سری نگر// جموں کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کے چیئرمین خالد جہانگیر نے اتوار کے روز کہا کہ مختلف محکموں میں درجہ چہارم اسامیوں کو پر کرنے کے لئے اوبجیکٹو ٹائپ امتحان کو صاف و شفاف اور احسن طریقے سے انجام دینے کے لئے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے تھے ،تاہم چیرمین موصوف نے انکشاف کیا کہ قابل اعتراض مواد استعمال کرنے کی پاداش میں نصف درجن امیدواروں کے 3 سال کیلئے ایس ایس آر بی کے امتحانات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس دوران چیرمین نے اس بات کا اعلان کیا کہ درجہ چہارم اسامیوں کے امتحانات کے نتائج ایک ماہ کے اندر منظر عام پر لائے جائیںگے۔کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایس ایس آر بی کے چیرمین خالدجہانگیر نے کہا 8 ہزار5 سو 70 کلاس فورتھ اسامیوں کو پر کرنے کے لئے 4 لاکھ 5 ہزار یو ٹی بھر کے امیدواروں نے شرکت کی جس کے لئے 380 امتحانی مراکز کو قائم کیا گیا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ امتحانات کو صاف و شفاف طریقے سے انجام دینے کیلئے کئی ایک اعلی افسران کو تعینات کیا گیا تھا جس دوران امتحانی عملہ نے قابل ستائش فرائض انجام دینے کے دوران 06 امیدواروں کو قابل اعتراض مواد جن میں کچھ الیکٹرانک چیزیں بھی شامل تھی ،کو اپنے پاس رکھنے کی پاداش میں 3 سال کیلئے معطل کیا گیا اور یہ فیصلہ لیا گیا کہ مذکورہ امیدوار ایس ایس آر بی کے کسی بھی امتحان میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درجہ چہارم اسامیوں کے لئے منعقدہ امتحان میں حصہ لینے کیلئے امتحانی عملہ نے 6 امیدواروں سے بلوٹوتھ ڈیوائس کے علاوہ الیکٹرانک سامان کو ضبط کیا ، جو انہوں نے چھپاکر اپنے ساتھ لایا تھا۔خالد جہانگیر نے مزید بتایا کہ چوتھے مرحلے کے تحت جو امیدوار کلاس فورتھ اسامیوں کے امتحانات کے لئے یکم مارچ 2021 کو شرکت کرنے والے ہیں، کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے ساتھ کوئی قابل اعتراض چیز امتحانی مرکز اپنے ساتھ نہ لائیںتاہم انہوں نے کہا کہ جن امیدواروں کو مرتکب پایا جائے گا جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ ان امیدواروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے گا۔چیرمین موصوف نے امیدواروں سے اپیل کی کہ وہ دھوکہ دہی کرنے والوں کے کسی دھوکے کا شکار نہ ہو جائے۔