پرویز احمد
سرینگر // وادی کشمیر میں مجموعی طور پر 8فیصد لوگ دل کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر صوبے میں ہر ایک ہزار افراد میں سے 12لوگ دل کے پیدائشی عارضے سے متاثر ہیں۔ دل میں سراخ کی موجودگی کا عارضہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ دل میں موجود سراخ ایک ایسا عارضہ ہے جو پیدائش سے ہی موجود ہوتا ہے ۔ ایسے افراد کواونچائی پر جانے میں سخت تکلیف ہوتی ہے جو سانس لینے میںمشکل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔یہ اصل میں ایک پیدائشی بیماری ہوتی ہے۔ دل میں قدرتی طور پر موجود چھوٹے سراخ خود ہی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن دل کے خانوں میں موجود بڑا سراخ جراحی کے مدد سے ہی بند یا ٹھیک کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کبھی بھی حرکت قلب بند ہونے کا سبب بنتا ہے۔ سکمز صورہ کے شعبہ امراض قلب کے اعداد و شمار کے مطابق 12لاکھ 5ہزار 142 افراد میں سے 1596 میں پیدائش سے ہی ’’دل کا سراخ ‘‘ پایا گیا ۔
ان میں 78فیصد کے دل کے دو خانوں میں قدرتی طور پر سراخ موجود تھا جو ابتدائی طور پر کوئی بھی مشکل پیدا نہیں کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ تعداد 53فیصد مردوں جبکہ47فیصد خواتین میں موجود تھے۔ ان میں سے 55فیصد میں پیدائش کے ایک ماہ کے اندر ہی اس کی تصدیق ہوتی ہے اور 38فیصد میں ایک سال کے اندر اس کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے علاوہ 7فیصد مریضوں میں یہ بیماری 5سال کے اندر اندر سامنے آتی ہے۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر مبشر احمد کہتے ہیں کہ اس بیماری کی شرح زیادہ ہے لیکن ایسا اس لئے بھی ہے کہ ہم سطح سمندر سے زیادہ بلندی پر رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماری قدرتی طور پر بچوں میں پیدائش کے وقت موجود ہوتی ہے اور بیشتر بچوں میں یہ بیماری ایک سال کے اندر اندر سامنے آتی ہے۔ ڈاکٹر مبشر نے بتایا ’’یہ بیماری متاثرہ بچوں میں اکثر نمونیا، سانس لینے میں تکلیف اور کھانا کھاتے وقت تکلیف ہونے سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ بیماری کم ہوتی ہے لیکن کچھ مریضوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ دل کا سراخ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر مبشر نے بتایا کہا کہ اس صورت میں اس کا واحد علاج جراحی ہوتی ہے اور جراحی سے مریض بالکل ٹھیک رہتا ہے۔