جموں //سرینگر کا مشتاق احمد اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پُر امن حالات میں اجمیر شریف زیارت پر حاضری دینے گیا لیکن واپسی سے قبل ہی پلوامہ فدائین حملے کے بعدنہ صرف جموں بلکہ ملک بھر میں کشمیری طبقہ کیخلاف ایک زوردارمہم شروع ہوچکی تھی جس میں طبقہ کے طلباء سمیت دیگر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی املاک کی تباہی کی گئی ۔اجمیر سے واپسی پر مشتاق کو ہرپل یہ خوف لاحق رہا کہ اسے راستے میں کہیں نشانہ نہ بنایا جائے لیکن کسی طرح سے وہ محفوظ طریقے سے جموں پہنچنے میں کامیاب ہو ا اور اس نے بٹھنڈی پہنچ کر سکھ کی سانس لی ۔وہ گزشتہ 2روز سے مکہ مسجد بٹھنڈی میں رہ رہا ہے کیونکہ ایک تو جموں و کشمیر شاہراہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے بند ہے اور دوسرے جموں سے وادی و دیگر اضلاع کو جانے والی مسافروں گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی جانب سے منہ مانگا کرایہ وصول کیاجارہاہے ۔مشتاق اب اس بات کا انتظار کررہاہے کہ موسم صاف ہوجائے توشاہراہ کھل جانے پر وہ اپنے گھر کو روانہ ہوجائے ۔مکہ مسجد میں جمعہ کے روز بھی 1500سے 2000تک لوگ جمع تھے جن میں سے اکثریت کشمیریوں کی تھی ۔ انہی افراد میں سے ایک مختار احمد نے بتایاکہ اگرچہ انہیںیہاں کے لوگوںکی طرف سے ہر ممکن سہولت فراہم کی جارہی ہے لیکن وہ جلد سے جلد گھر جاناچاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شاہراہ کھل جانے کے بعد بھی ایک پریشانی یہ ہے کہ ڈرائیوروں کی طرف سے اضافی کرایہ وصول کیاجارہاہے اوراس پر کوئی روک نہیں لگائی جارہی۔ اسی دوران پولیس کا ایک سینئر افسر بٹھنڈی پہنچا جس سے بھی درماندہ مسافروںنے اضافی کرایہ کی شکایت کی جس پر مذکورہ افسر نے یہ یقین دلایاکہ وہ کرایہ مقرر کرکے یہیں پر ریٹ لسٹ چسپاں کریںگے اور اگر پھر بھی کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گاتواس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 15فروری کو جموں بند کال کے دوران بلوائیوں کی طرف سے گوجر نگر، پریم نگر، جوگی گیٹ، شہیدی چوک، وزارت روڈ ، بس اڈہ ،گمٹ ودیگر مقامات پر گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے اوراس کے اگلے دوروز میں جانی پور، مٹھی اور توپ شیر خان آباد میں دربار مو ملازمین اور ایک مخصوص طبقہ کے لوگوںکو نشانہ بنانے کے بعد خوفزدہ کشمیریوں اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بوریا بستر سمیٹ کر بٹھنڈی کارخ کیا جہاں سے وہ رات کو اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے ۔ بٹھنڈی میں مقامی لوگوں کی طرف سے ان درماندہ مسافروں کیلئے قیام و طعام اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیاگیا اوراسی طرح سے تالاب کھٹیکاں، گوجر نگر، سنجواں و دیگر علاقوں میں بھی ایسے انتظامات کابندوبست کیاگیا۔بٹھنڈی میں اس وقت بھی لنگر چل رہاہے جہاں درماندہ مسافر کھانا کھاتے ہیں۔انتظامیہ کمیٹی کے اراکین کے مطابق مکہ مسجد میں عارضی طور پر رہائش پذیر درماندہ مسافروں کیلئے ہر دن سات سے آٹھ کوئنٹل چاول پکائے جارہے ہیں اور ہر وقت 2سے 3ہزار افراد کو کھانا فراہم کیاجارہاہے۔ کمیٹی کے اراکین کے مطابق حالات خراب ہو نے کے دوران ماتا ویشنو دیوی جانے والے یاتریوں کو بھی کھانا کھلا یا گیا ہے ۔