رات کافکر میں ڈھل کر طویل ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ انسان کے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہوجاتاہے۔ بعض اوقات ہوائی سفر بھی اتناطویل معلوم ہوتا ہے جیسے سمندر کا سفر ہواورمشرق اورمغرب کے درمیان کی پرواز نسبتاً زیادہ وقت طلب کرتی ہے۔ پھرطویل سفرکے لیے اگر نشست وسعت لئے ہو تو راحت محسو س ہو سکتی ہے۔ ہم بھی سفر میں تھے اورہماری نشست کچھ کشادہ بھی تھی، بلکہ رات بھر آرام کرنے کے لئے مزید پھیلائی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود ہم بے آرام تھے ۔ منزل چودہ گھنٹے سے زیادہ کا وقت لینے والی تھی اور جہاز پر ہم رات کو سوار ہوئے تھے۔ یہ کینیڈا جانے والی ، ائر انڈیا کی ، ـ’ اے آی، ایک ۔ آٹھ ۔ سات ‘ (AI-187)نمبر کی فلائٹ تھی۔اور ہرغیر ملکی پرواز کی طرح مختلف النسل مسافروں سے بھری تھی۔ کئی گھنٹوں بعد بھی صبح ہونے کی جگہ رات ہونا تھی کہ سورج روشنی بکھیرنے کے لیے ہمارے خطوں کی جانب نکل پڑا تھا اور سفر تھا کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا ۔ دوہرے بے رنگ پلاسٹک لگے دریچوں سے باہر گہری تاریکی تھی۔ کبھی کبھی چاند چمک جاتا اور بے شمار ستاروں بھرا آسمان نظر آجاتا۔ نیچے اندھیرے میں ڈوبا وسیع و عریض سمندر کسی جانب رواں تھااور گاہے گاہے، بہت دور کسی آبی جہازکی روشنیاں نظر آجاتیں۔
اندر اکثر لوگ سو رہے تھے۔ہمارا جہازممبئی سے پرواز کرتاآیا تھا اور اس میں دو سو اڑسٹھ مسافر تھے ۔ اندر بھی بتیا ں گل تھیں، سوائے ہلکی نیلی روشنی کے جو نیند کو مدعو کرنے میں معاون سی معلوم ہوتی ہے ۔ مگر ہم کو سفر میں نیند نہیں آتی ۔ ہم اپنی نشست سے جو کہ آگے کے حصے میں تھی ، اٹھ کر جہاز کے اندر کی طرف ذرا ٹہلنے نکلے۔ وہاں کرسیاںخاصی قریب قریب تھیں اور لمبے سفرکے حساب سے بے آرام معلوم ہوتی تھیں۔ لیکن وہاں بھی لوگ سو رہے تھے ۔ شاید طویل مسافت کے لیے خواب آور گولی کھالیتے ہو ں۔ ہم نے درمیانی راہ داری کا اخیر تک چکر لگایا۔ انسان سویا ہوا کتنا معصوم نظر آتا ہے ، دوسرے جانداروں کی طرح ۔ ہر جاندار کھا پی کرسکون سے کہیں پر ٹک جاتا ہے اور ایک حضرت انسان ہیں کہ رزق کمانے سے ذرا فرصت ملی تونفرت اور حسد،طاقت اور لالچ، بغض و عناد ، جنگ و جدل اور نئے نئے مسئلے کھڑے کرتا ہے۔ اور اس منفی انا کو دوسروں پر مسلّط بھی کر دیتا ہے ۔
کھڑکی سے لگی ایک نشست پر چھوٹا سا بچہ نیم دراز سو رہا تھا ۔ برابر میں اس کی ماں اپنے شانے سے اپنارخسارٹکائے سوئی تھی۔ ماں کے کرسی کے بازو پر پھیلی ہوئی باہنہ بچے کا سرہانہ تھی ۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے جوتوں کی نوک پر کوئی چیز ننھی ننھی بتیوںکی طرح چمک رہی تھی- دنیا کی واحد سچی محبت کا یہ لطیف منظر ہمارے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا۔ وہاں سے پلٹ کرہم واپس اپنی نشست پر آ بیٹھے۔دریچے کے شفاف روشن دان پر لگی پلاسٹک کی پر ت کواوپر کی جانب سرکایا اور باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگے، وہاں وہی گھپ اندھیرے میں ڈوبا آسمان تھااورنیچے سمندر کی بے کراں وسعت ۔ اس سفر میں یوں کہنا چاہیے کہ سمندروں کا ایک سلسلہ تھاجسے پار کرنا تھا ۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان کے سمندر،بحر ایجہ، یا دریائے اژہ، اور بحیرہ روم، یعنیBlack Seaکے بعدAegean Seaاور پھر Mediterranean۔ ان سمندروں سے گزر کر آپ کو یورپ اور کینیڈا کے درمیان آنے والے، Atlantic Oceanیعنی بحر اوقیانوس یا اقیانوسِ اطلس بھی ملتے ہیں۔
سمندروں اور پانیوں کے فرحت بخش تصور سے توجہ ہٹا کر ہم نے اطراف دیکھنا چاہا مگر ذہن تھا کہ فی الوقت اور کچھ سوچنا ہی نہیںچاہتا تھا۔ پانی کا تصور، پانی کی قربت، پانی کے نیلے ہرے اور مٹیالے رنگ بہت بھاتے ہیں انسان کو ۔ شاید اس لیے کہ انسانی جسم میںستّرفی صد کے قریب پانی پایا جاتا ہے ۔
بہرحال ہم نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی ۔دوسری طرف کی نشستوں کی پہلی قطار میں کنّڑ زبان کے گیان پیٹھ اعزاز یافتہ، چندر شیکھر کامبر، اُوپرسر کے قریب لگی بتی کو روشن کیے کچھ پڑھ رہے تھے ۔ ان کے برابر کی نشست پر بنگلہ زبان کی ایک شاعرہ شبو نتی سو رہی تھی۔انڈیا سے جانے والے اس وفد میںگجراتی زبان کے پربودھ پاریکھ تھے، ہندی کی وشوناتھپرساد تیواری اور گووند مشر تھے۔ملیالم کے فکشن رائٹر سیتھو مہادیون تھے۔شیلانگ سے Robin S Ngangom تھے جو انگریزی میں لکھتے تھے۔ ان کے علاوہ سرسوتی سمان اعزاز یافتہ پنجابی زبان کے شاعر سرجیت پاتر، اور شین کاف نظام تھے ۔
ایک طویل مسافت کے بعد خدا خدا کر کے افق کے قریب روشنی سی جھلکتی ہوئی معلوم ہوئی۔افق ہزاروںفٹ کی اس اونچائی سے ، اور اپنی سرزمین سے ہزاروںمیل دور ہ کر بھی میلوں دور تھا کہ افق کو ہر طرح سے اس فانی انسان سے دور ہی رہنا تھا، خواہ کتنی ہی منزلیں طے کر لی گئی ہوں ۔
صبح کاذب رفتہ رفتہ سچ مچ کی صبح میں بدلتی نظر آئی تو محسوس ہوا گویا اب فضا میں گھنٹوں معلق رہنے کے بعد زمین سے رابطے کا وقت آیاچاہتا ہے۔ Cabin Crew ہرشا گوپی ناتھ نے کچھ اعلان کیا اورجہاز کے اندر زندگی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی اور جہاز رک گیا۔زمین پر اترنے میں سب سے پہلے اس اضافی مسافر کو اترنا تھا جس کا ٹکٹ، سوار ہوتے وقت موجودنہیں تھا – اسے لینے کے لئے حفاظت کا خصوصی عملہ جہاز میں داخل ہو رہا تھا جن میں ڈاکٹر اور نرسیں وغیرہ بھی تھیں۔جب ہم ’اے۔ آئی۔ ایک سو ستا سی‘ پر سوار ہوئے تھے تو مسافروں کی تعداد ،دوسو اڑسٹھ تھی۔ کچھ گھنٹوں کی اڑان کے بعد ایک ائرسٹیورڈ کی آواز میں اعلان سنائی دیا تھاجویوں تھا کہ مسافروں میں اگر کوئی ڈاکٹر ہو تو پائلٹ کے کیبن کے پاس آئے۔تیرہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد جب جہاز کینیڈا کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو ’اے ۔ آئی-ایک سو ستاسی‘ کے کپتان، کپیل کوہلی نے ٹورنٹو کے ایئر ٹریفک کنٹرولر(Air Traffic Controller) کو ریڈیائی پیغام دیا،'' ہم نے سفردو سو اڑسٹھ مسافروں کو لے کر شروع کیا تھا مگر اب منزل پر پہنچنے والوں کی تعداد دو سو انہتر ہو گئی ہے‘‘۔
''Congratulations and welcome to Canada.''
اے-ٹی-سی نے واپس پیغام بھیجا۔
نیا مسافر ایک ننھی سی جان تھی جو جہاز میں دو مسافروں کی مدد سے اس دنیا میں آئی تھی۔ایک ماہرِا مراضِ اطفال تھے اور دوسرے سرطان کے ماہر۔ حفاظت کا خصوصی عملہ اس منی سی گڑیا کے تحفظ کیلئے آیا تھا ۔ اس کے ولدین کلدیپ کور اور رنجوت سنگھ کا خیال تھاکہ بچے کا جنم کینیڈا کی سرزمین پر ہوگا مگر جب اس نے کرہ ارض کی فضا میں پہلی سانس لی تو وہ افغانستان سے ملتی ہوئی روس کی سرحد کے قریب کی ہوائی حدود تھیں۔ نوزائیدہ کی شہریت روسی طے پائی۔
ٹورنٹو کی سر زمین پر صبح کے سات بج رہے تھے ۔ہوٹل سے ناشتے کے بعد، دنOntorio میںنیاگرا فالز اور ٹورنٹو شہرکی سیر میں گزارنا تھا۔اونٹاریو کینیڈا کا وسط مشرقی صوبہ ہے جو امریکی سرحد سے ملحق ہے ۔ کینیڈا کی راجدھانی Ottawaہے۔وہاںلوک فن کے نمونوں اورکینیڈا کے آرٹ سے مزیّن نیشنل گیلری ہے۔وہیں پر وِکٹوریائی فنِ تعمیر کا اعلی نمونہ، پارلیمنٹ ہلز ہیں۔ اونٹاریو کی راجدھانی ٹورنٹو میں Tower C N ہے جس کے گول گول گھومتے ریستورانوں سے نادر مناظر نظر آتے ہیں اور تقریبا چار سو ایکڑ پر پھیلا، شاہ بلوط کی ایک نہایت نایاب قسم کا جنگل ہے جو ’ہائی پارک ‘ (High Park)کہلاتا ہے۔یہ مقام ٹورنٹو کے مغربی ڈاؤن ٹاؤن( (Downtown یعنی شہر کے کاروباری مرکزمیں واقع ہے ۔
ماہ اکتوبر یوں بھی ماہتابِ شب چہاردہ کے لیے مشہورہے ۔ہمارے خیال سے ایسے حسنِ خزاں رنگ کے دیدار کے لئے اس سے بہتر اورکوئی مہینہ یا موسم نہیں ہو سکتا کہ خصوصی طور پر یہ بات پہاڑی خطوں پر صادق آتی ہے۔
(سفر نامہ جاری ہے ،اس کی اگلی قسط انشاء اللہ کل یعنی جمعرات کو شائع کی جائے گی)
ای میل رابطہ۔[email protected]