جموں و کشمیر میں ادب کا شاندار محل تعمیر کرنے میں یہاں کے ادباء اور شعراء نےنمایاں رول نبھایا ہے۔ ایک طرف شاعری کے ذریعے اس کی زینت بڑھائی تو دوسری جانب نثر نگاری سے اس میں رنگ بھردئیے۔جن ادیبوں نے مختلف اصناف سے محل کی آسائش و زیبائش میں نمایاں کردار ادا کیا، ان میں ایک معروف نام رحیم رہبر کا بھی ہے۔
رحیم رہبر کا اصل نام عبد الرحیم ڈار ہے۔ 3 مارچ 1959 ء میں پیٹھ کانہامہ ماگام میں عبدل سبحان ڈار کے گھر تولد ہوئے۔ محمکہ تعلیم میں پُلاننگ آفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔لکھنے کی شروعات شاعری سے کی اور کشمیری زبان میں شعری مجموعہ " رسلی نغمہ " کے عنوان سے 1993 ء میں شائع کروایا ۔ ہاتھوں میں ایساتیز رو قلم ہے کہ تین زبانوں انگریزی ،اردو اور کشمیری میں اب تک اکسٹھ کتابوں کے مصنف ہوچکے ہیں۔پہلی کتاب 1979 ء " عبادات " کے عنوان سے منظر عا م پر لائی ۔ ادب کے علاوہ مذہب اور نفسیات سے دلچسپی رکھتے ہیں۔نفسیات پر " مشعل " نامی کتاب 1987ء میں چھپ چکی ہے۔ اب تک کشمیری زبان میں گیارہ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔رحیم رہبر کے افسانوں کے انگریزی، عربی، فارسی، ہندی اور پنجابی زبانوں میں ترجمہ ہوچُکے ہیں۔کشمیری زبان میں ان کا تنقیدی و تحقیقی کارنامہ " یمن لعلن مول کس زانے " نامی کتاب ہے۔"زان " کے عنوان سے کشمیری زبان کی قواعد بھی لکھ چکے ہیں۔رحیم رہبر نے بحیثیت ترتیب کار مرحوم پریم ناتھ کول مستانہ کے کلام "شے ون" کو تین جلدوں میں ترتیب دیا ہے۔ مرحوم شاعر محمد یوسف دلنواز کا کلام " زخمی جگر " کے عنوان سے شائع کر چکے ہیں۔کشمیری زبان میں ان کا پہلا ناول" وڈو" کے عنوان سے چھپا ہے۔ ٹی وی سریل نیلہ مئژ ،احساس ، امار بھی کافی مقبول ہیں۔ کئی ریڈیو ڈرامے بھی لکھ چکے ہیں۔رحیم رہبر نے بحیثیت مترجم بھی اپنی پہچان بنائی ہے۔گلزار کی تصنیف " دھواں " کا ترجمہ کشمیری زبان میں" دہ" کے عنوان سے کر چکے ہیں۔ڈاکٹر شبنم عشائی کی تصنیف " من بانی " کا ترجمہ " من باوتھ " کے عنوان سے بھی کر چکے ہیں۔
اردو میں رحیم رہبر کے اب تک پانچ ناول ہرا گھاو، افروٹ کی دیوی ، آخری کرتا بھی چاک ہوا،آنسوں اور مُسکراہٹ اور قوس قزاح شائع ہوچکے ہیں۔کشمیر خوبصورت بھی ہے اور جہنم بھی ،اس خاصاں خدا کی وادی کے لوگ کیسی کمپرسی اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں،جہالت و افلاس ، مظلومیت اور بربریت ،ابتر حالات اور واقعات کو اپنے محسوسات سمیت رحیم رہبر نے ان ناولوں میں بیان کیا ہے۔
رحیم رہبر کا افسانوی مجموعہ " حصار "2018 ء میں منظر عام پر آیا۔اگرچہ ان کے یہاں کثرت ہے لیکن معیار کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ان کے یہاں خالص علامتی اور ابہام سے پر افسانے بھی ہیں اور راست بیانیہ سے بھی کام لیا گیا ہے۔اسلوب منفرد اور واضح ہے جو ان کی شناخت بن گیا ہے۔روایتی اسلوب سے پرہیز برت کر راست بیانیہ اور علامتی اظہار کی آمیزش سے نیا پیرائے اظہار اپنا کر اپنے افسانوں میں سماجی ، اخلاقی ، نفسیاتی کے ساتھ ساتھ باطنی زندگی کی بھی عکاسی کی ہے۔ بعض کہانیاں مبہم ،مشکل اور پیچیدہ ہیں، جن کو قاری کشمیر کے سیاق و سباق کے بغیر نہیں سمجھ پاتا۔ان کی تخلیقات کو آسانی سے سمجھنے کے لیے کشمیر کے ماحول ، فضا اور حالات و واقعات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ان کے یہاں حقیقی اور سچی صورتحال بیان ہوئی ہے۔ کوئی ادیب جب آس پاس ظلم ہوتا دیکھا رہا ہوتا ہے تو اس کو وہ قلم سے روکنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔اس کوشش میں وہ استعماری قوتوں کے نشانے پر بھی رہتا ہے۔اس روک سے ہی مزاحمتی ادب وجود میں آتا ہے۔رحیم رہبر کشمیر کے مزاحتمی ادب کا اہم نام ہے۔
کشمیر میں جن ابتر حالات کارحیم رہبر نے بذاتِ خود مشاہدہ کیا،اُن حالات کا اظہار اپنے افسانوں میں کرکے وہ اپنے عہد کا آئینہ بن گئے ہیں۔ان کے یہاں لیلی مجنوں کے قصے نہیں بلکہ ابتر حالات اور زوال پذیر معاشرے کی داستان ہے۔ ان کے افسانوں میں حقیقت نگاری اور رومانیت کا سنگم ہے۔دھندلی اور خیالی دنیا کے بجائے مشاہدے ،گہرائی ، سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ حقیقی دنیا کی جھلکیاں ہیں۔یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ رحیم رہبر نے کھلی آنکھوں سے اپنے معاشرے کےبدترین حالات، تاریک راتیں، غمزدہ صبحیں، پُر نم آنکھیں، ادھ کھلی و گم نام قبریں، گولیوں کا شور ، دھماکوں کی گونج،لہو لہان سڑکیں دیکھی ہیں۔ان تمام حالات کو پر تاثیر انداز میں صحفہ قرطاس پر درج کرتے ہیں۔
رحیم رہبر قاری کو خوابوں کے حصار میں نہیں رکھتے بلکہ حقیقت کے آسمان میں اڑان بھرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ان کے افسانوں میں موضوعات عام فہم زبان میں بیان ہوئے ہیں۔افسانوں کے موضوعات مختلف اور منفرد ہیں اور ہر افسانے کا رنگ جدا ہے۔افسانوں میں رنگا رنگی کی بدولت انہوں نے زندگی کے ہر پہلو، ہر کروٹ ، اتار چڑھاؤ اور ہر خیال کو موضوع بنایا ہے۔انہوں نے محبت کے بارے میں بھی لکھا ہے اور اس تاثر کے بارے میں بھی جو محبت سے پڑتا ہے۔تخیلی اور رومان پرور زندگی میں جو رنگینیاں اور رعنائیاں ہیں ان کا بھی ذکر کیا ہے اور سامراجی قوتوں کے ظلم و جبر اور سخت گیری کو بھی موضوع بنایا ہے ۔
پروفیسر قدوس جاوید رحیم رہبر کی افسانہ نگاری کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ "فنی اعتبار سے رحیم رہبر اور ان کے معاصرین کے افسانوں میں کشمیر کے مخصوص ثقافتی،اساطیری اور مذہبی اقدار کے زیر سایہ رومانیت کی چاشنی اور ترقی پسندی کی حرارت تو ہے، ساتھ میں بیانیہ میں جدت پسندی کے باوجود مابعد جدید تصور ادب کے ساتھ مفاہمت ( affermation) کی جو پلکیں اور گھلاوٹیں ملتی ہیں ان کی بناء پر رحیم رہبر اور ان کے معاصرین افسانہ نگار کہیں مزاحمتی،کہیں طنزیہ اور کہیں احتجاجی لب و لہجے کے ساتھ کشمیر کے اردو افسانے کو ایک نئی شعریات کے روبرو کر رہے ہیں"۔
رحیم رہبر اپنے افسانوں میں کثرت سے انگریزی زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ استعمال شدہ انگریزی لفظ جملوں میں پیوند کاری نہیں لگتا بلکہ زبان میں روانی پیدا کرتا ہے۔ان کے افسانوں کو پڑھ کر یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ رحیم رہبر کسی حسینہ کی زلفوں کے اسیر ہیں۔ ان کے افسانوں میں کوئی نہ کوئی حسینہ ضرور وارد ہوتی ہے جسکا نقشہ وہ دلکش انداز میں کھینچتے ہیں۔
اپنے مختصر افسانوں میں "ہابیل" کے قصے کو بھی دہرایا ہے اور "نمردو "کے دعوؤں کو بھی، "افلاطون "کا فلسفہ بھی ہے اور ماں کی "ممتا" بھی،یہاں " کرسمس کارڈ " بھی ہے اور " عبرت " بھی، لکیر ،حصار ،اڑان ،ہائی وے اور گھاؤ بھی۔کہانی ایک رات کی بھی ہے اور درد کا دریا بھی۔کثرت کے باوجود ان کے یہاں یکسانیت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔
رحیم رہبر کی تخلیقات کشمیر کے اخبارات و رسائل کے علاوہ ملک کے معتبر رسائل و جرائد میں اہتمام سے شائع ہوتی ہیں۔آپ کو ادبی خدمات کے صلے میں مختلف اعزازات اور ایوارڈوں سے بھی نوازا گیا ہے جن میں صمد میر ایوارڈ،ہرموکھ ایوارڈ،عبدلاحد آزاد میموریل ایوارڈ،خلعت گلشن کلچرل فورم کشمیر ایوارڈ، آیکن ایوارڈ( ICon Award 2020 )، سئینیر فلیو شپ ایوارڈ( 2010) اور نیشنل ایوارڈ (2006) شامل ہیں۔
رابطہ:-8493981240