سرینگر// مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے وسائل کو لوگوں کی آسودہ حالی کیلئے استعمال نہیں کیا گیا ہے ۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر کے حالات سدھر گئے ہیں اور لوگوں کی خواہشات پوری ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں لیکن سابقہ حکومتوں نے اس کا استعمال ہی نہیں کیا ۔ نرملا سیتا رمن پیر کو جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچیں۔ اپنی آمد کے فوراً بعد، انہوں نے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے آیکار بھون اور رہائشی کمپلیکس ’’دی چنار‘‘ کا افتتاح کیا ہے ۔ 2005میں بربرشاہ میں تباہ ہونے کے بعد انکم ٹیکس دفتر کو 14 سال بعد مستقل جگہ ملی۔اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بجلی کے شعبہ سے متعلق کہا کہ اس شعبے میں موجود امکانات سے فائدہ ہی نہیں اُٹھایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پن بجلی کو بروئے کار لا کر بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا تھا لیکن سا بقہ حکومتوں نے ایسا نہیں کیا ۔دفعہ 370 کی منسوخی پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس قانون کو کالعدم قرار دینے کے بعد وادی کشمیر کے حالات سدھر گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اُٹھا رہی ہیں۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ سابقہ حکومتوں نے صرف جھوٹے دعوئے کئے لیکن ہم نے جو کہا وہ کرکے بھی دکھایا ہے ۔سیتا رمن نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران تشدد کی وجہ سے تقریباً 40,000 لوگ مارے گئے، اور ایک ایسی سرزمین جو بصورت دیگر بہت پرامن اور خوبصورت ہے، نے اتنے سال بہت "دل کو کچلنے والے اور المناک مرحلے" میں گزارے ہیں۔اب، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، حد بندی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ ڈی ڈی سی کے انتخابات سے ظاہر ہوا ہے کہ لوگ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے منتظر ہیں۔"لہٰذا، میں اس عمارت کو وقف کرنے کے تناظر میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ صرف ایک بہانہ ہے کہ میں یہ کر رہی ہوں، لیکن بڑا مسئلہ جموں و کشمیر کے ہر فرد تک پہنچنا ہے، انہیں ان کا حق دینا ہے جس سے انہیں پچھلے 70 سالوں سے محروم رکھا گیا ہے۔سیتا رمن نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کے دعوے تو طویل عرصے سے کئے جارہے تھے لیکن بنیادی طور پر وہ کبھی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا، "آپ کو یہاں اور وہاں کچھ ترقی نظر آتی ہے، لیکن جس رفتار سے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت تھی، زندگی گزارنے اور معیشت کی تعمیر کے لیے جو بنیادی چیزیں لازمی تھیں جیسے بجلی، ایسا نہیں ہورہا تھا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً 20,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، اور اگر اسے اپنی پوری صلاحیت کا ادراک ہو، تو یہ اپنی معیشت اور ترقی کے لیے حیرت انگیز کام کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صلاحیت کا کبھی بھی مکمل فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔وزیر نے کہا، "بجلی کی بنیادی فراہمی کے بغیر، اس جیسی خوبصورت ریاست کے لیے، اس جیسی تباہی والی ریاست کے لیے، ترقی ہمیشہ سے ہی کم سے کم رہی ،"سابقہ ریاست کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے اب یہ ضروری ہے کہ سہولیات اور ترقی کے معاملے میں وہ حاصل کرے جو ا سے دینے سے انکار کیا گیا ہے۔سیتا رمن نے کہا، "اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر لوگوں کے ایک چھوٹے سے طبقے کو ہر طرح کی سہولیات د جائیں لیکن عام شہریوں کو دینے سے انکار کیا جائے۔ انہوں نے کہا ’’عام لوگوں کی خواہشات ہیں، اور ہر شہری کو جگہ دی جانی چاہیے اور "آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد یہی دیا جا رہا ہے‘‘۔ اس موقعہ پرٹیکس ایڈمنسٹریٹرز اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے دوران، لیفٹیننٹ گورنر نے ملک کے ٹیکس دہندگان کو محکمہ انکم ٹیکس کا سب سے قیمتی اتحادی قرار دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مختلف تجارتی، صنعتی تنظیموں اور سیاحت کی صنعت سے وابستہ لوگوں سے ٹیکس محکمہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ جموں و کشمیر کی ترقی اور عام شہریوں کو بہتر سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے ٹیکس ادا کرنا،ہر شہری، ہر تاجر کا فرض ہے کہ وہ آگے آئے اور UT کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور جموں و کشمیر کی ترقی اور قوم کی تعمیر کے لیے آمدنی کا ذریعہ حاصل کرنا انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی واحد ذمہ داری نہیں ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر کے معاشی اور سماجی نظام میں تعمیری اصلاحات لائی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 16 ماہ میں ہم نے اصلاحات کے ثمرات کو معیشت کے ان اہم شعبوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو پہلے نظر انداز کیے گئے تھے، تاکہ وہ بھی قوم کی تعمیر میں اپنا گراں قدر کردار ادا کر سکیں۔