رام بن// جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پچھلے کئی روز سے وادی چناب کے دورے پر ہیں اور بدھ کے روز انہوں نے بٹوت اور رام بن میں پارٹی ورکروں کی بھاری تعداد سے خطاب کیا۔ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کرنے کے بعد وادی چناب کے علاقوں میں محبوبہ مفتی کا دورہ کسی ہائی پروفائل سیاسی لیڈر کا پہلا دورہ ہے اور اس سے منجمد سیاست پگھلنا شروع ہوئی ہے۔بٹوت اور رام بن میں بدھ کے روز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے مقامی لیڈروں اور عہدیداروں نے موجودہ سیاسی حالات اور عوامی مشکلات پر روشنی ڈالی اور بے روزگاری اور امن و امان سے متعلقہ معاملات پارٹی صدر کی نوٹس میں لائے۔ان تقاریب میں گوجر بکروال طبقے کے لوگوں کی ایک بڑی نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔ بٹوت اور رام بن میں ورکروں کے بھاری اجتماعات میں اپنے خطاب میں محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کو انکی پالیسیوں کیلئے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت گاندھی جی کے ملک کو گوڈسے کا ملک بنانا چاہتی ہے جس کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے انکے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 جموں وکشمیر کی آن بان اور شان ہے اور اس کی بحالی کے لئے ہم سب کا ایک ہونا لازمی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں کشمیر کی سالمیت اور تشخص کو پامال کیا ہے اور دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد نقشہ تبدیل کرنے کا بھارتیہ جنتا پارٹی کا دعویٰ مہنگائی ، بیروزگاری ، خون خرابے اور ظلم و زیادتی کی راہ پر گامزن ہے اور لوگوں کی مشکلات میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہوا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں کشمیر میں دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کا ہر طبقہ پریشان حال اور بے چین ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جموں کشمیر کے بگڑے حالات کو ٹھیک کرنے اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور سے ناکام ہوگئی ہے۔انہوں نے خطہ چناب کے آبی وسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی چناب کے پن بجلی پروجیکٹوں پورے ملک کو روشنی مل رہی ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے شہر و گام میں آباد لوگ بجلی کے بغیر اندھیروں میں رکھے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطہ چناب میں بے روزگاری بڑھتی جارہی اور لوگ طرح طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہیں اور افسروں کے دور میں عوام کی داد فریاد کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے دو پن بجلی پروجیکٹوں کو NHPC سے واپس دلانے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو موجودہ حالات کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بھاجپا قیادت یہ کہتی تھی کہ 370 کو ہٹانے کے بعد جموں و کشمیر میں تعمیر وترقی کے دور سے نقشہ ہی بدل جائیگا ، خون خرابہ بند ہوگا ، بے روزگاری دور ہوگی اور کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائیگا لیکن سب اس کے الٹ ہو رہا ہے اور زمینی حقائق ابتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارسٹ ایکٹ کے نام پر لوگوں کو پریشان اور ہراسان کیا جارہا ہے اور اگر جنگلات پر مستحق لوگوں کے حقوق ہیں تو پھر گوجر بکروال کنبوں کو کیوںکر اپنے اپنے علاقوں سے بے دخل اور بے گھر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس لاپرواہی اور طریقہ کار سے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے پورے ملک کو مذہبی سیاست میں رنگ دیا ہے جس کی وجہ سے سماج کا ہر طبقہ پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے کشمیری ہی نہیں بلکہ جموں کے لوگ بھی پریشان ہیں، چاہیے وہ دربار مو بند کرنے کا فیصلہ ہو یا پھر ریلائنس کے شاپنگ کمپلیکس کھولنے کا معاملہ ہو۔ انہوں نے ہندو، مسلم، سکھ اتحاد پر زور دیتے ہوئے عوام سے متحد ہو کر اپنے حقوق کیلئے جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔ اس موقع پرجنرل سیکریٹری امریک سنگھ کے علاوہ پارٹی سیکریٹری امتیاز احمد شان، سابق ایم ایل سی اور سینئر پارٹی لیڈر فردوس احمد ٹاک ،سابق ممبر اسمبلی وچی شوپیاں اعجاز احمد میر، پی ڈی پی ضلع صدر رام بن شہباز مرزا اور گوجر بکروال لیڈر چودھری طالب حسین بھی موجود تھے۔