جموں// دربار مو اور سیکریٹریٹ ملازمین کی ہڑتال جاری ہے اور منگل کو بھی کشمیری ملازمین ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئے۔ چار روز قبل حمعہ کو جموں میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد جموں میں سبھی دربار مو دفاتر اور سیکریڑیٹ بند پڑے ہیں۔قریب 12ہزار ملازمین، جو جموں شہر کے مختلف علاقوں میں سرکاری رہائش گاہوں میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں، نے گورنر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ تب تک ڈیوٹی پر نہیں آسکتے جب تک نہ انکے اہل خانہ کو سرینگر جانے کیلئے سیکورٹی فراہم کی جائے۔ سوموار کو ملازمین کیلئے ایس آر ٹی سی بسوں کا انتظام بھی کیا گا لیکن کوئی ملازم سیکریٹریٹ یا دیگر دربار مو دفاتر نہیں گئے۔اس دوران جموں شہر میں مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر کرفیو میں ڈھیل دی گئی جو کہ مجموعی طور پر پُر امن رہی۔ضلع مجسٹریٹ راکیش کمار نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ آج صبح 11:30سے بعد دوپہر 1:30بجے تک شہر کے نوآباد اور پیر مٹھا پولیس تھانوںکے تحت آنے والے علاقوں میں جب کہ شمالی شہر کے بس سٹینڈ، بخشی نگر، پکہ ڈنگا اور جانی پور پولیس تھانوں کے علاقہ جات میں 3بجے سے شام 5بجے تک کرفیو میں ڈھیل دی گئی تھی۔ شہر کے گاندھی نگر ، باغ باہو، ستواری، چھنی ہمت ، گنگیال اور تریکوٹہ نگر تھانوں میں بعد دوپہر 3:30سے شام 7:00بجے تک کرفیو میں ڈھیل رہی۔ پانچ روز قبل کرفیو لگنے کے بعدتشدد متاثرہ گوجر نگر اور جانی پور علاقوں میں آج پہلی دفعہ کرفیو میں ڈھیل دی گئی تھی۔ منگل کو بھی موبائل انٹر نیٹ خدمات بدستور معطل رہیں تاہم بی ایس این ایل براڈ بینڈ حسب معمول دستیاب ہیں۔ دریں اثنا ڈویژنل کمشنر جموں سنجیو ورما نے رابطہ قائم کرنے پر بتایا کہ بدھ کے روز بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
بیرونِ ریاست زیر تعلیم طلباء
حفاظت سے متعلق جائزہ لیا گیا
نیوز ڈیسک
جموں//گورنر کے صلاح کار وِجے کمار اور خورشید احمد گنائی نے ریاست سے باہر تعلیم حاصل کر رہے طلباء کی حفاظت یقینی بنانے سے متعلق معاملے کا جائزہ لیااور اُن کی حفاظت ہرسطح پر یقینی بنانے پر زور دیا ۔دونوں صلاح کار مختلف ریاستوں کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔اِن میں اُن ریاستوں کے ڈی جی پی اور مرکزی وزارتِ داخلہ بھی شامل ہے۔خورشید گنائی کو ریاست کے باہر تعلیم حاصل کر رہے طلباء اور ان کے والدین کے ٹیلی فون کال لگاتار موصول ہو رہے ہیں جن کے ساتھ صلاح کار موصوف نے 17فروری کو شہربین ریڈیو پروگرام کے ذریعے اپنا ٹیلی فون نمبر شیئر کیا تھا۔گورنر ستیہ پال ملک بھی ریاست سے باہر صورتحال پر نگرانی رکھے ہوئے ہیںاور انہوں نے دونوں صلاح کاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تعینات شدہ لیزان افسروں کے ذریعے ریاست سے باہر مختلف شہروں میں زیر تعلیم طلاب کے ساتھ رابطہ قائم رکھتے ہوئے اُن کی حفاظت یقینی بنائیں۔