہم نے رسموں کو پابندی سے عملایا، مگر نتیجہ کیا نکلا. کچھ بھی نہیں. دنیا کی ترقی میں بہت پیچھے رہ گئے۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرنے لئے ہیں کچھ ہے تو وہ ہے تعلیمی اداروں کا جلد از جلد کھولنا۔
تیسرا ہے وبا کی کم ہوتی ہوئی شدت۔ پچھلے مہینوں کی نسبت اب وبا آہستہ آہستہ تھمتی جاری ہے۔ تو ایسے میں ہم لوگ اپنی سطحی پر بھی اور سماجی سطح پر بھی ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکے کہ بچے جلد سے جلد اسکول، کالج یا یونیورسٹیاں جا سکے۔احتیاط کو لازمی بنا کر ہم ایسا کرسکتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں پہلا قدم ہی اٹھانا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ میں اس معاملے میں تیار ہوں۔ اپنی ذات سے اور پھر گھر والوں سے شروع کر کے، ہم چاہتے ہیں تعلیمی ادارے کام کرنا شروع کردے۔
چوتھا ہے موبائل فونس کی لت۔ آن لائن پڑھائی کی آڑ میں اب بہت پڑھائی کم، دوسرے کام زیادہ کرتے ہیں. آن لائن کھیل یا آف لائن کھیل، اب بچوں کا مشغلہ بن چکا ہے۔اپنے آپ سے دور، گھر والوں سے دور اور پھر سماج سے دوری کی وجہ سے تعلیمی اداروں کا کھولنا لازمی بن چکا ہے۔بہت ساری بیماریوں نے جنم لیا ہے۔ سب سے زیادہ ذہنی بیماریاں ہیں، جو ایک قوم کے لئے تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔جذبات سے عاری اس لاحاصل دنیا میں یہ بچے اب خود بھی مشینیں بن جا رہے ہیں۔
پانچواں اور آخری ہے ہمارا مستقبل ۔مستقبل کے لئے جینے کا مطلب ہوتا ہے حال میں جینا اور حال میں جینے کا مطلب ہوتا ہے کہ ماضی کو کھبی بھی بھلانا . اگر موجودہ صورتحال برقرار رہیں، تو میں وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ آنے والا کل تاریک ہوگا۔یہ تاریخ کا سبق ہے کہ کسی بھی قوم تباہ دیکھنا ہوں، تو اس قوم کے تعلیمی نظام کو ایک مخصوص مقصد کے لیے بنا دوں یا تو تعلیمی اداروں کو ہی بند کردوں اور بچوں کی حیوانی جبلات کو اجاگر کرتے رہوں، تاکہ وہ آخر میں انسان نما حیوان بنے. یہی انسان نما حیوان کل جا کر قوم کو جہالت کے اندھیرے میں دھکیل دے گے اور جہاں سے نکلنا ناممکن تو نہیں، مشکل ضرور ہے۔
تو وقت کی نزاکت کو دیکھ کر ہمیں چاہیے کہ تعلیمی ادارے بہت جلد کام کاج شروع کرے۔باقی ممالک میں کافی حدتک تعلیم کو حادثات سے دور رکھا جاتا ہے، مگر ہمارے یہاں تھوڑی سی ہلچل تعلیم کو اپنا نشان بناتی ہے۔ آئومل کر تعلیمی اداروں کو کھولنے کی کوشش کرے۔
حاجی باغ، زینہ کوٹ
7889346763